09:01 am
جرمنی 3,200 کم عمر مہاجرین ،حکام کو کچھ معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں؟

جرمنی 3,200 کم عمر مہاجرین ،حکام کو کچھ معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں؟

09:01 am

جرمنی میں ہر سال ایسے ہزاروں کم عمر مہاجرین لاپتہ ہو جاتے ہیں جو اکیلے ہی جرمنی پہنچے۔ عام طور پر تو وہ محفوظ ہی ہوتے ہیں مگر ماہرین کے مطابق ایسے بچوں کے بارے میں معلومات پریشانی کی حد تک کم ملتی ہیں۔گزشتہ چند برسوں کے دوران یورپ کی طرف مہاجرین کی بڑی تعداد میں آمد کے دوران ایسے ہزارہا بچے یا کم عمر نوجوان بھی جرمنی اور دیگر ممالک میں پہنچے جو اپنے اکیلے ہی یہ سفر کر رہے تھے۔

  ان میں سے بہت سے بچے ان ممالک میں پہنچنے کے فوری یا کچھ وقت کے بعد حکام کی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ سال 2017ء کے آغاز میں جرمنی کے وفاقی تفتیشی ادارے BKA نے 8,400 ایسے بچوں کے لاپتہ ہونے کا بتایا۔ تاہم رواں برس کے آغاز میں ایسے کم عمر افراد کی تعداد گِر کر اب 3,200 رہ گئی ہے جن کے بارے میں حکام کو کچھ معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں اس کمی کا یہ مطلب نہیں کہ سب کچھ اب ٹھیک ہے، یہ کہنا ہے والدین کے بغیر جرمنی آنے والے کم عمر مہاجر بچوں کے لیے کام کرنے والی ایک وفاقی ایسوسی ایشن سے تعلق رکھنے والے تھوبیاس کلاؤس کا: ’’تعداد میں کمی ضرور واقع ہوئی ہے تاہم اس کی ایک وجہ یہ حقیقت بھی ہے کہ اب کم عمر مہاجرین کی جرمنی میں آنے کا سلسلہ بھی بہت حد تک کم ہو گیا ہے۔‘ کم عمر مہاجرین کی ایسوسی ایشن نے ایک سروے مرتب کیا ہے جو ابھی تک شائع تو نہیں ہوا تاہم اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صورتحال میں بہتری کی بجائے معاملہ الٹ ہے۔ اس غیر سرکاری تنظیم نے بچوں اور نوجوانوں کی بہبود کے لیے سرگرم 720 ماہرین سے سوالات کیے جن میں اکیلے ہی جرمنی آنے والے کم عمر مہاجرین کے بارے میں بھی سوالات شامل تھے۔ ان میں سے زیادہ تر کا کہنا تھا کہ کم عمر مہاجرین بعض اوقات یا اکثر اوقات لاپتہ ہو جاتے ہیں۔انٹرویو میں شامل ان افراد نے 14 سے 17 برس کے ان کم عمر مہاجرین کے لاپتہ ہونے کی اکثر وجہ یہ بتائی کہ وہ خود سے ہی اپنے رشتہ داروں یا دیگر واقف کاروں کے پاس چلے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ دیگر یورپی ممالک یا پھر جرمنی کے دیگر حصوں میں چلے جاتے ہیں۔ جرمنی میں ہی ہونے کی صورت میں البتہ ایسے بچے زیادہ دیر تک لاپتہ افراد کی فہرست میں نہیں رہتے اور ان کے بارے میں معلومات ملنے کے بعد انہیں اس فہرست سے نکال دیا جاتا ہے۔تھوبیاس کلاؤس کے مطابق ایسے بہت سے بچوں کے لاپتہ ہونے کی دوسری بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ انہیں یہ خوف ہوتا ہے کہ انہیں جرمنی سے ملک بدر کر دیا جائے گا۔ BKA کے اعداد وشمار کے مطابق لاپتہ ہونے والوں میں سے زیادہ تر تعداد افغان نو عمروں کی ہوتی ہے جنہیں اپنی ملک بدری کا کافی زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

 

تازہ ترین خبریں