06:01 am
بھارتی سپریم کورٹ نے ’’بابری مسجد ‘‘ تنازعے کا فیصلہ سنا دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے ’’بابری مسجد ‘‘ تنازعے کا فیصلہ سنا دیا

06:01 am

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) آج ایودھیا سمیت بھارت میں سیکیورٹی سخت تھی ۔ پاکستان اور بھارت کے مسلمانوں کیلئے انتہا ئی خاص دن تھا کیونکہ آج کے دن بھارتی تاریخ کے طویل ترین تنازع ’’ بابری مسجد ‘‘ کی شہادت کا فیصلہ سنایا گیا ۔ سپریم کورٹ میں 40 روز تک جاری رہنے والے بابری مسجد کیس کی سماعت 16 اکتوبر 2019 مکمل ہوئی، جس کے بعد فیصلہ محفوظ کیاگیا
جبکہ عدالت نے فریقین کو مزید دلائل جمع کرانے کیلئے 3 دن کی مہلت بھی دی تھی۔ سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے ستمبر 2010 کے فیصلے کے خلاف دائر 14 اپیلوں پر سماعت کی جس میں سنّی وقف بورڈ، نرموہی اکھاڑہ اور رام لالہ کے درمیان ایودھیا میں 2.77 ایکڑ متنازع زمین کو برابر تقسیم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ سماعت کے آخری روز مسلمانوں کی جانب سے سینیئر ایڈوکیٹ راجیو دھون نے ہندو فریق کی جانب سے پیش کیے گئے نقشے کو مسترد کرتے ہوئے پھاڑ دیا جس کے بعد عدالت میں فریقین کے درمیان گرما گرمی بھی ہوئی تاہم ہندو فریق کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا۔ ٓبھارتی سپریم کورٹ نے آج جو فیصلہ سنایا اس کے مطابق مسلمانوں کو بابری مسجد کی جگہ متبادل جگہ دی جائے گی اور بابری مسجد کی جگہ مندر بنانے کا حکم دیا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ ہندو ایودھیا کو اپنے بھگوان رام کی جنم بھومی کہتے ہیں جبکہ مسلمانوں کیلئے یہ بابری مسجد ہے جسے 1992میں شہید کیا گیا تھا لہذا آج کے فیصلے کو اگر بھارتی عدالتی تاریخ کا سیاہ ترین دن کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا ۔

تازہ ترین خبریں