05:46 pm
ن لیگ کسی کی جاگیرنہیں،وزیراعلیٰ کامخصوص ٹولہ سازشوں میں مصروف ہے،3وزراء کھل کرسامنے آگئے

ن لیگ کسی کی جاگیرنہیں،وزیراعلیٰ کامخصوص ٹولہ سازشوں میں مصروف ہے،3وزراء کھل کرسامنے آگئے

05:46 pm

گلگت ( اوصاف نیوز ) مسلم لیگ ن کسی فرد واحد کی جاگیر نہیں اور نہ ہی کسی کو پارٹی پر قابض ہونے کا اختیار ہے، یہ ہم سب کی پارٹی ہے اور قائد میاں محمد نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی قیادت میں ہم سب پارٹی کے کارکن ہیں، پارٹی میں پسند اور نا پسند کی بنیاد پر کسی کو پارٹی میں اِن اور آؤٹ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے،وزیر اعلیٰ نے اپنے دورہ چلاس میں پولو میچ کے کھلاڑیوں اور شائقین کے سامنے دیامر کے
وزراء پر زاتی تنقید اور متبادل ڈھونڈنے کے حوالے سے جو زبان استعمال کی ہے ہم اْس کی پْر زور اور شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ کے مخصوص ٹولے کے بے لگام افراد اپنے ذاتی مفادات کی خاطر غلط بیانیاں کرکے پارٹی میں دراڑیں ڈالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور وزراء کے خلاف من گھڑت بیان بازیاں کر رہے ہیں، ایسے افراد کی حرکتوں سے پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔صوبائی وزیر زراعت حاجی جانباز خان ، صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن حاجی حیدر خان اور صوبائی وزیر سوشل ویلفئیر و انسانی حقوق ثوبیہ جبیں مقدم کی ملاقات گفتگو ۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر زراعت حاجی جانباز خان ، صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن حاجی حیدر خان نے صوبائی وزیر سوشل ویلفئیر و انسانی حقوق ثوبیہ جبیں مقدم سے ملاقات کی جس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کے پارٹی معاملات، تنظیمی ڈھانچہ، پارٹی کی جانب سے ماضی میں گلگت بلتستان کے عوام سے کئے گئے وعدے، صوبائی حکومت کی مجموعی کارکردگی اور حالیہ دنوں میں رونما ہونے والی سیاسی پیش رفت اور تبدیلیوں کا بغور جائزہ لیا گیااور وزیر اعلیٰ کے دورہ دیامر کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی ۔ملاقات میں موقف اختیار کیا گیا کہ داریل تانگیر کے اضلاع کا قیام مسلم لیگ ن کی پالیسی اور پارٹی کا اصولی مؤقف تھا اور اِن اضلاع کی تخلیق و تشکیل مسلم لیگ (ن) کی سابقہ وفاقی حکومت کے دور میں ہونا تھا مگر اب تک نہ ہونے کی وجہ سے عوام میں شدید اضطراب اور مایوسی پائی جارہی ہے، وزیر اعلیٰ کا داریل تانگیر کو اضلاع بنانے کا اعلان خوش آئند، نئے اضلاع کے اعلان پر مکمل عملدرآمد اور فنکشنل ہونے تک ہم تمام متعلقہ فورمز میں بھرپور آواز اْٹھاتے رہیں گے۔ملاقات میں پارٹی کے تنظیمی حوالے سے بات کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کسی فرد واحد کی جاگیر نہیں اور نہ ہی کسی کو پارٹی پر قابض ہونے کا اختیار ہے، یہ ہم سب کی پارٹی ہے اور قائد محترم میاں محمد نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی قیادت میں ہم سب پارٹی کے کارکن ہیں، پارٹی میں پسند اور نا پسند کی بنیاد پر کسی کو پارٹی میں اِن اور آؤٹ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔وزیر اعلیٰ نے اپنے دورہ چلاس میں پولو میچ کے کھلاڑیوں اور شائقین کے سامنے دیامر کے وزراء پر زاتی تنقید اور متبادل ڈھونڈنے کے حوالے سے جو زبان استعمال کی ہے ہم اْس کی پْر زور اور شدید الفاظ میںمذمت کرتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے مخصوص ٹولے کے بے لگام افراد اپنے ذاتی مفادات کی خاطر غلط بیانیاں کرکے پارٹی میں دراڑیں ڈالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور وزراء کے خلاف من گھڑت بیان بازیاں کر رہے ہیں۔ ان افراد کی حرکتوں سے پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ ضلع دیامر سے تعلق رکھنے والے تینوں وزراء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ نہ صرف ضلع دیامر بلکہ گلگت بلتستان کی تعمیروترقی سمیت مسلم لیگ (ن) کو مضبوط کرنے اور قائد پاکستان میاں محمد نواز شریف کا پیغام گلگت بلتستان کے کونے کونے تک پہنچانے کیلئے اپنا کلیدی کردار ادا کرتے رہیں گے اور مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان سے ڈکٹیٹرشپ کا خاتمہ کرکے پارٹی کو حقیقی جمہوری پارٹی کے طور پر عوام الناس کی خدمت کو یقینی بنائیں گے۔چلاس(محمدقاسم)گلگت بلتستان کی سیاسی درجہ حرارت عروج پر،وزیر اعلی گلگت بلتستان سے دیامر کے ناراض تین وزراء اور ان کو رام کرنے کی تمام تر کوششیں ناکام ثابت ہوگی۔ناراض وزراء کا آپس میں تواتر سے ملاقاتوں سے سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچا دی۔ تینوں وزراء وزیر اعلی گلگت بلتستانکیلئے سیاسی مشکلات پیدا کرنے پہ متفق،اپوزیشن ممبران اور دیگر سیاسی پارٹی سے رابطے تیز کرنے کا لائحہ عمل طے کر دیا۔تفصلات کے مطابق وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے دورہ چلاس کے موقع پہ نام لئے بغیر اپنے وزراء پہ کھل کے تنقید کی۔وزیر اعلی گلگت بلتستان سے ناراض دیامر کے وزراء صوبائی وزیر زراعت حاجی جانباز خان اور وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن گلگت بلتستان حاجی حیدر خان نے وزیر بہبود آبادی ثوبیہ جبیں مقدم کے دفتر میں الگ الگ ملاقاتیں کے بعد مقدم ہاوس گلگت میں ایک خفیہ میٹینگ کی گئی جس میں اپنا سیاسی لائحہ عمل طے کیا۔ذرائع کے مطابق ملاقاتوں میں وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کا دورہ دیامر کے موقع پہ کئے جانے والے اعلانات و دیگر سیاسی امور زیر بحث رہے جبکہ وزراء کو تنقید کا نشانہ بنانے پہ سخت ناراضگی اور خفگی کا اظہار بھی کیا۔جبکہ نئی سیاسی صف بندیعمل میں لانے کے لئے مختلف طریقوں سے پر غور و فکر بھی کیا گیا۔باخبر ذرائع کے مطابق باہمی ملاقاتوں میں دیامر کے ایک وزیر کو اپوزیشن ممبران اور دیگر سیاسی پارٹی سے رابطے کی ذمے داری سونپ دی گئی ہے جو اپوزیشن ممبران سے رابطے کر کے وزیر اعلی گلگت بلتستان کے لئے سیاسی مشکلات میں اضافہ کرنے کے لئے سیاسی تدابیر اختیار کئے جائیں گے اور اپوزیشن ممبران کے آرا اور تجاویز کی روشنی اگلا لائحہ عمل طے کیا جایگا۔

تازہ ترین خبریں