10:23 am
دنیا کا سب سے موٹا بچہ ، 3برسوں میں خود کو بدلنے میں کیسے کامیاب ہوا ؟اس نے یہ کیسے کیا؟

دنیا کا سب سے موٹا بچہ ، 3برسوں میں خود کو بدلنے میں کیسے کامیاب ہوا ؟اس نے یہ کیسے کیا؟

10:23 am

اسلام آباد(نیو زڈیسک)آج سے لگ بھگ 3 سال قبل انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والا ایک بچہ آریا پرمانا اس وقت دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گیا جب اسے دنیا کا سب سے موٹا بچہ قرار دیا گیا۔اس وقت بچے کی عمر 10 سال تھی اور اس کا وزن 192 کلوگرام تک ہوچکا تھا مگر اب 3 سال بعد وہ مکمل طور پر بدل چکا ہے۔نوڈلز،
میٹھے مشروبات اور تلی ہوئے پکوان کھانے کی عادت کے نتیجے میں اس بچے کا وزن 192 کلوگرام تک پہنچ گیا تھا اور وہ اتنا زیادہ ہوگیا تھا کہ چلنے پھرنے سے معذور ہوگیا تھا جس کے بعد والدین کو اسکول سے نکال کر گھر میں ہی اسے پڑھانا پڑا۔یہ جسمانی وزن اس کی زندگی کے لیے بھی خطرہ بن گیا تھا جس کے بعد یہ دنیا کا سب سے کم عمر فرد بنا جس نے جسمانی وزن کم کرانے والی سرجری کرائی۔اس سرجری سے کے دوران آریا کی غذا پر سخت پابندی لگائی گئی اور گرل فش اور سبزیوں تک محدود کردیا گیا جس کے نتیجے میں اب اس بچے کا وزن کم ہوکر 106 کلوگرام تک پہنچ چکا ہے یعنی لگ بھگ 50 فیصد وزن کم کرنے میں کامیاب رہا مگر اس کے نتیجے میں اب اسے کھال لٹکنے کے مسئلے کا سامنا ہے۔اسے ایک سرجن نے اس لٹکنے والی کھال امتحانات کے بعد نکالنے کی پیشکش کی ہے۔جب اس کا وزن بڑھ رہا تھا اس کے والدین نے صحت بخش غذا کھلانے کی کوش کی مگر اس کے مطالبات کے سامنے ہار مان لی۔آریا کے والد کے مطابق اس زمانے میں یعنی جب وہ ساڑھے 5 سال کا تھا تو وہ اتنا موٹا ہوچکا تھا کہ مجھے اعتراف کرنا پڑا کہ میں نے اسے خراب کردیا ہے۔ان کے بقول وہ جو کچھ بھی کھانے پینے کو مانگتا، ہم اسے دے دیتے۔یہی وجہ تھی کہ دن میں 5 بار بہت زیادہ خوراک جزو بدن بناتا جس کے نتیجے میں وہ بتدریج اتنا موٹا ہوگیا کہ پانچ میٹر تک چلنے پر بھی سانس پھول جاتی۔مغربی جاوا سے تعلق رکھنے والے اس خاندان نے آغاز میں بچے کی سرجری کرانے سے انکار کیا مگر جب احساس ہوا کہ اس سے زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے تو پھر تیار ہوگئے۔جکارتہ میں اس کی 5 گھنٹے کی سرجری ہوئی جس کے ایک ماہ بعد اس کا وزن 70 پونڈ کم ہوگیا اور اس میں کمی آتی چلی گئی۔مگر وہ بچہ طرز زندگی میں تبدیلی پر زیادہ خوش نہیں تھا اور شروع میں چڑچڑا رہتا تھا کیونکہ اسے اپنے دل پسند مشغلے کھانے سے دوری اختیار کرنا پڑی تھی، مگر سرجری کے بعد زیادہ کھانے پر اسے الٹی ہوجاتی۔پھر وہ مچھلی، سبزیوں، سوپ اور پھلوں تک ہی محدود ہوگیا جس سے وزن اتنا کم ہوگیا کہ وہ روزانہ اسکول تک ایک میل چلنے کے قابل ہوگیا اور پھر بھی اتنی توانائی باقی ہوتی ہے کہ دوستوں کے ساتھ کھیل پاتا۔اب وہ فٹبالر بننے کا خواب دیکھتا ہے جو اس سے پہلے وہ کھیلنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔جسمانی وزن میں کمی کے بعد وہ خوش مزاج بھی ہوگیا جس کی وجہ دوستوں کے ساتھ کھیلنے کا موقع ملنا تھا، جبکہ وہ پہلے سے زیادہ پراعتماد بھی ہوگیا۔مگر جسمانی وزن میں اتنی زیادہ کمی کے نتیجے میں بازؤں اور سینے پر کھال لٹکنا شروع ہوگئی اور بچے کو توقع ہے کہ ایک اور سرجری سے اس مسئلے سے نجات مل جائے گی۔

تازہ ترین خبریں