05:20 pm
2010کے بعدسنیارٹی لسٹ میں ہونیوالی بے ضابطگیوں کی چھان بین کی جائے(پی ایم اے)

2010کے بعدسنیارٹی لسٹ میں ہونیوالی بے ضابطگیوں کی چھان بین کی جائے(پی ایم اے)

05:20 pm

گلگت ( اوصاف نیوز ) پیرامیڈیکل ایسوسی ایشن گلگت بلتستان کا ایک ہنگامی اجلاس سینئر میڈیکل ٹیکنیشن محمد ظاہر شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا ، اجلاس میں گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع سے پیرامیڈیکل سٹاف کی کثیر تعداد نے شرکت ، اجلاس میں قرار داد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ 2010کے بعد سنیارٹی لسٹ میں ہونے والی بے ضابطگیوں کی چھان بین کیلئے احتسابی عمل شروع کیا جائے جس کی بنیاد پر بعد ازاں سروس سٹریکچر میں جونئیر سٹاف کو پروموشن دی گئی ہے
، مخصوص تعلیمی کوائف ظاہر کرکے پروموشن حاصل کرنے والے پیرامیڈیکل سٹاف کی ایک فہرست مرتب کی جائے اور ان پیرامیڈیکس کی محکمانہ اجازت کے مروجہ لوازمات کی چھان بین کی جائے تاکہ سینئرز سٹاف کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ازالہ ہو سکے کیونکہ بہت سے پیرامیڈیکل سٹاف نے اپنی ڈیوٹی سٹیشن پر حاضر رہتے ہوئے مختلف تعلیمی کوائف کے تحت پروموشن حاصل کی ہے ، پیرامیڈیکل سروس سٹرکچرمیں دانستہ طور پر خیبر پختونخواہ کے ڈرافٹ سے متصادم نکات شامل کئے گئے اور سابقہ پیرامیڈیکل ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے محکمہ صحت کی سمری اور کے پی کے کے ڈرافٹ سے متضاد نوٹیفکیشن فنانس ڈیپارٹمنٹ سے جاری کروایا جس کی وجہ سے سروس سٹریکچر سے قبل سینئر سکیل 8اور 9میں موجود پیرامیڈیکل سٹاف کی سنیارٹی کا استحصال ہوا اور انٹر سی سنیارٹی کا نفاذ سکیل 9میں کرنے کی بجائے سکیل 16کیا گیا جس کے تحت مخصوص اور محدود پیرامیڈیکل سٹاف کو فائدہ ہوا لہذا انٹر سی سنیارٹی کی تعریف از سر نو سکیل 9سے کی جائے ، گلگت بلتستان میں مجوزہ سروس سٹریکچر کی از سر نو ری سٹریکچرنگ اور اپ گریڈیشن کو کے پی کے اور وفاق کے طرز پر دور جدید کی ضروریات اور تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے ، پیرامیڈیکل سٹاف میں پچاس فیصد ٹیکنیکل اور نان ٹیکنیکل کی تعریف کا خاتمہ کرکے تمام پیرامیڈیکل سٹاف کیلئے ابتدایء سکیل 12اور تمام ٹیکنیشن جو کہ سابقہ سروس سٹریکچر سے قبل سکیل 9میں تھے اور ان کیلئے ایریل کا مطالبہ کیا جاتا ہے ، ون ٹائم اپ گریڈیشن کی بجائے ٹائم سکیل کا مطالبہ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرز پر دیا جائے ، خیبر پختونخواہ کے مجوزہ اپ گریڈ سروس رول کی طرز پر پہلے سے موجود حاضر سروس مستند کوالیفائیڈ سٹاف کیلئے پروموشن کوٹہ میں مخصوص کوٹہ گلگت بلتستان کیلئے رکھا جائے تاکہ حاضر سروس ملازمین ہائیر پروموشن کے مواقع کی موجودگی کی وجہ سے اپنے اپنے شعبہ جات میں اپنی فنی استعداد کار کو بڑھا سکیں اور یوں شعبہ صحت میں تربیت یافتہ افرادی قوت کے دیرینہ مسئلے کو حل کیا جاسکے ۔ پیرامیڈ؁کل سٹاف ایسوسی ایشن گلگت بلتستان کی آئینی مدت 2013میں مکمل ہو چکی ہے اور اس کے بعد سے گلگت بلتستان میں صوبائی الیکشن ہونا باقی ہے لہذا محکمہ صحت کے حکام موجودہ غیر آئینی اور خود ساختہ ایسوسی ایشن کے نمائندوں کے کسی بات کو اہمیت نہ دیں اور ان کو کار سرکار سے الگ کیا جائے ، سروس سٹریکچر کے روح کے مطابق گلگت بلتستان کی سطح پر سنیارٹی لسٹ مرتب کی جائے تاکہ تمام سٹاف کے حقوق کا تحفظ ہو سکے ، موجودہ ڈی پی سی کا آرڈر گزشتہ سال چیف پیتھالوجی ٹیکنیشن اور چیف ریڈیالوجی ٹیکنیشن سکیل 16کی تاریخ سے موثر کیا جائے تاکہ مستقبل میں سکیل 16کے تمام سٹاف کو یکساں اپ گریڈیشن مل سکے جب تک فائنل سنیارٹی لسٹ مرتب نہیں ہوتی اس وقت تک تمام موجودہ ڈی پی سیز کو روکا جائے ۔ محکمہ صحت میں فاصلاتی نظام تعلیم کے بارے میں واضح پالیسی جاری کی جائے کیونکہ اس شعبے میں تھیوری کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل لازمی ہوتا ہے ، 2010اور اس سے قبل بہت سارے پیرامیڈیکل سٹاف نے فاصلاتی نظام کے اسناد کی بنیاد پر پروموشن لیکر سینئرز کو کراس کیا ہے جس کی وجہ سے سینئرز سٹاف کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے ۔