05:57 pm
کالج آف ایجوکیشن کا نیابلاک امام یاربیگ کے نام سے منسوب کرنیکامطالبہ

کالج آف ایجوکیشن کا نیابلاک امام یاربیگ کے نام سے منسوب کرنیکامطالبہ

05:57 pm

ہنزہ( عبدالمجید سے)عوامی حلقوں نے ارباب اختیار گورنر گلگت بلتستان ، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان ، فورس کمانڈر ناردرن ایریاز، وزیر تعلیم گلگت بلتستان ، اسپیکر گلگت بلتستان ، سیکریٹری ایجوکیشن گلگت بلتستان ، ڈائریکٹر جنرل ایجوکیشن گلگت بلتستان ، ڈائریکٹر ایجوکشن اکیڈمکس گلگت بلتستان ، ڈائریکٹر ایجوکیشن پلاننگ گلگت بلتستان ، پرنسپل /ڈائریکٹر گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن جوٹیال گلگت بلتستان ، پرنسپل ایلیمینٹری کالج آف ایجوکیشن
(برائے خواتین)جوٹیال گلگت بلتستان اور صدر ٹیچرز ایسو سی ایشن گلگت بلتستان سے پرزور اپیل کی ہے کہ گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن جوٹیال گلگت بلتستان جس کو پروفیسر عثمان علی کالج آف ایجوکیشن کا نام بھی دیا گیا ہے اسی کے کیمپس کے اندر کالج آف ایجوکیشن کی نئی تعمیر شدہ عمارت کی نئی بلاک کو امام یار بیگ سابقہ سربراہ یعنی پرنسپل /ڈائریکٹر گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن جوٹیال گلگت بلتستان کے نام منسوب کیا جائے کیونکہ اس ٹریننگ کالج کوترقی کی نئی منزلوں تک پہنچانے کا سہرا امام یار بیگ کے سر جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے اعلیٰ تعلیم یافتہ اعلیٰ خاندانی ر وایات کو برقرار رکھتے ہوئے اس ٹریننگ کالج کی ترقی کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑا ہے ۔گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن جوٹیال گلگت بلتستان کو جدید تقاضوں پر ترقی دینے کی ضرورت تھی لہٰذا محکمہ تعلیمات گلگت بلتستان کے اعلیٰ حکام ، چیف سیکریٹری گلگت بلتستان ، فورس کمانڈر ناردرن ایریاز اور میر غضنفر علی خان چیف ایگزیکٹیو گلگت بلتستان نے اس اہم ٹاسک کو سونپنے کیلئے امام یار بیگ ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن ضلع استور کو بہترین آفیسر سمجھ کر مارچ 2009؁ء میں ضلع استور سے گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن گلگت بلتستان تبدیل کیا ۔اُس وقت کالج آف ایجوکیشن جوٹیال گلگت میں ڈپلومہ ان ایجوکیشن اور بی ایڈ کا ایک سالہ کورسز چل رہے تھے ۔ کالج کی عمارت میں ایلمنٹری کالج آف ایجوکیشن (برائے خواتین) ، CIDکا ایک پروجیکٹ ، ناردرن ایریا زایجوکیشن اسسمنٹ سیل اور کالج آف ایجوکیشن (فار مین) ، چاروں پروگرام چل رہے تھے ، کالج کی ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولیات بالکل نہ ہونے کے برابر تھیں ۔ امام یار بیگ نے دن رات ایک کرکے سیکریٹری ایجوکیشن گلگت بلتستان اور چیف سیکریٹری گلگت بلتستان کو کالج کے حوالے سے مکمل بریفنگ دی اوریہ سال گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کا سال تھا اور سالانہ ترقیاتی پروگرام یعنیP ADسال-11 2010 رکھنا اور اسے منظور کرنا چیف سیکریٹری گلگت بلتستان کے اختیارات میں تھا ۔ امام یار بیگ نے انہی کو اعتماد میں لیکر انہی کے زریعے ADP 2010-11کے اسکیم میں چھ کروڑ 21 لاکھ روپے کی رقم منظور کرایا ۔ اسی ترقیاتی اسکیم کے تحت کالج آف ایجوکیشن جٹیال گلگت کی پرانی پوسٹوں کے علاوہ 80 مذید پوسٹیں یعنی پروفیسرز، لیکچررز اور دیگر اسٹاف کی پوسٹیں منظورکرایا۔ کالج کے پرنسپل کا بنیادی سکیل ۲۰ اور وائس پرنسپل کا سکیل ۱۹ کے عہدوں کو ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے منظور کرایا ۔ چار لیباریٹریز یعنی کمپیوٹر ، فزکس، بیالوجی اور کیمسٹری منظور کرایا ۔لیباریٹری سکول ، کلاس رومز ، کانفرنس ہال ، ڈائریکٹر کا ریذیڈنس ، کیفے ٹیریا ، ڈرائیورو چوکیدار روم ، ٹوائلٹس ، ڈائریکٹر اور سٹوڈنٹس ٹرانسپورٹ ، لیباریٹری ، لائبریری اور کالج کے سامان کیلئے ترقیاتی فنڈز مختص کرایا ۔علاوہ ازیں BSc. Ed (Honours) ، M.Ed اور Education M.Aکے ڈگری پروگرامز منظور کرایا ۔ USAID پروگرام کے تحت ا Associate Degree in Education کا دو سالہ ڈگری پروگرام بھی شروع کرایا ۔ کئی مرتبہ سالانہ امتحانات میں قراقرم انٹر نیشنل یونیورسٹی گلگت بلتستان سطح پر گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن جوٹیال گلگت بلتستا ن نے ٹاپ پوزیشن حاصل کیا ،امام یار بیگ سابقہ سربراہ (پرنسپل /ڈائریکٹر ) گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن جوٹیال گلگت بلتستان ، محکمہ تعلیمات گلگت بلتستان کے اندر انتہائی سینئر ،بہترین ایڈمنسٹریٹر ، اپنے شاگردوں ، رفقائے کار ، سینئرز اور معاشرہ کے ہر طبقہ فکر میں نہایت ہر دلعزیز ، فرض شناس ،صاف و شفاف ، باجرات و زیرک اور با اعتماد آفیسر شمار رکئے جاتے رہے ہیں ۔اُن کی بہترین صلاحیتوں کی روشنی میں اُنھیں اعلیٰ انتظامی عہدوں یعنی ڈسٹرکٹ انسپکٹر آف اسکولز گلگت ، ہنزہ ، نگر ،غذر اور فرسٹ ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن ضلع استور تعینات کیا گیا اور سال 2009 تا 2012 اُنھیں بحیثیت سربراہ کالج آف ایجوکیشن جوٹیال گلگت بلتستان فائز کیا گیا اور وہاں سے ریٹائرمنٹ ہوا۔ جہاں بھی رہے وہ ایک نہایت کامیاب اور قابل آفیسر رہے ہیں ۔ 1992 ؁ ء میں انہوں نے گلگت بلتستان سطح پر FPSC امتحان میں ٹاپ پوزیشن حاصل کیا اور Honorable Service Tribunal Gilgit Baltistan نے محکمہ تعلیمات گلگت بلتستان کی سفارشات کو برقرار رکھتے ہوئے 10/02/2008 سے ڈائریکٹر ایجوکیشن اکبر شہزاد کی جگہ بنیادی سکیل 20 سے نوازا ہے ۔ بحیثیت سربراہ تعلیمی ادارہ جات ،وفاقی وزارت تعلیمات حکومت پاکستان نے چار مرتبہ اسے ایوارڈ ز سے نوازاہے اور وزارت تعلیمات گلگت بلتستان نے سال 2011 میں گورنمنت کالج آف ایجوکیشن جوٹیال گلگت بلتستان کیلئے بحیثیت سربراہ اُن کے Outstanding and Remarkable services کے اعتراف میں ایوار ڈ سے نوازا گیا ،ورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن جوٹیال گلگت بلتستان کیلئے اُن کی تعلیمی خدمات کو ہر ذی شعور اور گلگت بلتستان کا ہرعلم دوست فرد انہیں لائق تحسین سمجھتا ہے ۔اچھی قومیں ایسی شخصیات اور قومی ہیروز کی قدر اُن کی زندگی ہی میں کرتی ہیں لہٰذا عوامی حلقے ، ارباب اختیار سے پر زور اپیل کرتے ہیں کہ گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن کی نئی تعمیر شدہ عمارت کی نئی بلا ک کو امام یار بیگ سابقہ سربراہ ( پرنسپل /ڈائریکٹر ) گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن جٹیال گلگت بلتستان کے نام منسوب کیا جائے اور یہی عین انصاف کا تقاضا ہے اور کسی قسم کی تعصب سے ہٹ کر میرٹ پر ان کی قدرہوگی۔انشاء اللہ ارباب اختیار اس گزارش کو سُن لیں گے ۔ ضرورت پڑنے پر صدر مملکت و وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف سے بھی گزارش کی جاسکتی ہے ۔