10:39 am
آئی ایم ایف کا پیکج بھی بہتری نہ لاسکا

آئی ایم ایف کا پیکج بھی بہتری نہ لاسکا

10:39 am

کراچی(نیوز ڈیسک)آئی ایم ایف کاپاکستان کی لیی6ارب ڈالرکابیل آئوٹ پیکج بھی اسٹاک مارکیٹ میں بہتری نہ لاسکا،کاروباری ہفتے کے پہلے روزپیرکوپاکستان اسٹاک ایکسچینج میںزبردست مندی رہی اور کے ایس ای100انڈیکس8بلائی نفسیاتی حدوںسے گرکر4سال کی کم ترین سطح پر آگیا،مندی کے نتیجے میںسرمایہ کاروں کے 1کھرب81ارب32کروڑروپے سے زائدڈوب گئے ،
کاروباری حجم گذشتہ روز کی نسبت208.53فیصدزائدجبکہ85.41فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔حکومتی مالیاتی اداروں، مقامی بروکریج ہائوسز سمیت دیگرانسٹی ٹیوشنز کی جانب سے توانائی،سیمنٹ،بینکنگ،فوڈزاور کیمیکل سیکٹرکی نچلی سطح پر آئی ہوئی قیمتوں پر خریداری کے باعث کاروبارکا آغاز مثبت رجحان میں ہواٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر کے ایس ای100انڈیکس 35228پوائنٹس کی سطح پر بھی دیکھا گیاتاہم ملک کے اقتصادی ٹیم میں تبدیلیوں کے بعد نئے وفاقی بجٹ میں سخت اقدامات کے خدشات، آئی ایم ایف سے بیل آئوٹ پیکیج میں روپے کی قدر مزید گھٹنے، ڈسکائونٹ ریٹ میں مزید اضافے کے خدشات اور نئے مالی سال کے بجٹ میں700سے 750 ارب روپے کے اضافی ٹیکس عائد ہونے کی خبروں نے پاکستان اسٹاک ایکس چینج کو اپنی لپیٹ میں لیا، جس سے مقامی سرمایہ کار گروپ تذبذب کا شکار نظرآئے اور اپنے حصص فروخت کرنے کو ترجیح دی جس کے نتیجے میں کے ایس ای100 انڈیکس دوران ٹریڈنگ33779پوائنٹس کی نچلی ترین سطح پر دیکھاگیاتاہم غیرملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع بخش سیکٹرکی نچلی سطح پر آئی ہوئی قیمتوں پرخریداری کی گئی ، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں ریکوری آئی اورکے ایس ای100انڈیکس کی33900کی حد بحال ہوگئی تاہم اتارچڑھائو کا سلسلہ سارادن جاری رہا،مارکیٹ کے اختتام پر کے ایس ای100انڈیکس816.15پوائنٹس کمی سی33900.38 پوائنٹس پر بندہوا۔ماہرین اسٹاک ایکسچینج کے مطابق اقتصادی ٹیم میں حالیہ تبدیلیوں کے تناظر میں سرمایہ کاروں کو یہ خدشات لاحق ہوگئے ہیں کہ نئے وفاقی بجٹ میں کیپیٹل مارکیٹ کو کسی قسم کاکوئی ریلیف نہیں ملے گا، یہی منفی عوامل پیراسٹاک مارکیٹ کی نفسیات پر چھائے رہے اور مارکیٹ تنزلی سے دوچارہوئی۔ جب کہ ماہ رمضان المبارک کی آمد کے باعث بھی سرمایہ کاری کے بیشتر شعبوں نے مارکیٹ سے اپنے سرمائے کے انخلا کو ترجیح دی ۔پیرکومجموعی طور پر336کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا،جن میں سی36کمپنیوں کے حصص کے بھاؤمیں اضافہ،287کمپنیوں کے حصص کے بھاؤ میں کمی جبکہ13کمپنیوں کے حصص کے بھاؤ میں استحکام رہا۔سرمایہ کاری مالیت میں1کھرب81ارب32کروڑ93لاکھ85ہزار888روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی،جس کے نتیجے میں سرمایہ کاری کی مجموعی مالیت گھٹ کر69کھرب45 ارب3 کروڑ64لاکھ86ہزار969روپے ہوگئی۔پیرکومجموعی طور پر12کروڑ12لاکھ10ہزار860شیئرزکاکاروبارہوا،جوجمعہ کی نسبت 8کروڑ19لاکھ24ہزار770شیئرززائدہیں۔قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے حساب سے سیمنزپاک کے حصص سرفہرست رہے ،جس کے حصص کی قیمت9.00روپے اضافے سی647.00 روپے اورپاک ہوٹلزکے حصص کی قیمت5.14روپے اضافے سی141.14روپے پر بند ہوئی۔نمایاں کمی پاک ٹوبیکوکے حصص میں ریکارڈکی گئی،جس کے حصص کی قیمت130.00روپے کمی سی2470.00روپے اورماڑی پیٹرولیم کے حصص کی قیمت49.29روپے کمی سی936.70روپے ہوگئی ۔پیرکوکے الیکٹرک کی سرگرمیاں98لاکھ12ہزارشیئرز کے ساتھ سرفہرست رہیں،جس کے شیئرز کی قیمت38پیسے کمی سی3.98روپے اورمیپل لیف سیمنٹ کی سرگرمیاں70لاکھ79ہزار500شیئرز کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی،جس کے شیئرزکی قیمت1.27روپے کمی سی23.08روپے ہوگئی ۔پیرکوکے ایس ای30انڈیکس364.23پوائنٹس کمی سی163022.43پوائنٹس،کے ایم آئی30انڈیکس1633.19پوائنٹس کمی سی52767.98پوائنٹس جبکہ کے ایس ای آل شیئر انڈیکس652.00پوائنٹس کمی سی25041.07پوائنٹس پربندہوا ۔