08:23 am
آئی ایم ایف پیکیج بم

آئی ایم ایف پیکیج بم

08:23 am

اگرچہ حکومت نے اب تک باضابطہ پر آئی ایم ایف کے ساتھ کئے گئے معاہدے کی تفصیلات اسمبلی یا عوام کو نہیں بتلائیں مگر آہستہ آہستہ اس معاہدے کے بارے میں کافی ساری باتیں منظرعام پر آنی شروع ہوگئی ہیں۔ اس پیکیج پر دو سطحوں پر تبصرہ کیاجاسکتاہے۔ ایک تو مجموعی سطح  سے یعنی کہ مجموعی طور پر یہ پیکیج ہماری معیشت کے لئے کیا معنی یا اہمیت رکھتا ہے اور دوسری سطح ہے کہ معاہدے میں عائد کردہ شرائط کا انفرادی نتیجہ کیا ہوگا۔
 
میں پہلے اس پیکیج کی شرائط پر تھوری سی گفتگو کروں گا اور پھر ان کے مجموعی تاثر کے بارے میں بات ہوگی۔ اب ایک مختصر سے کالم میں تمام شرائط کا تو احاطہ نہیں کیا جاسکتا لہٰذا میں صرف اہم شرائط پر اکتفا کرونگا۔
پہلی شرط یہ ہے کہ حکومتی بجٹ کا بنیادی خسارہ 2.2فیصدسے گرا کر 0.6 فیصد تک لایا جائے گا۔ بنیادی خسارے کا مطلب ہے حکومتی بجٹ کے حساب سے حکومتی آمدنی اور  حکومتی اخراجات (علاوہ سود کے) کا فرق جسے آمدنی کی پرسنٹ ایج کے طور پر بتایا جاتا ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ ایم ایف اے حکومت سے چاہتا ہے کہ اپنی آمدن ٹیکسوں کے ذریعے بڑھانے اور اپنے اخراجات مراعات کے خاتمے کے ذریعے کم کرے اور بہت کم کرے۔ کہا  یہ جارہا ہے کہ 700ارب روپے کے مزید ٹیکسز لگائے جائیں گے اور 400ارب روپے کی مراعات ختم کی جائیں گی۔ ہماری حکومت وعدہ تو کرے گی اور ایسا ایک بجٹ بھی بنا دے گی مگر عملی طور پر اس پر عمل نہیں کر سکے گی۔ اگر اس شرط پر جزوی طور پر بھی عمل ہوتا ہے تو مہنگائی کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوگا۔ ہر چیز پر اضافی ٹیکس لگے گا۔ بجلی‘ گیس‘ پٹرول سب کچھ مہنگا ہوگا۔ دوسری طرف سے صنعتوں کو دی جانے والی مراعات اگر کم کی گئیں تو اس سے ان کے اخراجات بڑھیں گے اور عوام کو مہنگائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مجھ ناچیز کی رائے میں آئی ایم ایف کی یہ شرط قطعی طور پر غیر ضروری ہے۔ اس کا پاکستان کے حقیقی اقتصادی مسائل سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ ہمارا مسئلہ بجٹ کا خسارہ  نہیں ہے۔ ہمارا مسئلہ بین الاقوامی تجارت کا خسارہ ہے۔ ہمارے غیر ملکی قرضے اس لئے حاصل کئے جاتے ہیں کہ درآمدات کی ادائیگی کر سکیں جوکہ برآمدات سے بہت کم ہیں۔ اب بھلا بجٹ کا بنیادی خسارہ کم کرنے سے بین الاقوامی تجارتی خسارے پر کیا فرق پڑے گا؟
دوسری شرط یہ ہے کہ پاکستان کی حکومت روپے کی قیمت مستحکم کرنے کی کوئی کوشش نہ کرے اور اسے خود ہی گرنے دے۔ جس ملک کا تجارتی خسارہ سالانہ 20ارب روپے ڈالر ہو وہ کس طرح اپنی کرنسی کو بے مہار چھوڑ سکتا ہے۔ اس شرط کے تحت چند ماہ میں ڈالر 250روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ ہمارا ملک جو اب بھی امپورٹڈ اشیاء کے سحر میں گرفتار ہے اس کا کیا حشر ہوگا اگر ڈالر 250روپے کا ہوگیا۔ ہم نون لیگ پر الزام لگاتے ہیں کہ اس نے مصنوعی طورپر ڈالر کو قابو میں رکھا ہوا تھا۔ ارے بھئی یہ بہت ضروری تھا۔ اب تصور کیجئے کہ 250روپے کے ڈالر سے خریدا گیا تیل آپ کو کس بھائو پر پٹرول پمپ پر پہنچنا پڑے گا۔ یہ سراسر تباہی کا پیش خیمہ ہوگا۔
تیسری شرط یہ ہے کہ ملک بھر میں شرح سود بڑھا دی جائے۔ فی الحال تو صرف 2 فیصد اضافے کی بات ہو رہی ہے مگر چند ماہ کے اندر اندر ہی عام تجارتی بنک قرض پر شرح سود 15  سے 16فیصد تک جا پہنچے گی۔ اس سے مہنگائی مزید بڑھے گی۔ صنعتیں ویران ہو جائیں گی۔ بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ جب بے روزگاری بڑھتی ہے تو شہروں میں جرائم میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ کم از کم پی ٹی آئی کی حکومت تو اب تک یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے کہ وہ اسٹریٹ کرائمز کو قابو کر سکتی ہے۔
چوتھی شرط یہ لگائی گئی ہے کہ ہمارا سٹیٹ بنک جو درآمدکنندگان کو کرنسی پر فارورڈ کور کی سہولت دیتا ہے اس میں کمی کر دی جائے۔ اس فارورڈ کور کا حجم 7.8ارب ڈالر تھا اب کہا جارہا ہے کہ اسے 1.7ارب ڈالر تک لایا جائے۔ یعنی امپورٹڈ اشیاء مزید مہنگی ہوجائیں گی۔ یہ کور انتہائی ضروری صنعتی خام مال وغیرہ کیلئے مہیا کیا جاتا ہے۔ اس پر پابندی یا حد لگانا ہرگز بھی ملکی معیشت کے مفاد میں نہیں ہے۔
پانچویں شرط یہ ہے حکومت جو قرضہ سٹیٹ بنک آف پاکستان سے لیتی ہے اس پر بھی پابندی لگائی جائے۔ اس کی حد کو 6.8ارب ڈالر سے گھٹا کر 1.9ارب ڈالر تک لایا جائے۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت ترقیاتی منصوبے تو دور کی بات ہے ۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں دینے کے قابل بھی نہیں رہے گی۔ اس کا دوسرا اثر یہ ہوگا کہ ملک بھر میں شرح سود اور بڑھے گی۔
چھٹی شرط  یہ ہے کہ نیپرا اور اوگرا جیسے اداروں کو حکومت کے کنٹرول سے آزاد کر دیا جائے۔ جس کا سلیس اردو میں مطلب یہ ہے کہ  بجلی اور گیس کی قیمتوں کو اندھا دھند بڑھنے دیا جائے اب اس کا اثر ملکی صنعت پر کیا پڑے گا اس کا تصور ہی رونگٹے کھڑے کرنے کے لئے کافی ہے۔
ساتویں شرط یہ ہے کہ سیلز ٹیکس کا دائرہ کار بڑھایا جائے۔ ویسے تو یہ تجویز بہت اچھی ہے مگر ہمارے کرپٹ ادارے اس پر عمل کروا نہیں پائیں گے۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ سیلز ٹیکس عوام تو دیں گے مگر تاجر یہ ٹیکس حکومت کو جمع نہیں کرائے گا گویا گناہ بے لذت مہنگائی میں بڑا اضافہ اور حکومتی آمدنی میں صرف معمولی سا اضافہ۔
اب آتے ہیں پیکیج کے مجموعی اثر کی طرف! ہمارے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے ٹی وی پر آکر فرمایا ہے کہ ہمارے بیرونی قرضوں کا حجم 90ارب ڈالر ہے اور ہمارا سالانہ تجارتی خسارہ 20ارب ڈالر کے قریب ہے۔ اس صورتحال میں 6ارب ڈالر کا قرضہ تو اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر بھی نہیں ہے۔ اور یہ قرضہ بھی 39مہینوں میں ملے گا۔ اوراس طرح قرضے کے دوران پاکستان معیشت کی نگرانی جاری رہے گی۔ اگر آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل کرنے میں کوتاہی پائی گئی تو تمام قسطیں روک دی جائیں گی۔ عام خیال یہی ہے کہ یہ پروگرام ایک سال کے اندر اندر دم توڑ دے گا یعنی اس کے تحت پاکستان کو محض ڈیڑھ یا دو ارب ڈالر ہی مل سکیں گے۔ ہمیں سوچنا چاہیے ہم یہ کیا کرنے جارہے ہیں۔ کیوں صرف 2ارب ڈالر کی خاطر اپنی معیشت تباہ کرنے پر تلے ہیں۔
ہم سے کہا جارہا ہے کہ اس پیکیج کی وجہ سے دنیا کو یہ مثبت تاثر جائے گا کہ ہم اقتصادی ڈسپلن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یہ سراسر خوش فہمی ہے۔ دنیا جانتی ہے اور سمجھتی ہے کہ ہم کس دبائوکے تحت یہ پیکیج قبول کر رہے ہیں۔
حکومت اس پیکیج کو فنانس بل سے نتھی کرکے اسمبلی سے منظور کروانا چاہتی ہے تاکہ اس پر کوئی سیر حاصل بحث نہ ہوسکے۔ یہ زخموں پر نمک چھڑکنے کے برابر ہے۔ ہمیں اس پیکیج پر اسمبلی میں ہی نہیں عوامی اور میڈیا کی سطح پر کھلی بحث کرنی چاہیے تاکہ تمام پاکستانی اس کے مضمرات سے آگاہ ہوسکیں۔

تازہ ترین خبریں