03:23 pm
خیال کتنے اہم اور بنیادی ہوتے ہیں؟

خیال کتنے اہم اور بنیادی ہوتے ہیں؟

03:23 pm

یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ ہماری زندگی اور کائنات کی سمجھ کی بنیادیں ہلانے کیلئے ہر لمحہ، ہر گھڑی ایک نیا بنیادی خیال اور نظریہ جنم لیتا ہے۔ یہ خیال کتنے اہم اور بنیادی ہوتے ہیں؟ چلئے آپ کو بتاتے ہیں۔ آپ جو کچھ دیکھ رہے ہیں یا سن رہے ہیں چاہے وہ آپ کے موبائل کی اسکرین ہو، وہ کرسی جس پر آپ بیٹھے ہوں یا وہ آوازیں جو آپ سن رہے ہوں،ان میں سے کسی چیز کا کوئی وجود نہیں۔ یہ تمام چیزیں اور آوازیں صرف اور صرف آپ کے دماغ کے متحرک عمل کا نتیجہ ہیں۔ تو اگر اس نظریہ کو سامنے رکھ کر موت کے بعد کی زندگی کے بارے میں سوچا جائے تو اسے سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔ ‘ہمارا شعور ہمیں بتاتا ہے کہ جو دنیا ہم محسوس کرتے اور دیکھتے ہیں وہ اصلی ہے۔
جبکہ ایسا نہیں ہے۔ جو دنیا ہم دیکھ رہے اور محسوس کررہے ہیں وہ صرف اور صرف ہمارے شعور کا خاکہ ہیں اور اصلی دنیا جیسا کچھ نہیں۔’اوپر جو نظریہ آپ نے پڑھا یہ ‘بائیو سینٹریزم’ تھیوری کا پہلا قاعدہ ہے۔ اس کے مطابق ‘جس کو ہم حقیقت سمجھتے ہیں وہ صرف اور صرف ہمارے دماغ اور شعور کی تخلیق ہے، اور اگر یہ اصلی ہے بھی تو اسے خلا میں موجود ہونا چاہئیے۔ لیکن یہ بے معنی ہے، کیونکہ خلا اور وقت قطعی حقیقی نہیں ہیں، بلکہ انسانی اور حیوانی دماغ انہیں اوزار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔بائیو سینٹرزم نامی یہ تھیوری (نظریہ) ڈاکٹر رابرٹ لانزا نے اپنی کتاب ‘بائیوسینٹریزم:زندگی اور شعور قدرت اور کائنات کو سمجھنے کی چابی’ میں لکھا ہے۔ ڈاکٹر لانزا کے مطابق خلا اور وقت وہ اوزار ہیں جنہیں ہمارا دماغ مربوط تجربے کا احساس دلانے کیلئے معلومات کو ایک ساتھ جوڑنے کیلئے استعمال کرتا ہے۔ ان کے مطابق جب ہم خواب دیکھتے ہیں تو ہمارا دماغ وہی الگورتھم استعمال کرتا ہے جو جاگتے وقت زمانی اور مکانی دنیا کو سمجھنے اور ان کا تھری ڈی ورژن بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ڈاکٹر لانزا کا کہنا ہے کہ موت سے ہمارے شعور کے بہاؤ اورجگہ و وقت کے درمیان رشتے میں وقفہ آجاتا ہے۔ بائیوسینٹریزم کا ماننا ہے کہ یہ ہماری کئی طرح کے طبعی امکانات تک رہنمائی کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب زیادہ تر طبیعات دان کوانٹم فزکس کے ایک سے زائد دنیاؤں اور کائناتوں کے نظریے کو مانتے ہیں۔ یعنی جو کچھ یہاں ممکن ہے وہ دوسری کائناتوں میں بھی ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے منظر نامے میں موت کا کوئی وجود نہیں۔ہمارا اپنا بھی کوئی وجود نہیں۔ اسی لئے یہ دنیائیں ایک ہی وقت میں موجود ہیں، اس سے قطع نظر کہ وہاں کیا ہورہا ہے۔ یہ صرف ہمارے دماغ کی انرجی ہے جو ہمیں محسوس کروا رہی ہے، لیکن انرجی کبھی مرتی نہیں اور نہ ہی اسے ختم کیا جا سکتا ہے۔ یہ انرجی کہیں اور کسی دوسری دنیا میں منتقل ہوجاتی ہے جو خلا میں کہیں بھی موجود ہوسکتی ہے۔ آسان لفظوں میں سمجھایا جائے تو موت کے بعد بھی ایک دنیا ہے۔