06:25 am
تحریک انصاف آئندہ بجٹ میںکیا کر نے والی ہے ؟ اہم رپورٹ سامنے آگئی

تحریک انصاف آئندہ بجٹ میںکیا کر نے والی ہے ؟ اہم رپورٹ سامنے آگئی

06:25 am

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) حکومت نے موجودہ سال کے لیے مختص رقم میں تبدیلی کیے بغیر آئندہ مالی سال کے لیے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے حجم کا تخمینہ 675 ارب روپے جبکہ اقتصادی ترقی کی شرح کو 4.6 فیصد لگایا گیا ہے۔قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کے اجلاس میں پلاننگ کمیشن کی جانب سے یہ انکشاف کیا گیا کہ اقدامات کے سلسلوں میں حکومت کو ملک میں 'زرعی ایمرجنسی' نافذ کا اعلان کرنا ہے اور آنے والے بجٹ میں تعمیراتی سیکٹر پر توجہ کے ساتھ ساتھ آئندہ 5 برسوں میں ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے ہیں۔لہٰذا اسی تناظر میں آئندہ سال کے لیے زرعی پیداوار کا تخمینہ رواں سال کے 1.9 فیصد کے مقابلے میں 3.2 فیصد لگایا گیا ہے
جبکہ آئندہ 5 برسوں کے منصوبے میں 3.3 فیصد کی اوسطاً شرح کے ساتھ 2023 تک یہ شرح 4 فیصد تک چھونے کا امکان ہے۔اسی طرح صنعت کا رواں مالی سال کے 2.8 فیصد متوقع ترقی کے مقابلے میں آئندہ مالی سال کے لیے 4.3 فیصد ترقی کے تعین کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ آئندہ 5 برسوں میں 5.8 کی سالانہ اوسطاً ترقی کی شرح کے ساتھ 2023 تک صنعت کا 8.4 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔اس کے علاوہ مجموعی اقتصادی ترقی رواں سال 4 فیصد سے بڑھ کر آئندہ سال 4.6 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے جبکہ آئندہ برسوں میں 5.4 فیصد اوسط کے ساتھ 21-2020 میں یہ جی ڈی پی کے 5.5 فیصد، 22-2021 میں 6.3 فیصد اور 23-2022 میں کی 6.7 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔پلاننگ کمیشن کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان اہداف کو ابھی حتمی نہیں کہا جاسکتا اور انہیں عارضی طور پر لینا چاہیے، تاہم ان اہداف کے حصول کے لیے متعدد پالیسیز، منصوبے اور اقدامات کیے گئے ہیں۔اس موقع پر اجلاس کی صدارت کرنے والے جنید اکبر نے بریفنگ کے لیے شیڈول کے باجود وزیر ترقی و منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار کی غیر حاضری پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔کمیٹی اراکین کی جانب سے مختلف منصوبوں پر بھی سوالات اٹھائے گئے، ان کے مطابق ان منصوبوں کو زمینی حقائق کو جانے بغیر دفاتر میں تیار کیا گیا۔دوران اجلاس سیکریٹری منصوبہ بندی ظفر حسن نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت خزانہ نے آئندہ سال کے پی ایس ڈی پی کے لیے باضابطہ طور پر وسائل کے استعمال کا نہیں بتایا تاہم مالی مسائل کی وجہ سے اس کی گزشتہ سال کی سطح میں کوئی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ وزارت خزانہ کے بجٹ کی حد کی بنیاد پر پلاننگ کمیشن نے تمام وزارتوں اور محکموں سے نئے منصوبوں کی ترجیحی فہرست بھیجنے کا کہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پلاننگ ڈویژن پی ایس ڈی پی کے 80 فیصد فنڈز کو جاری منصوبوں کے لیے مختص کیا جائے گا جبکہ نئے منصوبوں کے لیے زیادہ سے زیادہ 25 فیصد فنڈز کی ادائیگی کی جائے گی۔

تازہ ترین خبریں