07:49 am
صدارتی نظام

صدارتی نظام

07:49 am

آج کل ایک بار پھر صدارتی نظام حکومت کے بارے میں باتیں شروع ہوگئی ہیں۔ ہر سکے کی طرح اس بحث کے بھی دو رخ ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پارلیمانی نظام ہمارے ملک کے لئے زیادہ موزوں ہے کیونکہ اس طرح اصل طاقت پارلیمنٹ کے پاس ہوتی ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ صدارتی نظام پاکستان میں فیل ہوچکا ہے۔ مجھے ان دونوں دلیلوں سے کچھ اختلاف ہے۔ اصل طاقت پارلیمنٹ کے پاس ہونا محض ایک خوشنما نعرہ ہے اور پھر پارلیمنٹ اگر تقسیم ہو یعنی اگر کسی حکومتی پارٹی کے پاس دونوں ایوانوں میں اچھی خاصی اکثریت نہ ہو تو حکومت تقریباً مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس صورتحال کی بہترین بلکہ افسوسناک ترین مثال پی ٹی آئی کی حکومت سے ہے جو چاہتے ہوئے بھی کوئی قانون سازی کرنے سے قاصر ہے۔ یہ بات بھی درست نہیں ہے کہ صدارتی نظام پاکستان میں ناکام ہوچکا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے اس ملک میں اگر کوئی تھوڑا بہت ترقیاتی کام ہوا ہے  وہ صدر ایوب کے دور میں ہی ہوا ہے آپ جنرل یحییٰ جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کے ادوار کو ’’صدارتی نظام‘‘ نہیں کہہ سکتے ۔ ان کی حکومتیں ڈکٹیٹر شپ کے معنی میں آتی ہیں صدارتی جمہوری نظام کی تعریف میں نہیں آتیں۔
 
کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں نظام سے فرق نہیں پڑتا۔ فرق تو بندوں سے پڑتا ہے۔ جب ہمارے تقریباً سب ہی سیاستدان  نااہل اور بے ایمان ہیں تو پھر کوئی بھی نظام ہو ملک کی حالت نہیں سدھر سکتی۔ تھیوری کی حد تک تو یہ بات ٹھیک لگتی ہے مگر یہاں ایک سوال ضرور اٹھتا ہے۔ اگر کوئی اچھا لیڈر اتفاق سے حکومت میں آجائے اور وہ قابل ہونے کے  ساتھ ساتھ ایماندار بھی ہو تو وہ ایک پارلیمنٹ کے ہوتے ہوئے اس ملک کیلئے کیا  بڑے کام کر سکے گا۔ پی ٹی آئی والے معذرت خواہانہ لہجے میں ہی سہی یہ شکایت ضرور کرتے ہیں کہ عمران خان تو بہت اچھا آدمی ہے مگر وہ ایک منقسم پارلیمنٹ کے ہاتھوں مجبور ہے۔
ماضی قریب کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے‘ کم از کم ایشیاء کی حد تو یہ بات بڑے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ یہاں صرف ان ہی ممالک نے اقتصادی ترقی کی ہے جن کی حکومت مضبوط تھی۔ اس کا تعلق نظام حکومت سے نہیں بلکہ طرز حکومت سے ہے۔ چین کی حکومت بے حد مضبوط ہے۔ وہاں کا سیاسی نظام کیا ہے اس کی تفصیلات کیا ہے اس کا علم بہت کم لوگوں کو ہے مگر نتائج سب کے سامنے ہیں۔ اسی طرح سنگاپور کی ترقی کا راز بھی اس کے حکمرانوں کی مضبوطی میں ہے۔ کہنے کو وہاں بھی جمہوریت ہے مگر ان کی جمہوریت ان کی حکومت کی مضبوطی کو متاثر نہیں کرتی۔ ملائیشیاء میں بھی ترقی صرف مہاتیر محمد کی حکومت میں ہوئی جو آہنی ہاتھ سے حکومت کرتے تھے اور پارلیمنٹ کو اپنے کاموں میں مداخلت  نہیں کرتے دیتے تھے۔ مختصراً یہ کہ اقتصادی ترقی کیلئے ایک مضبوط حکومت اور ایک مضبوط حکمران بہت ضروری ہیں۔ نظام حکومت کچھ بھی ہو۔
آج عمران خان کے سر پر عدم اعتماد کی تلوار لٹک رہی ہے۔ اس تلوار کے سائے میں وہ مجبور ہیں کہ وہ مختلف لوٹوں کی ناز برداری کرتے رہیں۔ خاصا داغدار ماضی رکھنے والے سیاست دانوں کو بھی اپنی پارٹی میں شامل رکھیں اور ان کو ترقیاتی فنڈز جاری کرتے رہیں۔ اس صورتحال میں اگر ان کے پاس ایک اچھی ٹیم بھی ہوتی تو بھی اس کے ہاتھ بندھے ہی رہتے۔
اگر سچ بولا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں پارلیمانی  جمہوری نظام ذرا بھر بھی کامیاب نہیں رہا۔ اس نے ہر حکومت کو کرپشن پر مائل کیا ہے۔ اسمبلی ممبران کے مفادات کو عوامی مفادات پر ترجیح دینے پر مجبور کیا ہے۔ پارلیمانی نظام کی غالباً سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ  سارے وزراء اسمبلی سے لئے جاتے ہیں چاہے ان میں صلاحیت ہو یا نہ ہو۔ موجودہ اسمبلی اور موجودہ کابینہ کو ہی دیکھ لیجئے۔ میرا نکتہ واضح ہو جائے گا۔ اس کے برعکس امریکہ میں صدارتی نظام ہے اور وہاں کوئی وزیر کانگریس  یا سینٹ کا رکن نہیں ہوسکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے امریکی صدر کو یہ موقع  حاصل ہے کہ وہ امریکہ بھر سے بہترین اشخاص کوچن کر اپنی کابینہ میں شامل کرے پھر یہ کابینہ اپنی مہارت سے اچھے منصوبے  بنا سکتی ہے اور ان پر عمل بھی کر سکتی ہے۔
پاکستان میں صدر ایوب کے زمانے میں یہی قانون  تھا۔ کابینہ پارلیمنٹ سے نہیں آئی تھی۔ میری بات کا برا مانے بغیر ایوب خان کی کابینہ کا مقابلہ آج کل کی کابینائوں سے کرکے دیکھ لیں۔ آج عمران خان مجبور ہیں کہ بھانت بھانت کے جاہل سیاستدانوں کو وزیر بنائیں ورنہ وہ اپنی معمولی سی اکثریت بھی کھو بیٹھیں گے۔
ملک کی اقتصادی ترقی کی پیمائش کا ایک معتبر پیمانہ مجموعی قومی پیداو ار (یعنی جی ڈی پی) کی شرح نمو (یعنی گروتھ ریٹ) ہے۔ اب یہ ملاحظہ فرمائیے۔ ایوب خان کے صدارتی دور میں جی ڈی پی میں 7.75فیصد  سالانہ اضافہ ہوا‘ جنرل ضیاء الحق کے دور میں شرح نمو 80فیصد تھی اور جنرل مشرف کے وقت یہ سالانہ شرح نمو 7.25فیصد رہی۔ دوسری طرف بینظیر کے پہلے دور میں یہ شرح 5.7فیصد دوسرے دور میں 4.5فیصد اور آصف زرداری کے دور میں 2فیصد تھی۔ نواز شریف کے پہلے دور میں جی ڈی پی 4.7 فیصد  سے بڑھا اور ان کے دوسرے دور میں یہ شرح 4فیصد سے بھی کم رہی اور آج کل جو حال ہو رہا ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ اس کی سادہ سی وجہ یہی ہے کہ اقتصادی ترقی  صرف ایک مضبوط حکومت ہی لاسکتی ہے۔ جہاں فیصلے کرنے والا پارلیمنٹ کے آگے بے بس نہ ہو جہاں وہ منصوبہ سازی بھی کر سکے اور ان پر عمل بھی کر سکے جہاں وہ اپنی کابینہ پارلیمنٹ میں موجود نالائقوں سے لینے پر مجبور نہ ہو۔
جو لوگ صدارتی نظام کو ڈکٹیٹر شپ سمجھتے ہیں وہ غلطی کرتے ہیں۔ صدارتی نظام ایک جمہوری نظام ہے جس میں عوام ملک کا صدر منتخب کرتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ اس نظام میں صحیح بندے کا انتخاب ضروری ہے مگر یہ دلیل مناسب نہیں ہے کہ کیونکہ ہمارے ملک میں صحیح بندے ہی نہیں ہیں۔ لہٰذا پارلیمانی جمہوریت کے ناقص نظام کو ہی چلنے دیا جائے۔ ایسا کرنا پاکستان اور اس کے عوام کے ساتھ زیادتی ہوگی۔
اب ملک میں صدارتی نظام کیسے لایاجاسکتا ہے اس پر غور وفکر ضروری ہے۔ موجودہ پارلیمنٹ اور سینٹ تو یہ تبدیلی لانے کے حق میں نہیں ہیں۔ یہ فیصلہ پاکستانی عوام نے کرنا ہے کہ وہ کسی طرح پارلیمانی نظام سے جان چھڑائیں گے اور ملک کی ضرورت کے عین مطابق ایک بہتر سیاسی نظام لائیں گے۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ موجودہ اسمبلیوں کو تحلیل کرکے ایک عبوری حکومت بنائی جائے جو قومی سطح پر  آئین ساز اسمبلی کا انتخاب کرے۔ چھ ماہ میں یہ آئین ساز اسمبلی نیا دستور بنائے اور تحلیل ہو جائے۔ وہی عبوری حکومت نئے دستور کے تحت صدارتی انتخاب کروائے اور پھر دوسرے لوازمات بھی پورے کئے جائیں۔

 

تازہ ترین خبریں