05:32 pm
دیامرکے اجتماعی مفادکے وقت تینوں سلیکٹڈوزراء کھل کرسامنے آگئے،رحمت خالق

دیامرکے اجتماعی مفادکے وقت تینوں سلیکٹڈوزراء کھل کرسامنے آگئے،رحمت خالق

05:32 pm

گلگت( بیورورپورٹ) سابق پارلیمانی سیکریٹری و رہنماء جمعیت علماء اسلام رحمت خالق نے کہا ہے کہ چار سال حفیظ الرحمن سے زاتی مفادات اور مراعات لینے والے وزراء عین اس وقت وزیراعلیٰ کے خلاف کھل کر سامنے آگئے جب وزیراعلیٰ نے دیامر کے اجتماعی مفاد کا فیصلہ کرنا تھا، تینوں سلیکٹڈ وزراء کے پر جل جائیںگے لیکن وزیراعلیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیںگے ، ن لیگ میں حفیظ سے اہل کوئی اور ہے ہی نہیں جس کوآگے کیا جاسکے۔ داریل میں تمام ترقیاتی سکیموں کو بطور سیاسی رشوت تقسیم کیا گیا ، ہوا میں فیتے کاٹے گئے اور محکمہ تعمیرات و انتظامیہ نے ان کے لئے فنڈز بھی ریلیز کردئے
۔ حفیظ الرحمن کی جانب سے دیامر میں دو مزید اضلاع کا اعلان اجتماعی مفاد کومدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے جس پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔اوصاف سے گفتگو کرتے ہوئے سابق رکن و پارلیمانی سیکریٹری رحمت خالق نے کہا کہ دیامر کے تینوں وزراء چار سال تک وزیراعلیٰ سے مسلسل زاتی مفاداور مراعات لیتے رہے ہیں، اور اب کھل کر میدان میں صرف اس لئے آگئے ہیں کہ حفیظ الرحمن کو دبائو میں لاکر مزید مراعات اور زاتی مفادات حاصل کرسکیں، دیامر کے اجتماعی مفاد اور نئے اضلاع سے ان کی کوئی دلچسپی نہیں ہے اور نہ ہی ان کو فائدہ ہے۔ایسے ابن الوقت لوگوں سے حفیظ الرحمن کو بہت پہلے ہی دور رہنا چاہئے تھا ، وزیراعلیٰ اور تمام اداروں کو ایسے مطلبی اور مفاد پرست لوگوں پر نظر رکھنی چاہئے کہ کہیں کل یہ لوگ اپنے زاتی مفادات کے لئے گلگت بلتستان کا سودا نہ کردیں۔ وزیراعلیٰ اور دیامر کے اجتماعی مفاد کے خلاف کھڑے ہونے والے وزراء کا عوام اور اجتماعی مفاد سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے کیونکہ یہ لوگ بذات خود بھی سلیکٹڈ ہیں۔ ان وزراء کی نااہلی کی وجہ سے گزشتہ چار سالوں میں دیامر میں لوکل اے ڈی پی کا ایک بھی قابل ذکر منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا ہے ، داریل میں ترقیاتی منصوبے اور ٹھیکے سیاسی رشوت کے طور پر تقسیم کرنے والے حفیظ الرحمن کے خلاف اکھٹے ہوئے ہیں لیکن ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکیںگے۔انہوں نے کہا کہ شرمناک اور افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ وزراء ایسے وقت میں سامنے آگئے ہیں جب دیامر کے اجتماعی مفاد اور عوامی مفاد کی خاطر دو نئے اضلاع کا اعلان کیا جارہا تھا۔ حفیظ الرحمن کا ہم شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے نئے اضلاع کا اعلان کیا اور امید بھی کرتے ہیں کہ مقررہ وقت سے قبل ہی نوٹیفکیشن جاری کرکے نئے اضلاع کو فعال کریںگے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات تک وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت نظر نہیں آرہی ہے کیونکہ ان کی گولہ باری اور بمباری صرف غریب عوام پر مہنگائی کی شکل میں ہے ، زرہ برابر بھی بہتری نہیں آسکی ہے ، احتساب کے نام پر ڈرامہ کھیلا جارہا ہے تحریک انصاف کا احتساب اور تحقیقات کھودا پہاڑ نکلا چوہا ثابت ہونگے، باہر سے پیسے ملک لانے کے چکر میں یہ لوگ ملک کو دیوالیہ کریںگے۔ جے یو آئی کم از کم 10حلقوں سے لڑے گی اور ہمارا ہدف 6 نشستیں ہیں۔

تازہ ترین خبریں