04:45 pm
شیخ چلی

شیخ چلی

04:45 pm

شیخ چلی نے ایک بنیے سے کچھ روپے ادھار لئے تھے مگر لوٹانے میں دیری پر دیری کر رہے تھے ۔ایک دن شیخ صاحب اپنے دوستوں میں بیٹھے تھے تو بنیا غصہ میں بھر کر پہنچ گیا اور بولا :’’میرے پیسے لوٹا تے ہو یا نہیں ؟‘‘شیخ صاحب نے اسے آرام سے بیٹھنے کو کہا اور بولے۔’’میرے ذمہ تمہارے کتنے روپے بنتے ہیں ؟‘‘بنیا بولا :پینتالیس روپے ۔شیخ صاحب نے کہا :پینتالیس یعنی پانچ اور چالیس ۔اچھا ان میں سے پندرہ تو میں ہفتہ بھر میں ادا کر ہی دو ں گا ۔دس روپے کا اناج تم میرے پاس سے لے جانا ۔پندرہ اور دس ،یہ ہوئے پچیس ۔باقی کتنے رہے ؟بنیے نے کہا بیس ۔شیخ صاحب بولے :پندرہ تو میں اگلے مہینے کی پہلی تاریخ کو ادا کردوں گا ۔بیس میں سے پندرہ گئے ،باقی کتنے رہے ؟
بنیے نے جواب دیا کہ ’’پانچ ‘‘۔شیخ صاحب نے جیب سے پانچ روپے نکالے اور بنیے کو دے کر کہا :یہ لو اپنے پانچ روپے ۔لیکن تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم نے اتنے سے پانچ روپیوں کیلئے مجھے اتنے لوگوں میں ذلیل کیا ۔اب میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو ۔تمہارا حساب کتاب ہو گیا ہے ۔روپے جیب میں ڈالو اور یہاں سے دفع ہوجاؤ۔لیکن یہ یاد رہے کہ اب مجھے عمر بھر منہ نہ دکھانا ۔میں تم جیسے بے ادب لوگوں سے کوئی واسطہ رکھنا نہیں چاہتا‘‘۔ہدفگرمی کے کسی دن میں اگر ایک ’میگ نیفائنگ گلاس‘ لے کر اسے ایک کاغذ پر تھوڑی دیر رکھے رکھو تو وہ اس جگہ کو جلا دیتا ہے۔ لیکن اگر اسی گلاس کو مسلسل ادھر سے ادھر کرتے رہو تو نہ تو میگنیفائنگ گلاس کا کوئی فائدہ ہوتا ہے اور نہ ہی دھوپ کا۔ دراصل کاغذ کو آگ تو صرف اس لیے لگتی ہے کہ وہ دھوپ کی ساری شعاؤں کو ایک پوائنٹ پر مرکوز کر دیتا ہے۔سب شعاؤں کو ایک جگہ یکسو کر دیتا ہے۔ وہی شعائیں جب بکھری ہوئی ہوتی ہیں تو کسی کام کی نہیں ہو سکتیں مگر جب وہ مل جاتی ہیں تو کاغذ کو جلا دیتی ہیں۔ ایک آدمی ایک انجان راستے پر سفر کر رہا تھا کہ اس کی نظر کسی بزرگ پر پڑی۔ اس آدمی نے جا کر بزرگ سے پوچھا کہ یہ راستہ کدھر کو جاتا ہے؟ وہ آگے سے بولا کہ تمہیں کدھر پہنچنا ہے؟اس آدمی نے جواب دیا کہ مجھے کچھ معلوم نہیں ہے۔بزرگ نے بولا کہ پھر تمہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ یہ راستہ کدھر جا رہا ہے۔ تم جاتے رہو کیونکہ تمہیں تو خود معلوم نہیں ہے کہ تم نے کدھر جانا ہے۔تم کوئی بھی راستہ چن لو تمہیں کیا فرق پڑے گا۔جب ہم اس بات سے انجان ہوں کہ جانا کدھر مقصود ہے تو پھر تو ہم کوئی بھی راستہ لے سکتے ہیں نا۔اگر فٹ بال کی ٹیم کے گیارہ کے گیارہ کھلاڑی بڑے عزم کے ساتھ کھیلنا اور جیتنا چاہتے ہوں اور بڑے جوش و جذبے سے میدان میں اتریں مگر میدان میں گول پوسٹ ہی نہ ہو تو کیا وہ کھیل سکتے ہیں۔ اچھا کھیلنا تو بہت دور کی بات ہے وہ تو سکور نہیں رکھ سکتے تو کھیلیں گے کیسے؟ہدف انسان کی زندگی کی ایک سمت متعین کرتے ہیں۔ہدف مقرر کرنا لازمی ہے کیونکہ جب تک ہمیں یہ معلوم نہ ہو کہ کیا چیز حاصل کرنی ہے تو کیسے پتہ لگے گا کہ کونسا راستہ درست ہے۔ انسان کی زندگی کا مقصد اسے صرف تب ہی حاصل ہو سکتا ہے جب وہ ہدف مقرر کرے اور ان کو پانے کی لگاتار کوشش میں مصروف رہے۔ ہدف کے حصول کے لیے یکسوئی کی بہت سخت ضرورت ہوتی ہے۔ جو کام انسان یکسوئی سے پانچ منٹ میں کر سکتا ہے وہ بغیر دھیان دیےوہ شاید کئی گھنٹوں میں بھی مکمل نہیں کر پائے گا۔اپنی منزل کاتعین کریں۔ کیا چاہیے، کیا چاہتے ہیں؟ کدھر پہنچنا مقصود ہے؟ پھر وقت مقرر کریں اور چھوٹے چھوٹے ہدف بنائیں کہ کس طرح اس مقصد کو پانا ہے۔ پھر اس کو پانے کی کامیابی کو یقینی بنائیں اور ہر ہدف کو پوری یکسوئی سے حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ چھوٹی چھوٹی روز کی کوششوں سے سال بعد آپ اپنا کوئی ایک مقصد حاصلکرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

تازہ ترین خبریں