05:24 pm
مسلم لیگ ن،پی ٹی آئی کوگلگت بلتستان میں مشکلات،سینئررہنماآمنے سامنے آگئے

مسلم لیگ ن،پی ٹی آئی کوگلگت بلتستان میں مشکلات،سینئررہنماآمنے سامنے آگئے

05:24 pm

گلگت ( خصوصی رپورٹ : سکندر حیات سے ) پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف جو وفاق اور صوبے میں بر سر اقتدار جماعتیں ہیں ان کے تنظیمی معاملات اور پارٹی رہنمائوں کی جانب سے ذاتی مفادات سمیت لیڈر شپ پر لگائے جانے والے مختلف الزامات کی وجہ سے شدید مشکلات سے دوچار ہوگئی ہیں پاکستان تحریک انصاف کے سابق صوبائی صدر اور موجودہ گورنر راجہ جلال حسین مقپون پر پارٹی کے اندر پسند و ناپسند کی بنیادوں پر عہدوں کی
تقسیم کے الزامات سمیت پارٹی امور میں ایک گروپ کی حمایت کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں اور یہ الزامات پارٹی کے پرانے کارکنوں اور سینئر رہنمائوں کی جانب سے سامنے آرہے ہیں اور گورنر راجہ جلال حسین مقپون پر صرف اپنے علاقے بلتستان پر دیگر اضلاع سے زیادہ ترجیحات دینا کے بھی الزامات عائد کئے جا رہے ہیں جبکہ حافظ حفیظ الرحمن کے پاس پارٹی کی صوبائی صدارت کا عہدہ بھی ہے پارٹی ورکروں کو نظر انداز کرنے کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں اس حوالے سے دیامر کے تین وزراء کھل کر سامنے آچکے ہیں جبکہ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف عملی طو رپر تین دھڑوں میں تقسیم ہوکر رہ گئی ہے جس کی وجہ سے صوبائی صدارت کا مسئلہ بھی اٹک کر رہ گیا ہے پاکستان تحریک انصاف کے رہنمائوں کے درمیان ماضٰ میں ہاتھا پائی اور جھگڑے کی صورت حال نے پارٹی کے اندرونی اختلافات کی شدت کو میڈیا کی زینت بنا دیا گیا جبکہ حالیہ دنوں اسلام آباد میں سیف اللہ نیازی کی زیر صدارت اجلاس میں بھی سینئر رہنما آپس میں دست و گریباں ہوکر ایک دوسروں کو مکوں سے نواز چکے ہیں موجودہ سیاسی صورتحال گلگت بلتستان کو بھی پارٹی کے سینئر رہنمائوں ، کارکنوں سمیت صوبائی کابینہ کے اہم وزراء کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے چار فروری 2019کو وزیر اعلیٰ کے کابینہ کے چار وزراء اور دو پارلیمانی سیکریٹریز نے مقتدر حلقوں اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے منع کئے جانے کے باوجود یوم یکجہتی کشمیر نہ منانے کے خلاف پریس کانفرنس اسلام آباد میں کر چکے ہیں اس کے علاوہ وزیر العیٰ کے دورہ دیامر پر دیامر کے ہی تین اہم وزیروں نے بائیکاٹ کرکے ساتھ جانے سے صاف انکار کر دیا ہے وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن کیر ویہ اسٹیبلشمنٹ کو وقت دیکر کارکنوں کو وقت نہ دینا اور اپنے پارٹٰ کے وزیروں کے حلقوں میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز کا ریلیز نہ کرنے اور اپوزیشن کو زیادہ فنڈز دینے سمیت سینر رہنمائوں میں مفادات کی جنگ یا اعلان بغاوت یا سیاسی وفاداریاں بدلنے کی ابتدائی کاوش جو چاہے کہہ سکتے ہیں ۔

تازہ ترین خبریں