10:51 am
’’120سے زائد پاکستانی افسروں کی غیر ملکی خواتین سے شادیاں‘‘

’’120سے زائد پاکستانی افسروں کی غیر ملکی خواتین سے شادیاں‘‘

10:51 am

کراچی(این این آئی)گریڈ 17 سے 21 تک کے آفیسرز نے امریکی، روسی، فلپائنی، تھائی، چینی، برطانوی اور بھارتی خواتین کو جیون ساتھی بنایا۔ 2 خواتین افسر بھی غیر ملکیوں سے شادی کرنے والوں میں شامل ہیں۔تفصیلات کے مطابق 120 سے زائد اعلی سرکاری افسروں نے غیر ملکی خواتین سے شادیاں کر رکھی ہیں۔ 2 خواتین افسر بھی غیر ملکیوں سے شادی کرنیوالوں میں شامل ہیں۔محکمہ زراعت میں گریڈ 19 کی سحرش شکیل نے ہالینڈ کے شہری جبکہ سی ڈی اے میں گریڈ 16 کی جمیلہ صادق نے نائجیریا کے وکٹر ہیریسن سے شادی کی۔
گریڈ 17 سے 21 تک آفیسرز نے روسی، فلپائنی، تھائی، چینی، برطانوی، انڈین اور وسط ایشیائی ممالک کی خواتین سے شادیاں کی ہیں۔دوہری شہریت کے حوالے سے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے مطابق اگر کسی سرکاری ملازم نے کسی غیر ملکی مرد یا خاتون سے شادی کرنی ہے تو پہلے متعلقہ صوبے یا وفاق جہاں کا وہ ملازم یا ملازمہ ہو، پیشگی اجازت لینا ضروری ہے۔ ورنہ وہ مس کنڈکٹ کے زمرے میں آئیں گے اور ان کے خلاف مجاز اتھارٹی سخت انضباطی کارروائی کر سکتی ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود متعلقہ حکام اس سلسلے میں کوئی کارروائی کرنے سے ابھی تک گریزاں ہیں۔گریڈ 17 کے بھوم سنگھ نے بھارتی خاتون روپ کنور سے، خزانہ ڈویژن کے لعل سنگھ سودھو نے اجیت راٹھور سے، سوئی سدرن گیس کمپنی کے عامر بیگ نے انڈین نازنین منشی، گریڈ 18 کے راشد انصار نے انعم عثمانی، گریڈ 17 کے ڈاکٹر سید محمود احمد نے شہلا ہاشمی، گریڈ 21 کے ظہیر اسلم جنجوعہ نے امریکہ کی کیرن لین مارکم، گریڈ 18 کے افسر غلام حسین نے اٹلی کی صائمونہ توظینی، آر پی او فیصل آباد غلام محمود ڈوگر نے فن لینڈ کی مرجم اے لہڈی آہو، ڈی پی او گجرات رومیل اکرم نے آئرلینڈ کی علینور واش، گریڈ 20 کے پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے چیف آپریٹنگ افسر اکبر ناصر خان نے برطانیہ کی وکٹوریہ لی سے شادی کی ہے۔ان کے علاوہ پی آئی اے کے وقار حسن نے امریکہ کی لینا، سوئی سدرن گیس کمپنی کے افسر عتیق الزمان نے برطانیہ کی کولیٹی، کامرس ڈویژن کے ڈاکٹر ظفر للہ نے برطانیہ کی باسترے، محکمہ زراعت میں گریڈ 19 کی سحرش شکیل نے ہالینڈ کے واٹر انڈریاس، سٹیبلیشمنٹ ڈویژن میں گریڈ 20 کے محمد مجتبی پراچہ نے ڈنمارک کی میٹی ہارٹمائیر سے، ایس این جی پی ایل میں گریڈ 21 کے اعجاز احمد چودھری نے کینیڈا کی ڈاکٹر کانائیٹڈ سٹیٹسر، پی آئی اے کے سید حیدر امام رضوی نے فلپائن کی ماریہ اگنیال رضوی، گریڈ 18 کے ڈاکٹر محمد حنیف بٹ نے فلپائن کی نکول بی سے، پی آئی اے کے سید سبطین حیدر نے فلپائن کی فضلت حیدر سے شادی کی۔گریڈ 18 میں کمیونیکیشن ڈویژن کے امجد علی نے فلپائن کی علینہ پی سنتیاگو، گریڈ 17 کے راشد ایوب نے فلپائن کی مانیا لونڈز، وزارت اطلاعات و نشریات کے سید امتیاز احمد نے فلپائن کی علینور بنال، وزارت بجلی وپانی کے سہیل ولی نے فلپائن کی ماریٹزگو آمباولی سے شادی کی۔ریلوے میں گریڈ 17 کے فیض اللہ خان نے فلپائن کی مریم خان، آفتاب ایزد نے روس کی علینہ ایزد، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ڈاکٹر محمد عابد ملک نے چائنہ کی لیوجی فینگم، وزارت داخلہ میں گریڈ 17 کے محمد سہیل نے روس کی آئرنا گوسیوا، قیصر اقبال نے کینیا کی فارین فرید الدن عبداللہ، وزارت خارجہ میں گریڈ 21 کے افسر طارق اقبال سومرو نے فلپائن کی ماریا لارڈز، گریڈ 20 کے مراد اشرف جنجوعہ نے ترکی کی ڈائی گو کٹ سے شادی کر رکھی ہے۔گریڈ 20 کے علی جاوید نے مراکو کی لیلی حسینی، گریڈ 20 کے سید اسد علی گیلانی نے جاپان کی توشیکو متسویاما، گریڈ 18 کے نواب علی نے چین کی چینگ میگھن، گریڈ 18 کے منیب احمد نے چین کی ووینکی، گریڈ 18 کے سعید الرحمان نے میکسیکو کی ارنزا گواڈاراما ہرنینس، خزانہ ڈویژن کے اسحاق احمد نے سلواکیہ کی ایوا انصاری، گریڈ 17 وسیم قیصر اعوان نے روس کی اولے اعوان سے بیاہ کر رکھا ہے۔وزارت قومی صحت سروس میں گریڈ 18 کے ڈاکٹر سجاد احمد خان نے روس کی آئرنا ایناتھولیونا، ریونیو ڈویژن میں گریڈ 20 کے عبد العزیز ناریجو نے تھائی لینڈ کی پرونیپا سری، گریڈ 17 کے عدنان شمس نے انڈونیشیا کی فطریہ، گریڈ 18 کے نفیس احمد خان نے فلپائن کی اڈیلائن ولا خان سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہیں۔الیکشن کمیشن آف پاکستان میں گریڈ 19 کے افسر عدنان بشیر نے کوسووو کی لیونارا دلوشی، گریڈ 17 کے ارشد خان نے روس کی کرسٹینا پٹروچنکووا، گریڈ 17 کے ڈاکٹر جواد توصیف نے قازقستان کی اورائن بائیوا نغل، گریڈ 18 کے ڈاکٹر محمد امجد نے یوکرین کی نتالیا، گریڈ 17 کے ڈاکٹر نغار احمد نے چین کی زیانگ جن، گریڈ 18 کے ڈاکٹر سرمد حسین نے روس کی لیوئڈ ملا راجہ، گریڈ 17 کے ڈاکٹر عمر حبیب نے قازقستان کی لائیبو اندر ییانووا، گریڈ 17 کے ڈاکٹر زاہد کریم نے کرغستان کی ایلویریا س شادی کی۔یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ پاکستان کے شہریت ایکٹ 1951 کے مطابق پاکستان نے دولت مشترکہ کے 19 ممالک کے ساتھ دہری شہریت رکھنے کی اجازت دے رکھی ہے اور ان ممالک کے شہریوں پر لازم نہیں کہ پاکستان کی شہریت لینے کے وقت وہ اپنے ملک کی شہریت ترک کریں۔دیگر ممالک کے تمام لوگوں پر لازم ہے کہ وہ پاکستانی شہریت لینے کے وقت اپنے آبائی ملک کی شہریت ترک کریں، تب ہی انہیں پاکستانی شہریت ملے گی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اس معاملے پر اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے، یہ جاننے کے لیے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹر اعجاز منیر اور وزیراعظم کے ترجمان افتخار درانی سے رابطہ کرنے کے باوجود بھی کوئی جواب موصول نہیں ہو سکا۔