05:49 pm
جی بی میں عملی کام ن لیگ نے کیا،وزیراعلیٰ

جی بی میں عملی کام ن لیگ نے کیا،وزیراعلیٰ

05:49 pm

گلگت( بیورورپورٹ) وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ملک میں نیا پاکستان آگیا ہے جس کی وجہ سے ترقی کے سفر میں رکاوٹیں آرہی ہیں جن شعبوں میں ہمیں فنڈز کی ضرورت تھی انہیں چن چن کر ختم کردیا گیا ہے ، سابق حکومت نے ہمیں کبھی فنڈز کی کمی ہونے نہیں دی جس کی وجہ سے تعمیر وترقی ممکن ہوسکی ہے ہماری حکومت سے قبل 86ہزار طلبہ سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم تھے
جبکہ گزشتہ تین سالوں کے اندر طلبہ کی تعداد اب بڑھ کر 1لاکھ 86ہزار تک پہنچی ہے جو کہ سرکاری سکولوں پر اعتماد کامظہر ہے ۔ محکمہ تعلیم میں تعمیرات کے لئے انجینئر موجود ہے جو ماضی کے محکمہ تعمیرات کے عمارتوں سے بہتر اور سستی عمارتیں بنارہا ہے ۔بطور معاشرہ ہماری ترجیح تعلیم نہیں ہے جس کی وجہ سے 3سو روپے کی فیس بھی مہنگی لگ رہی ہے جن طلبہ و طالبات کی فیس دینے کی گنجائش نہیں ہے وہ تحریری درخواست دیں یا کمیونٹی لکھ کردیں ہم اس کی فیس اور وردی کے اخراجات خود اٹھائیںگے۔ ان خیالات کااظہار وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے بیگم وقار النساء نون گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول کوماڈل سکول کا درجہ دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ معاشرتی سطح پر تعلیم، صحت اور تعمیروترقی ہماری ترجیح نہیں ہے جس کی وجہ سے ان اقدامات پر ہمیں ووٹ بھی نہیں پڑتا ہے لیکن ہماری ضروریات اور آئندہ نسلوں کا مستقبل محفوظ کرنے کے لئے ہمیں تعلیم اور صحت کو لیکر چلنا تھا اس لئے ہم نے تعلیم اور صحت پر اپنی توجہ مرکوز رکھی۔ معاشرے میں لوگ اسی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو کسی کو نوکری دیتا ہے یہ خیال حقیقت میں اجتماعی خودکشی کے مترادف ہے اسی لئے ہم نے انفرادی مسائل کو چھوڑ کر اجتماعی مسائل حل کر نے کی کوشش کی اور تمام اہم شعبہ جات میں ہم نے پالیسیاں مرتب کرلی جس سے لوگوں کے مسائل میں کمی اور سہولیات میسر آگئیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے دور حکومت میں لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم منصوبے بنائے ہیں محکمہ تعلیم کے لئے بنائے گئے پالیسیاں جلدی نظر آنے والے نہیں ہیں ہم نے 2029کا ہدف مقرر کرکے پالیسیاں دی ہیں انشاء اللہ آئندہ دس سالوں میں گلگت بلتستان کے تمام ہائی اور مڈل سکول کو ماڈل سکولوں کا درجہ دیا جائیگا۔ جہاں پر یونیورسٹی کی ضرورت تھی وہاں یونیورسٹی دیدی گئی اور جہاں کیمپس اور پبلک سکول دینے تھے وہاں پر کیمپس اور پبلک سکول دیدئے ہیں اور اب اس سے بھی بڑھ کر ماڈل سکولوں کااجراء کردیا ہے ۔ داریل تانگیر اور جگلوٹ سمیت دیگر علاقوں میں پبلک سکول قائم کرکے پاک فوج کے حوالے کردئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ضلع گلگت میں اس وقت محکمہ تعلیم کے 73اہم اور میگامنصوبے زیر تکمیل ہیں جبکہ گلگت بلتستان میں 282منصوبے زیر تکمیل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیگم وقار النساء نون سکول میں جب بھی آیا ہوں مسائل کا انبار لگاتے ہیںاگر آئندہ دورہ کے موقع پر بھی مسائل موجود رہے تو میں سخت سے سخت ایکشن لوںگا ۔ سکول کی تعمیر کا ٹھیکہ جس کسی کے پاس بھی ہے غیر معیاری تعمیر برداشت نہیں کی جاسکتی ہے ، جب تک فرش کو بہتر اور معیاری طور پر مکمل نہیں کیا جاتا ہے فنڈز روکے جائیںے۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ گلگت میں خواتین کے لئے صحت مندانہ سرگرمیوں کے لئے مواقع نہ ہونے کے برابر ہے ، اسی لئے خواتین پارک بنایا ہے جس میں صحت مندانہ سرگرمیوں کے لئے باقاعدہ انسٹرکٹر بھی مقرر کریںگے اور خواتین پردے میں رہتے ہوئے سرگرمیاں سرانجام دے سکیںگی۔ خواتین کو سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے مواقع نہ ملنے کی وجہ سے آج کی خواتین مردوں کے مقابلوں میں زیادہ شدت پسند ہیں جبکہ مردوں میں بہت بہتری آئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کا اصل امتحان اب شروع ہوچکا ہے کیونکہ اب فیڈرل بورڈ کے ساتھ الحاق ہے اور پورے پاکستان کے ساتھ مقابلہ ہونا ہے ۔ قبل ازیں صوبائی وزیر تعلیم ابراہیم ثنائی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں حلقہ نمبر 2بالخصوص کشروٹ کے لوگوں کا شکرگزار ہوں کہ جنہوں نے ایک عظیم لیڈر کو اسمبلی بھیجا ہے جس کے زیر سایہ ہم نے ترقی کے زینے طے کرلئے ہیں۔آئندہ سال تک ہم پاکستان کا سب سے تعلیم یافتہ صوبہ کہلائیںگے۔ اس موقع پر بیگم وقارالنسانون ماڈل سکول کی پرنسپل شگفتہ ریاض نے خطاب کرتے ہوئے سکول کی صورتحال پر پریزینٹیشن دی ۔گلگت ( محمد ذاکر سے ) وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ملک کو تقسیم کرنیوالوں کو شاباش دی گئی جبکہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنیوالوں کو جیل بھیج دیا گیا ، ماضی میں گلگت بلتستان کے ہسپتالوں کو قبرستانوں میں تبدیل کیا گیا اور حکمران عیاشیاں کرتے رہے ، وہ لوگ بھی آج حکومت پر تنقید کرتے ہیں جنکے کے پی کے اور سندھ میں حکومتیں قائم ہیں اسکے باوجود میڈیکل سیٹوں میں جی بی کا کوٹا تک نہیں سکے ،صوبائی حکومت نے محکمہ صحت اور تعلیم کی بہتری کیلئے اقدامات کئے ہیں ، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے ان خیالات کا اظہار شہید سیف الرحمن تین سو بیڈ ہسپتال گلگت کی سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے 17ارب کا بجٹ منظور کرکے وفاق کو ارسال کیا تھا مگر بد قسمتی سے نیا پاکستان بنانیوالوں نے 2ارب بجٹ کٹوتی کرکے عوام کو مشکلات میں دھکیل دیا ہے ، تبدیلی کے نعرے لگانے والوں کے آٹھ ماہ مکمل ہوئے مگر نیا پاکستان بنانیوالوں نے غریب عوام کو مہنگائی کے سوا کچھ نہیں دیا ، مجھے یقن ہے کہ اگلے سال تحریکا نصاف حکومت چابیاں دیکر گھروں کو واپس لوٹ جائینگے ۔ا نہوں نے کہا کہ عوام نے مسلم لیگ ن کو مینڈیٹ دیا تھا مگر مخالفین نے شب خون مار کر سلیکٹڈ حکمران منتخب کر لئے ، جو جماعتیں گلگت بلتستان میں بیٹھ کر جھوٹٰ سیاست کررہی ہیں ان کو دعوت دیتا ہوں کہ تحریک انصاف حکومت سے بات کرکے این ایف سی ایوارڈ میں جی بی کا حصہ دلانے کیلئے اپنا کلیدی کردار دا کریں ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے محکمہ صحت میں ٹوٹل 180 ڈاکٹر تھے ہم نے بہترین پالیسی بنا لی اب خطے میں 540ڈاکٹرز اپنے خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ مزید 150ڈاکٹرز تعینات کئے جائینگے حکومت نے مھکمہ صحت اور محکمہ تعلیم پر توجہ دے رہی ہے مستقبل میں 322سکولز فنگشنل ہونگے مجھے معلوم ہے کہ تعلیم اور صحت پر کام کرنے سے ووٹ نہیں ملتے میں ووٹ کیلئے نہیں عوام کے فلاح و بہبود پر توجہ دے رہا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان بنانیوالوں نے گلگت بلتستان کے بجٹ سے دو ارب کی کٹوتی کر دی مگر شہباز شریف نے پنجاب حکومت سے ایک ارب بجٹ جی بی حکومت کو دیکر صحت جیسے اہم شعبوں کو بہتر بنانے کیلئیے کردار ادا کیا آج جی بی کے عوام نواز شریف اور شہباز شریف کو دعائیں دے رہے ہیں آج جی بی کے سرکاری ہسپتالوں میں جدیدے ایم آئی آئی مشین نصب کر دی گئی ہے آئندہ ایک سال میں عوام کیلئے صحت اور تعلیم میں نمایاں تبدیلیاں ہونگی ۔ گلگت ( اوصاف نیوز)وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ شہید سیف الرحمن ہسپتال کا مختصرمدت میں کام کرنا قابل تحسین ہے۔ نئے پاکستان والوں کو 8ماہ ہوچکے ہیں اور سب کو ان کے ترجیحات نظر آرہے ہیں۔ چھوٹے صوبوں کیلئے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے پنجاب کے وسائل وقف کئے۔ عطاء آباد سانحے میں بھی قائد مسلم لیگ (ن) محمد نواز شریف اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے بھرپور مدد کی۔ گلگت بلتستان کے96 میڈیکل سٹیوں میں سے 76 سیٹیں پنجاب میں ہیں۔ سندھ اور خیبرپختونخوا والے ایک سیٹ بڑھانے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ بلاول بھٹو نے ہارٹ سنٹر کا وعدہ خود کیا مگر6 ماہ سے چیف سیکریٹری رابطہ کررہے ہیں کوئی جواب نہیں آرہاہے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ دیگر صوبوں کوبھی گلگت بلتستان کی ترقی میں اپناکردار اد اکرنا چاہئے۔ این ایف سی اجلاس میں اس وقت کے وزیر اعظم محمد نواز شریف نے گلگت بلتستان کو 3فیصد رقم دینے کی بات کی تھی جس پر سندھ اور خیبرپختونخواہ نے مخالفت کی۔ جوجماعتیں گلگت بلتستان میں سیاست کرنا چاہتی ہیں ان کو چاہئے کہ جن صوبوں میں ان کے جماعت کی حکومت ہے ان کو این ایف سی سے 3فیصد حصہ گلگت بلتستان کو دینے کی حمایت کرائیں۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے پنجاب کے بجٹ میں سے ایک ارب روپے گلگت بلتستان کودیئے۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے شہید سیف الرحمن ہسپتال کے سنگ بنیاد رکھنے کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کا مینڈیٹ چوری کیا گیا۔ نئے پاکستان والوں نے گلگت بلتستان کے ترقیاتی بجٹ میں 2 ارب روپے کا کٹ لگایا یہ ان کی کارکردگی ہے۔ پنجاب حکومت نے 40 کروڑ کی مشینری فراہم کرنی تھی جس میں سے نئے پاکستان والوں نے ایمبولنس روک کر کم ظرفی کا مظاہرہ کیا۔ نئے پاکستان والوں نے شہباز شریف کی جانب سے دیئے جانے والے ایمبولنس پر سیاست کرنے کیلئے روکا۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ صحت کا شعبہ ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ گلگت بلتستان میں اس وقت 540 ڈاکٹرز خدمات سرانجام دے رہے ہیںمزید150ڈاکٹرز درکار ہیں جس کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔ اس منصوبے کی سنگ بنیاد کیلئے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کو دعوت دی گئی تھی۔ 19 مارچ 2020 ء تک اس ہسپتال کی بلڈنگ کومکمل کرنے کے احکامات دیئے ہیں۔ ہم نے تعلیم اور صحت کے شعبے کو اپنی اولین ترجیحات میں رکھا ہے۔ میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنایا ہے۔ تعلیم اور صحت سے ووٹ نہیں ملتا لیکن یہ قوم کی ضرورت ہے۔ ہم نے تمام اداروں میں اصلاحات کئے ہیں۔ گلگت بلتستان میں ایک ایم آر آئی مشین نہیں تھی ۔کسی اور جماعت کو توفیق نہیں ہوئی کہ گلگت بلتستان کو ایم آر آئی مشین فراہم کرے۔ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے گلگت بلتستان کے عوام کو ایم آر آئی مشین کا تحفہ دیا۔ ملک کی بدقسمتی ہے کہ یہاں کام کرنے والوں کیخلاف کارروائی ہوتی کام نہ کرنے والوں کو کوئی نہیں پوچھتا۔ ماضی کی حکومتوں نے اقتدار کو صرف عیاشی کا ذریعہ بنایا۔ گلگت بلتستان میں صرف عملی کام مسلم لیگ (ن) نے کیا۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ پنجاب کے عوام اور پنجاب کی سابق مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے گلگت بلتستان سے تعاون کیا کسی اور صوبے کو توفیق نہیں ہوئی۔ ہماری حکومت نے منصوبے ریکارڈ مدت میں مکمل کرائے ہیں ۔ ایسا وزیر اعظم جو دن رات صرف گالیاں دے اس کے کارکن کیسے ہوں گے۔ ہمارے قائدین نے ہمیں تہذیب سکھایا ہے۔ مسلم لیگ (ن) ہی تعمیر پاکستان کرے گی۔

تازہ ترین خبریں