05:54 pm
چیف انجینئرغنڈہ گردی پراترآیا،کرپشن پراداروںکی خاموشی سمجھ سے بالاترہے(امجدایڈووکیٹ)

چیف انجینئرغنڈہ گردی پراترآیا،کرپشن پراداروںکی خاموشی سمجھ سے بالاترہے(امجدایڈووکیٹ)

05:54 pm

گلگت (چیف رپورٹر) پاکستان پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہاہے کہ 18 کروڑ کی لاگت کے چھشی 22 کلومیٹر روڑ کے ٹینڈر میں وزیر اعلیٰ کے قریبی ساتھیوں کو غیر قانونی طورپر شامل کرنے کے لئے چیف انجینئرایگزیکٹیو انجینئر پر دبائو ڈال رہا ہے چھشی روڑ کا آج ٹینڈر ہے اور افضل عثمانی اپنے ایک جوائنٹ ونج کے ساتھ ٹینڈر کے لئے کوالیفائی ہواہے چیف انجینئر گلگت ریجن بدھ کے روز ایگزیکٹیو انجینئر پر دبائو ڈالتے رہے
کہ پری کوالیفکیشن میں اونگزیب ،عطاء الرحمن اور منسٹر فدا خان کے فرنٹ مین کو بھی شامل کیاجائے اور NIT جاری ہونے کے بعدپری کوالیفکیشن میں کسی بھی ٹھیکیدار کو شامل ہونا غیر قانونی اقدام ہے لیکن چیف انجینئر گلگت بلتستان کے ڈویلپمنٹ فنڈز کو حفیظ الرحمن کے جیب میں ڈالنے کے لئے نہ صرف اپنے اختیارات کا غلط اور ناجائزاستعمال کررہا ہے بلکہ غنڈہ گردی پر اتر آیا ہے ۔چیف انجینئر کے کرپشن کی داستانوں سے ہر کوئی واقف ہے اور بعض طاقتور اداروں کی حصہ داری کا نام دیکر کی جانے والی کرپشن پرریاستی اداروں کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے ریاستی اداروں کو واضح کرنا ہوگا۔ امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہاکہ سپریم اپیلٹ کورٹ کی بلڈنگ کا ٹینڈر 12 کروڑ میں ہوا تھا لیکن 48 کروڑ روپے خرچ ہوئے اس طرح اسمبلی بلڈنگ کا ٹینڈر 26 کروڑ میں ہوا تھا 98 کروڑ روپے خرچ کئے گئے 4 سالوں میں گلگت شہر کی سڑکوں کی 2 مرتبہ ری کارپٹنگ کی گئی اور 40 کروڑ سے زائد روپے خرچ کئے گئے جبکہ گلگت شہر کی سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کررہی ہیں اور سڑکوں کی ری کارپٹنگ کا نہ کوئی ٹینڈر ہوا اور نہ ہی کوئی اور ضابطہ پورا کیاگیا کوئی پوچھنے والا نہیں اگر کوئی پوچھے تو کہتا ہے کہ CM ،چیف سیکریٹری اور طاقتور حلقے میرے ساتھ کھڑے ہیں۔ چیف انجینئر نے یہ بھی واضح پیغام دیا ہے کہ وہ ن لیگ کا نمائندہ ہے سرکاری آفیسر نہیں ن لیگ کا نمائندہ کیسے گریڈ 21 کا آفیسر ہوسکتا ہے ۔امجد حسین ایڈووکیٹ نے مزید کہاکہ چار سالوں میں تمام آفیسرز کے تبادلے ہوئے لیکن چیف انجینئر کا تبادلہ نہیں ہورہا ہے یہ کیسا قانو ن ہے ۔سیکریٹری تعمیرات کے دفتر میں میرے ساتھ لڑائی کی اور منسٹر انفارمیشن کے ذریعے بیان شائع تو کروایا ،سمجھ میں نہیں آرہا چیف انجینئر سرکار کا ملازم ہے یا منسٹر انفارمیشن چیف انجینئر کا ملازم انسٹا کوٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اخبارات میں بیانات دے رہا ہے ۔آفیسرز اور سیاستدانوں کو گالیاں دے رہا ہے ایسا لگتا ہے جیسے چیف سیکریٹری اور چیف انجینئر نے غنڈہ بیٹھایا ہو اہے اگر اداروں نے کوئی ایکشن نہیں لیا تو چیف سیکریٹری آفس کے باہر دھرنا ہوگا۔

تازہ ترین خبریں