07:56 am
انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی کے162ال

انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی کے162ال

07:56 am

10مئی کو برصغیر میں پہلی جنگ آزادی کے 162سال مکمل ہو رہے ہیں۔ 1857 ء کو اس دن  جنگ آزادی کا آغاز دہلی سے 40کلو میٹر میرٹھ سے ہوا۔ یہاں کے سپاہیوں نے برطانوی حکومت کے خلاف آزادی کا نعرہ لگایا۔ وہ10مئی کو میرٹھ سے روانہ ہوئے اور11مئی کو دہلی پہنچے۔ انہوں نے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر سے جنگ آزادی کی قیادت کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے یہ درخواست قبول کی اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف جنگ کی کمان سنبھال لی۔ بہادر شاہ ظفر نے 82سال کی عمر میں یہ جنگ شروع کی۔ انگریزوں نے ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلایا۔ اکتوبر1858میں انہیں قید کر کے دہلی سے رنگون(ینگون)بھیج دیا۔ جہاں 7نومبر1862ء کو 87سال کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا۔ جلاوطنی اور قید میں وفات کے بعد انہیں وہیں دیار غیر میں دفن کیا گیا۔ اس جنگ آزادی کی وجہ سے ایسٹ انڈیا کمپنی کی 246سالہ حکمرانی ختم ہوئی ۔ کمپنی 1612 کو یہاں داخل ہوئی تھی۔
 
کمپنی کے اقتدار ختم ہونے پر ہندوستان کی حکمرانی براہ راست ملکہ وکٹوریہ نے سنبھال لی۔ آج بھارت میں مجاہد آزادی بہادر شاہ ظفر کی باقیات ینگون سے واپس لانے کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ جنگ آزادی میں مسلمانوں کا کردار اہم تھا۔ انہیں جزائر انڈومان نیکوبار میں پہنچا کر سخت سزائیں دی گئیں۔بدنام زمانہ سزائے کالا پانی بھی کافی مشہور ہے۔ اس جنگ میں اردو اور فارسی پریس نے اہم کردار کیا۔ اس جنگ کی ابتدا کی وجہ بھی خاص تھی۔ انگریز فورسز نے ہندوستان میں فوجیوں کو نئے کارتوس دینا شروع کئے جن پر گائے اور سور کی چربی چڑھی تھی۔ انہیں منہ سے کھولنا پڑتا تھا۔ یہ ہندو اور مسلم کے مذہبی جذبات سے کھلواڑ سمجھا گیا۔ اسی لئے مسلم اور ہندو سپاہیوں نے بغاوت کی ٹھان لی۔ 
بہادر شاہ ظفر کو پورے ہندوستان کا بادشاہ تسلیم کرتے ہوئے ان کی قیادت میں جب تحریک نے زور پکڑا تو یہ پورے ہندوستان تک پھیل گئی۔ انگریزوں کے ساتھ جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ ابتدا میں کمپنی کی فورسز پر ہندوستانی سپاہیوں کا پلہ بھاری رہا۔ تا ہم انگریزوں نے مغل دور حکمرانی کی واپسی کا پروپیگنڈہ کر کے پنجابی سکھ کمیونٹی کو اس بغاوت سے الگ کر دیا، دیگر میں بھی تحفظات کے بیج بو دیئے۔ انہیں مغل حکمرانی سے خوفزدہ کیا گیا۔ اس طرح ہندومسلم کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کی گئی۔ یہاں سے ہی غالباً تقسیم کرو اور حکومت کرو کے محاورے نے نئے طرز میں جنم لیا۔ یہ پالیسی آج بھی دنیا میں مکار حکمران آزماتے ہیں۔
    اس دور میں لاہور میں مفتی نظام الدین نے انگریز فورسز کے خلاف فتویٰ جاری کر دیا اور عوام سے کہا کہ وہ انگریز کے خلاف رائو تلہ رام کی کمان میں متحد ہو جائیں اور ان کی مکمل مدد کی جائے۔ ایک مسلم عالم دین کی جانب سے ایک ہندو فوجہ کمانڈر کی حمایت میں فتویٰ نے انگریزوں کو حیران کر دیا کیونکہ ان کی پالیسی ناکام ہو چکی تھی۔ رائو تلہ رام کو شکست ہو گئی۔ اس کے بعد مفتی صاحب کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان کے بھائی مفتی یقین الدین اور برادر نسبتی عبد الرحمان کو بھی قید میں ڈال دیا گیا۔ انہیں دہلی لے جا کر پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ کمانڈر رائو نے روس سے اسلحہ کی مدد مانگی ۔ روس اس وقت کریمیا جنگ میں انگریزوں کے ساتھ بر سر پیکار تھا۔ بہر حال یہ جنگ انگریزوں نے جیت لی۔اس کی کئی وجوہات تھیں۔ 
بہادر شاہ ظفر عمر رسیدہ تھے، تا ہم ان کا احترام تھا مگر انگریزوں نے مغل دور کو تنازعہ بنا کر پیش کیا۔ جب کہ بہادر شاہ کے نامزد کردہ کمانڈر بھی نا تجربہ کار تھے۔ اسلحہ کی بھی کمی تھی،مگر سب سے بڑی وجہ یہاں کے عوام میں مذہب کے نام پر تقسیم کی گئی جو خطرناک ثابت ہوئی اور اس نے انگریز کو حاوی کر دیا۔ آج یہاں بھی مختلف ازم پائے جاتے ہیں۔ فرقہ پرستی، مسلک بازی، علاقائیت،  برادری ازم، وڈیرہ سسٹم ہے جو کہ اسلام اور ملک دشمنوں کا ہتھیار بن سکتا ہے ۔ اس سے پہلے کوئی ایسا لیڈر قائد ہو جو سب کو متحد کر دے تا کہ دشمن کی سازشیں ناکام ہو سکیں۔ ہمارے ہاں سیاستدانوں کی باہمی رسہ کشی صرف ایک مقصد کے لئے ہے۔ اقتدار۔ اسی کے لئے اداروں کو بھی استعمال کیا جاتا ہے جب کہ ادارے کسی سیاستدان  یا فرقے یا صوبے کے نہیں بلکہ سٹیٹ کے ہیں۔ ان کا ایک ہی نظریہ ہے ۔ سٹیٹ۔ سٹیٹ۔اور سٹیٹ۔
      بہادر شاہ ظفر دہلی سے گرفتار ہوئے۔ ان  کے بیٹے مرزا مغل، مرزا خضر سلطان، پوتے مرزا ابوبکرکو دہلی گیٹ کے نزدیک خونی دروازہ پر گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔ اودھ، دہلی  الہ آباد، کان پور ، لکھنو اور دیگر شہروں میں انگریزوں نے لاکھوں کی تعداد میں عوام کا قتل عام کیاجس طرح آج بھارت میںجگہ جگہ خاص طورپر مقبوضہ کشمیر میںہندو انتہا پسند حکمران اور ان کے ایجنٹ مسلمانوں کی نسل کشی کر رہے ہیں۔ اس کے بعد گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1858نافذ کیا گیا اور ایسٹ انڈیا کمپنی تحلیل کر دی گئی۔
 انگریزوں نے اپنے حامیوں اور یہاں کے غداروں کو بڑی بڑی جاگیریں بطوربخشیش الاٹ کیں، انہیں وکٹوریہ کراس، غدر میڈلزاور دیگر اعزازات دیئے گئے۔ آج ان میںسے اکثرجاگیردار اور وڈیرے لاکھوں کنال زمینوں کے ساتھ یہاں عوام پر حکمرانی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ جنگ آزادی اب تاریخ کا حصہ ہے جس طرح انگریز راج تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ بھارتی مظالم اور پاکستان میں جاگیرداری سسٹم بھی کبھی تاریخ کا حصہ ہو گا۔ آئندہ نسلیں کبھی اس بارے میں بھی تذکرہ کریں گی کہ کس طرح اس خطے میں مختلف تحریکیں چلیں اور ان میں کس نے کیا کردار ادا کیا۔


 

تازہ ترین خبریں