05:40 pm
(ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کاافتتاح)چلاس میں تبدیلی لائیںگے،وزیراعلیٰ

(ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کاافتتاح)چلاس میں تبدیلی لائیںگے،وزیراعلیٰ

05:40 pm

گلگت ( اوصاف نیوز ) وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ چلاس کے عوام کو ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی افتتاح پر مبارک بادد پیش کرتا ہوں۔ دین میں ایمان کا آدھا حصہ صفائی ہے۔ دیامر کے عوام محنت کرنے والے اور محب وطن اور مہمانواز ہیں۔ یہاں کے عوام دیامر کی ترقی کیلئے کام کریں اور ترقی کیلئے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کریں۔ دیامر گلگت بلتستان کا گیٹ وے ہے۔ ترقی کیلئے تمام وابستگیوں سے بالا تر ہوکر کا کرنے کی ضرورت ہے۔
ہنزہ کی ترقی اور عوام کی محنت قابل تقلید ہے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ چلاس کے تمام شاہراہوں کی مرمت کرائیں گے اور سٹریٹ لائٹس نصب کئے جائیں گے۔ دیامر کمیونٹی کو آرگنائز کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ واپڈا نے جو وعدے دیامر کی ترقی کیلئے کئے تھے وہ پورے نہیں کئے۔ دیامر بھاشا ڈیم ملک اور گلگت بلتستان کی ترقی کیلئے سنگ میل ہے اگر نیا پاکستان والے اس کے خلاف سازش کریں گے تو ہم اس کو ناکام بنائیں گے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ ایفاد پروجیکٹ مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف نے گلگت بلتستان کو تحفہ دیا تھا۔ ابتدائی طور پر 4 اضلاع میں ایفاد پروجیکٹ کام کررہا تھا دیگر اضلاع کے مطالبے پر ہنزہ، نگر سمیت تمام اضلاع تمام وسعت دی جارہی ہے جس کی باقاعدہ منظوری مل چکی ہے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ داریل اور تانگیر کو الگ الگ ضلع بنانے کا مطالبہ تھا گلگت بلتستان آرڈر 2018 میں اختیارات ملنے کے بعد ہم نے دیامر کے عوام کے مطالبے پر داریل اور تانگیر کو الگ الگ اضلاع بنانے کا اعلان کیا ہے۔ داریل ، تانگیر کو ایک ضلع بنانے کیلئے ہیڈکوارٹر کے تعین کیلئے کمیٹی بنائی تھی اس وقت قائم کمیٹی ہیڈکوارٹر کا تعین نہیں کرسکی۔ عوام کے دیرینہ مطالبے اور معروضی حالات اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے دو الگ الگ اضلاع کا اعلان کیا ہے اور اس کو عملی جامعہ پہنائیں گے۔ پبلک سکول سے بہتر سکول عوام کودے رہے ہیں۔ ماڈل سکول کے وعدے کو عملی جامعہ پہنایا۔ 2007ء سے کیڈٹ کالج چلاس پر کام نہیں ہورہاتھا۔ ہماری حکومت نے اس پر کام کا آغاز کیا۔ دیامر میں 13 ارب کے منصوبے جاری ہیں۔ 70سالوں میں اتنے منصوبے دیامر کو نہیں ملے جتنے پچھلے چار سالوں میں ملے ہیں۔ سیاسی صرف نوکری اور ٹھیکے کیلئے نہیں بلکہ نظریے اور علاقے کی ترقی کیلئے ہونا چاہئے ۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ جس معاشرے میں سیاست کمزور ہوگی وہاں ریاست کمزور ہوتی ہے۔چلاس میں سیاسی آرگنائزیشن ضروری ہے۔ دیامر کے عوام اپنی سیاسی جماعتوں کو مضبوط بنائیں۔ دیامر کی ترقی کیلئے زمینوں کے جھگڑوں کو ختم کریں۔ بھائی بند سے مسائل حل کریں۔ دیامر اور گلگت بلتستان کا مستقبل روشن ہے۔ دیامر کے عوام نے ملک کی ترقی کیلئے بڑی قربانیاں دیں ہیں۔ عوام کے تعاون سے چلاس کو بدلیں گے۔ دیامر میں سکولوں کا یونیفارم قمیز شلوار ہوگا۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ پرائیویٹ سودی نظام کیخلاف قانون سازی کی ہے۔ علمائے کرام ، میڈیا اور سول سوسائٹی اس کی نشاندہی کریں پولیس اور انتظامیہ فوری کارروائی یقینی بنائے گی۔ معاشرے کی اصلاح کیلئے سب کو اپنے حصہ کا کردار ادا کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ اخوت کے ذریعے وزیر اعلیٰ بلاسود قرضے عوام کو دے رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے چلاس ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بعدازیں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے ماڈل سکول چلاس کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری سکولوں کے حوالے سے عوام کا تاثر مثبت نہیں تھا اس لئے سرکاری سکولوں کی حالت بہتر بنائی اور ہر سال 10 ماڈل سکول بنارہے ہیں اور آج اس کا باقاعدہ افتتاح ہورہا ہے۔جس پر 3 کروڑ روپے لاگت آئی ہے۔ دیامر میں انرولمنٹ کی شرح قابل تحسین ہے اس سال 13 ہزار نئے بچوں کی انرولمنٹ یقینی بنائے۔ 2029ء تک صوبے کے تمام سرکاری سکولوں کو ماڈل سکول بنانے کا پلان بنایا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ چلاس ماڈل سکول کے یونیفارم قمیز شلوار ہوگا جو صوبائی حکومت فراہم کرے گی۔ اساتذہ کی ماڈل سکولوں میں تعیناتی انٹرویو کے تحت کیا گیا ہے۔ دیامر کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کیلئے پلیٹ فارمز سکولوں کی سطح پر مہیا کیاجائے۔ دیامر میں بھی تمام سکولوں کے طالب علموں کو سوشل ورک لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ہمیں ترقی کیلئے اپنے رویے بدلنے ہوں گے۔8کروڑ کی لاگت سے سرکاری سکولوں کے بچوں کومفت کتابیں فراہم کئے جارہے ہیں۔ چلاس(محمدقاسم)وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے چلاس میں ویسٹ منیجمنٹ کی افتتاحی تقریب اور صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے۔دیامر کے لوگ نہایت مہمان نواز اور دین سے محبت کرنے والے ہیںاور اسلام پر مٹنے کو تیار ہیں۔مگر بدقسمتی سے دیامر کو کچھ کرنے کو تیار نہیں۔آج بھی فرسودہ روایات میں مبتلا ہیں۔جس کیی وجہ سے دیامر تعمیر و ترقی کی روڈ میں بہت پیچھے رہا۔دیامر گلگت بلتستان کا گیٹ وے ہے۔خطے کی تعمیر و ترقی کا دور یہاں سے شروع ہوتا ہے مگر بدقسمتی سے دیامر میں تعمیر و ترقی کا یہ سلسلہ آگے نہیں بڑھ سکا۔ دو دوزہ دیامر کے موقع پہ ان کے ہمرا وزیر قانون اورنگزیب ایڈوکیٹ وزیر جنگلات عمران وکیل وزیر بلدیات فرمان علی رانا مشیر اطلاعات شمس میر بھی موجود تھے۔انہوں نے کہا ہمسایہ صوبہ گلگت بلتستان کے ہر معاملے میں دخل اندازی کر رہا یے جی بی کا استحصال انگریز نہیں بلکہ خیبر پختون خواہ کر رہا ہے۔گلگت بلتستان کا زمیں جنگل حقوق ہر چیز پہ شب خون مار رہا ہے۔خیبر پختونخواہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کرنے نہیں دیتے اور دیامر بھاشہ ڈیم کی تعمیر کو سبوتاڑ کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ حکومت گلگت بلتستان ڈیم کی تعمیر میں سنجیدہ ہے وفاقی حکومت ڈیم کی تعمیر میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہی ہیاور ڈیم کی تعمیر میں ملک کے وسیع تر مفاد میں قربانی دینے والوں کو قربانیوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔نیا پاکستان والوں نے تبدیلی کے سنہرے خواب دیکھا کر دیامر بھاشہ ڈیم کے لئے مختص رقم کو مہمند ڈیم میں منتقل کر دیا۔ شاہراقرام رائکوٹ سے تھکاوٹ منصوبہ سی پیک 26 ارب روپے میں سے 13 ارب روپے پی ٹی آئی کے ممبران اسمبلی کو نوازاور 15 کڑور روپے کی سکیموں دے دئ۔ نیا پاکستان میں ڈاکے مارے جا رہے ہیں انھوں نے کہا کہنیا پاکستان والے جو گالیاں دے رہے تھے وہ آج خود کھا رہے ہیں اور چاٹ رہے ہیں۔انہوں نے داریل تانگیر اضلاع کے قیام کے حوالے سے کہا کہ ضلعے کے قیام کے حوالے سے عملی جامہ پہنایا جائگا۔اور کسی مشکل کے نئے مالی سال میں بھاری رقم رکھی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ واپڈا دیامر بھاشہ ڈیم منصوبہ کے زیر نگرانی سی بی ایم سکیموں کے ذریعے اربوں روپے کا کام کرنا تھا جو اب تک نہ ہو سکا۔جو کہ ڈیم متاثرین کے زخموں پہ نمک پوشی کے مترادف ہے انہوں نے کہا کہ واپڈا اپنی روش ترک کرے اور متاثرین ڈیم کے ساتھ کئے جانے والے معاہدے کی روشنی میں سی بی ایم سکیموں کو فوری طور پہ کام شروع کرے۔استور(شمس الرحمن شمس ) ہم کرپٹ اور چوروں کو گیسٹ کر جیلوں میں ڈالتے ہیں عدالتیں ہیں جو چوروں اور کرپشن کرنے والوں سفارشی بنیادوں پر باعزت باہر بیجتے ہیں وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن۔وزیر اعلی گلگت بلتستان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ استور ویلی روڈ،راما روڈ ،تریشنگ روڈ ،پریشنگ روڈ ڈوئیاں روڈ سمیت دیگر اہم پراجیکٹس اگلے سال جون سے قبل مکمل کر دیے جاینگے استور ویلی روڈ گلگت بلتستان حکومت کا پہلا پراجیکٹ ہے جس کی لاگت ڈیڑھ ارب روپے ہیں جو پیور مشین کے ذریعے بنایا جا رہا ہے جو کہ کے کے ایچ سے بہتر ہوگا استور ویلی روڈ فیز ٹو نیسپہ کمپنی کو فیز بیلٹی کے لئے دیا گیاہے جوں ہی فیز بیلٹی رپورٹ آئیگی گوریکوٹ سے مشکن تک فیز ٹو کاکام شروع کردیا جاے گا جو کہ اگلے سال جون تک مکمل کر دیا جاے گا جبکہ استور ویلی روڈ فیز ون چالیس کروڈ کی لاگت سے جاری ہے وہ اسی جون تک مکمل ہوگا۔ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں 30 جون تک آپریشن تھریٹر کو رن کر دیا جاے گا آپریشن تھریٹر کا رن کرنے سے پہلے اسپیشلسٹ ڈاکٹرز کے ہونے سے کوئی فائدہ نہیں تھا اس کے باوجود بھی عوام کی ڈیمانڈ پر ہم نے تمام اضلاع میں ڈھائی ڈھائی لاکھ کا پیکج دیکر ڈاکٹرز تعینات کردے استور میں سب سے پہلے ڈاکٹرز ہاسٹل کا قیام عمل میں لایا جائیگا جو کہ ڈاکٹرز کا بنیادی مسلہ ہے استور سٹی بیوٹیفکیشن کا پلان نسپہ کمپنی کو بھیج رہے ہیں بہت جلد سٹی کو خوبصورت بنانے کے لئے ایک بہتر پلان بناکر انتظامیہ کو حوالہ کرینگے ڈپٹی کمشنر کو ہماری طرف سے مکمل اختیارات دے گئے ہیں امید ہے بہتر انداز سے اپنا کام جاری رکھیں گا انہوں نے مزید کہا کہ استور کے اہم پراجیکٹس پر کرپشن کرنے والے چوروں کو گیسٹ کر جیلوں میں ڈال دیتے ہیں اور عدالتیں سفارشی کلچر پر ان کے حق میں فیصلے دیتی ہیں وزیر اعلی گلگت بلتستان نے مزید کہا کہ سابقہ ادوار میں گلگت بلتستان میں ترقیاتی پراجیکٹس کا قبرستان بناہوا تھا جبکہ ہماری حکومت نے بڑے بڑے پراجیکٹس کم عرصے میں مکمل کر دے ہیں ہم وہ جوتا استعمال کرتے ہیں جو ہمارے پاوں کے مطابق ہو ہم سابق وزیر اعلی سید مہدی شاہ کی طرح چار اضلاع کے جنازوں کو کندھے میں لیکر نہیں بیٹھے ہیں بلکہ جو اعلان کیا ہے اس کو عملی جامع پہنایا ہے ضلع دیامر میں جن اضلاع کا اعلان کیا ہے اس کا ایک مہینے کے اندر عوام کو رزلٹ ملے گا ہماری حکومت نے گلگت بلتستان کوتعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا ہے وہ لوگ جو کالے کورٹ پہن کر کرپشن کے الزامات لگارہیہیں ان کو میرا چیلنج ہے وہ بازاری باتیں کرنے کے بجاے بغیر فیس کے ہمیں کورٹ میں کھڑا کریں اگر ایک روپے کی کرپشن ثابت ہوئی تو ہمیں اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے ہم نے میرٹ کے مطابق ریکارڈ ترقیاتی کام کئے ہیں اس موقعے پر انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کے 6 اضلاع میں باقاعدہ پریس کلب کی بلڈنگ بن چکی ہیں انشا اللہ ہماری کوشش ہے کہ بہت جلد دیگر اضلاع میں بھی پریس کلب کی عمارتیں تعمیر کئے جاینگے ہماری حکومت کی یہی کوشش رہی ہے کہ صحافیوں کے مسائل ترجہی بنیادوں پر حل کریں صحافی بھی اپنے قلم کا استعمال حق اور شچ کے لئے کریں۔اس موقعے پر وزیر اعلی گلگت بلتستان نے پریس کلب استور کے صدر رفیع اللہ آفریدی اور ان کی کابینہ سے حلف بھی لیا۔

تازہ ترین خبریں