08:22 am
آخرت کا لمبا سفر؟

آخرت کا لمبا سفر؟

08:22 am

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں مشہور ہے کہ ایک مرتبہ آپ رات کو بیت المال میں بیٹھے ہوئے  خلافت کا کوئی کام انجام دے رہے تھے کہ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے اور فرمایا کہ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا کیا آپ کو کچھ خلافت کے کام سے متعلق گفتگو کرنی ہے یا اپنے کسی ذاتی و نجی مسئلہ میں؟ انھوں نے فرمایا مجھے اپنے ذاتی معاملہ میں گفتگو کرنی ہے ، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بس تو چلو کسی اور جگہ بات کریں گے ، کیونکہ بیت المال کی روشنی میں بیٹھ کر ذاتی گفتگو کرنی درست نہیں ہے ۔
 
حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ جو حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد اور تیسرے خلیفہ تھے اور جن کو آپؐ نے جنتی ہونے کی بشارت دی تھی، ان کا یہ حال تھا کہ جب کسی قبر کے پاس کھڑے ہوتے خوف آخرت سے اس قدر روتے کہ ان کی مبارک داڑھی تر ہوجاتی…کسی نے سوال کیا آپ دوزخ اور جنت کے تذکرہ سے نہیں روتے اور قبر کو دیکھ کر اس قدر روتے ہیں؟ اس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بِلاشبہ قبر آخرت کی پہلی منزل ہے ‘ اگر قبر کی مصیبت سے کسی نے نجات پالی تو اس کے بعد سب منزلیں آسان ہوجائیں گی اور اگر اس کی مصیبت سے نجات نہ پائی تو اس کے بعد کی منزلیں اس سے زیادہ سخت ہیں۔ (ترمذی)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یہ حالت تھی کہ جب نماز کا وقت آجاتا تو بدن پر کپکپی طاری ہوجاتی اور چہرہ زرد ہوجاتا تھا‘کسی نے پوچھا کیا بات ہے ؟ تو فرمایا: اس امانت کی ادائیگی کا وقت ہے جس کو اللہ جل شانہ نے آسمانوں، زمینوں اور پہاڑوں پر اُتارا تو وہ اس کے تحمل سے عاجز ہوگئے اور میں نے اس کا تحمل کرلیا، اب دیکھنا چاہئے پوری ادا کرتا ہوں یا نہیں؟
 حضرت بہلولؒ کی مختصر تعریف بھی سُن لیں،حضرت بہلول رحمتہ اللہ علیہ کوفہ میں پیدا ہوئے آپ کا اصل نام وہاب بن امر تھا، آپ حضرت امام جعفر صادق  ؒ کے شاگرد اور امام موسی کاظمؒ کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے ۔ خلیفہ ہارون الرشید نے جب امام موسی کاظمؒ کے ساتھیوں کو ایک ایک کر کے ختم کرنا شروع کیا تو آپ کچھ ساتھیوں کے ہمراہ امام موسی کاظمؒ سے ملے جو اس وقت زیر حراست تھے جب امام موسی کاظمؒ سے درپیش حالات کے حوالے سے مشورہ مانگا تو آپ نے صرف ایک حرف’’ ج‘‘لکھ کر دیا۔ اس حرف کی سب نے اپنے اپنے انداز سے تشریح کی اور اس پر عمل کیا۔’’ج ‘‘سے جلا وطن، جبل یعنی پہاڑ اور حضرت بہلولؒ دانا کے لیے ’’ج‘‘ سے جنون۔اگلے روز آپ نے اپنی عالیشان زندگی کو خیرآباد کہا اور فقیرانہ حلیے میں بغداد کی گلیوں میں پھرنا شروع کر دیا۔ جلد اہل بغداد نے آپ کو بہلول مجنون کے نام سے پکارنا شروع کر دیا اور اس طرح آپ ہارون الرشید کے عتاب سے محفوظ ہو گئے ۔ 
 بہلول مجذوب ہارون الرشید کے زمانے میں ایک مجذوب صفت بزرگ تھے، ہارون الرشید ان کی باتوں سے ظرافت کے مزے لیا کرتے تھے ، ایک مرتبہ بہلولؒ مجذوب ہارون الرشید کے پاس پہنچے، ہارون الرشید نے ایک چھڑی اٹھا کر دی، مزاحاً کہا کہ بہلولؒ یہ چھڑی تمہیں دے رہا ہوںجو شخص تمہیں اپنے سے زیادہ بے وقوف نظر آئے اسے دے دینا، بہلولؒ مجذوب نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ چھڑی لے کر رکھ لی اور واپس چلے آئے بات آئی گئی ہوگئی،شاید ہارون الرشید بھی بھول گئے ہونگے، عرصہ کے بعد ہارون الرشید کو سخت بیماری لاحق ہوگئی بچنے کی کوئی امید نہ تھی،اطباء نے جواب دے دیا ، بہلولؒ مجذوب عیادت کے لئے پہنچے اورسلام کے بعد پوچھاامیر المومنین کیا حال ہے؟ امیر المومنین نے کہا حال پوچھتے ہو بہلولؒ؟ بڑا لمبا سفر درپیش ہے‘ کہاں کا سفر؟بہلولؒ نے کہا، جواب دیاآخرت کا،بہلولؒ نے سادگی سے پوچھا اچھا واپسی کب ہوگی؟ جواب دیا بہلولؒ! تم بھی عجیب آدمی ہو،بھلا آخرت کے سفر سے بھی کوئی واپس ہوا ہے ،بہلول ؒنے تعجب سے کہا اچھا آپ واپس نہیںآئیں گے؟ تو آپ نے کتنے حفاظتی دستے آگے روانہ کئے اورساتھ ساتھ کون جائے گا؟ جواب دیاآخرت کے سفر میںکوئی ساتھ نہیں جایا کرتا،خالی ہاتھ جارہا ہوںبہلولؒ مجذوب بولا اچھا اتنا لمبا سفر کوئی معین ومددگار نہیں پھر تو لیجئے ہارون الرشید کی چھڑی بغل سے نکال کر کہا یہ امانت واپس ہے مجھے آپ کے سوا کوئی انسان اپنے سے زیادہ بے وقوف نہیں مل سکا،آپ جب کبھی چھوٹے سفر پر جاتے تھے ،تو ہفتوں پہلے اس کی تیاریاں ہوتی تھی،حفاظتی دستے آگے چلتے تھے،حشم وخدم کے ساتھ لشکر ہمرکاب ہوتے تھے … اتنے لمبے سفر میں جس میں واپسی بھی ناممکن ہے آپ نے تیاری نہیں کی، ہارون الرشید نے یہ سنا تو روپڑے اور کہاکہ بہلولؒ ہم تجھے دیوانہ سمجھا کرتے تھے مگرآج پتہ چلا کہ تمہارے جیسا کوئی فرزانہ نہیںہے۔
ہارون الرشید کہتے ہیں کہ مجھے بہلولؒ کے اس مکالمہ سے معلوم ہوا کہ میں تو آخرت کے سفر پر جارہاہوں اور میںنے اپنے سے پہلے کوئی عمل نہیں بھیجا کہ وہ میرے لیے راہ ہموار کرلیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو فکر آخرت لاحق کر دے(آمین)

تازہ ترین خبریں