07:48 am
بھارت ہندوازم اور پاکستان سیکولرازم کی راہ پر

بھارت ہندوازم اور پاکستان سیکولرازم کی راہ پر

07:48 am

انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے پیر کو 11 اپریل سے شروع ہونے والے عام انتخابات کے لئے اپنے انتخابی منشور کا اعلان کر دیا جس میں انڈیا کے آئین میں جموں و کشمیر کے متنازعہ خطے جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت (آرٹیکل35اے) کا خاتمہ بھی ہے۔ منشور میں رام مندر کی تعمیر، یکساں سول قوانین، ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر، ون نیشن ون الیکشن، قومی سلامتی، سرحدوں کی حفاظت، اقتصادی ترقی، دہشت گردی کے خاتمے اور کسانوں کی فلاح و بہبود سمیت عوام سے75وعدے کیے گئے ہیں۔
 
 انڈیا میں انتخابات اپریل کی 11 تاریخ سے شروع ہوکر مرحلہ وار 19 مئی کو اختتام پذیر ہوں گے۔نریندر مودی کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کی مسلسل وکالت کرتے رہے ہیں۔ انڈین آئین میں دی گئی خصوصی حیثیت  کی شق کے تحت غیر مقامی باشندوں پر جموں و کشمیر میں اراضی خریدنے پر پابندی ہے۔  بی جے پی کے منشور میں کہا گیا ہے کہ ہمارے خیال میں آئین کا آرٹیکل 35 اے ریاست کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔انڈیا کی واحد مسلم اکثریتی ریاست کشمیر میں سیاسی لیڈران نے متنبہ کیا ہے کہ اس قانوں میں کوئی بھی تبدیلی ریاست میں بڑے پیمانے پر بے چینی اور انتشار کا سبب بن سکتی ہے۔پاکستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد مودی نے نیشنل سیکیورٹی کو اپنی جماعت کی انتخابی مہم کا اہم حصہ بنا دیا ہے۔بی جے پی کے منشور میں دوسرا متنازعہ وعدہ الیکشن جیتنے کی صورت میں پورے ملک کے لئے ایک واحد دیوانی قانون کا نفاذ بھی ہے۔ موجودہ آئین کے تحت مختلف مذاہب کے ماننے والوں کا الگ دیوانی قانون ہے، خصوصاً خاندانی اور وراثت کے قوانین کے حوالے سے۔
بی جے پی کا انتخابی منشور منظر عام پر آچکا ہے۔اس منشور کے مطابق بھارت جسے دنیا میں سیکولر اسٹیٹ مانا جاتا تھا، اب ہندو ریاست میں تبدیل کرنے کا ایجنڈا نظر آتا ہے۔اب تک تو یہ کہا جاتا تھا کہ پاکستان مذہب کے نام پروجود میں آیا ہے جبکہ بھارت ایک سیکولر ریاست ہے۔وہاں کے مسلمان سیکولرزم کو غنیمت سمجھتے تھے لیکن اب صورت بدل گئی ہے۔ایک اعتبار سے الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔پاکستان اسلام کے نام پر بنا ۔ہم نے پاکستان میں اسلام کو قائم نہیں کیا۔اب جبکہ مودی کے ویژن کے مطابق بھارت ایک ہندو ریاست بنے گا تو وہاں کے مسلمان درجہ دوئم کے شہری شمار ہوں گے۔ستم در ستم یہ ہوا کہ اس حوالے سے آج بھی بھارت کو عالمی آشیرباد حاصل ہے۔
پاکستان کو ہمیں اپنے دین کے مطابق ایک اسلامی ریاست بنانا سیکولر قوتوں کو منظور نہیں تھا۔ہندوستان میں ہندو کو ایک مذہبی ریاست بناکر پیش کرنا اور اس کے مطابق چلنا ساری دنیا کے لئے قابل قبول ہے۔اسی ایجنڈے کا ایک مظہر یہ ہے کہ بابری مسجد کو رام مندر میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ساری کڑیاں جڑتی جارہی ہیں۔یہ اعلان دراصل بھارت میں دوسری مساجد کو بھی مندروں میں تبدیل کرنے کی طرف پہلا قدم ہے۔مسلمان اپنے دین سے دور سے دور تر ہورہا ہے اور ہندووں میں اپنے مذہب کی طرف رجحان میں شدت کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کا سلسلہ ایک طویل عرصے سے جاری ہے ۔اب بھارت کے دستور کی دفعہ 35-Aکو ختم کرکے دراصل وہاں کے مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بروئے کار لایا جارہا ہے۔ساری عالمی قوتیں اپنی آنکھوں کو بند کرکے نہ صرف یہ کہ اس صورتحال کو قبول کررہی ہیں بلکہ بھار ت کے ساتھ بھرپور تعاون کررہی ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے پاسداران انقلاب تنظیم کو عالمی سطح پر دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔یہ عالمی قوتوں کے دوہرے معیا ر کا واضح ثبوت ہے۔ہمیں اس کی شدید مذمت کرنی چاہئے۔اسرائیل کو مذہبی ریاست قرار دینے کی ترغیب دی جارہی ہے ۔امریکی صدر کا یہ اعلان ہماری عسکری قوتوں کے لئے ایک وارننگ کی حیثیت رکھتا ہے۔صاف نظر آرہا ہے کہ امریکہ اس خطے میں فوجی قوت بڑھاکر پاکستان اور چین کے خلاف کوئی فیصلہ کن قدم اٹھانا چاہتا ہے۔
گویا ہمارے گرد گھیرا بتدریج کم کیا جارہا ہے۔ہمارے پاس اللہ کا دامن تھامنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔علامہ اقبال نے کہا تھا ۔    
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو    
اترسکتے ہیں گردوں سے قطا ر اندر قطار اب بھی
ہم اللہ اور اس کے دین کے وفادار بن جائیں ،وہ ہماری مدد کے لئے فرشتوں کو بھیجے گا۔اللہ تعالی ہمیں اس انداز سے آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔


 

تازہ ترین خبریں