10:39 am
سوئی گیس کی عدم دستیابی ،علاج ،معیاری تعلیم سمیت کوئی بھی شہری سہولت دستیاب نہیں ،میاں محمد

سوئی گیس کی عدم دستیابی ،علاج ،معیاری تعلیم سمیت کوئی بھی شہری سہولت دستیاب نہیں ،میاں محمد

10:39 am

میرپور (نمائندہ اوصاف)سوئی گیس کی عدم دستیابی ،علاج ،معیاری تعلیم سمیت کوئی بھی شہری سہولت دستیاب نہیں ۔میاں محمد روڈ منجوڈروہ کی باقیات کا منظر پیش کر رہی ہے حکمران پچھلے 70سالوں سے انسانی بنیادی ضرورت پینے کے صاف پانی تک مہیا نہیں کر سکے حکمرانوں کے اس ظلم و جبر کے خلاف شہریوں کو بیدار اور متحد و منظم کرنے کے لیے شہر کے تمام سیکٹروں میں ڈور ٹو ڈور جائیں گے ۔ان خیالات کا اظہار تحفظ حقوق کمیٹی میرپور کے رہنمائوں انجمن تاجراں کے صدر چوہدری علی اصغر ،جے کے پی این پی کے ضلعی صدر شبیر قادری ،جے کے ایل ایف کے ضلعی صدر سعد انصاری ایڈووکیٹ ،جے کے ڈبلیو ایس او کے مرکزی چیف آرگنائزر عثمان شوکت ،جے کے این اے پی کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری امان اللہ غازی ،صدر و کرز پارٹی رضوان کرامت ،
خاور شریف ایڈووکیٹ ،ناظم حسین اور دیگر نے میاں محمد ٹائون میں احتجاجی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس دوران شدید نعرے بازی کی گئی ظلم و ستم ہائے ہائے ،پانی دو پانی دو شہریوں کو پانی دو ،گیس دو گیس دو شہریوں کو گیس دو ،بجلی دو بجلی دو شہریوں کو بجلی دو ،علاج دو علاج دو شہریوں کو علاج دو ،تعلیم دو تعلیم دو شہریوں کو تعلیم دو ،سڑک دو سڑک دو شہریوں کو سڑک دو روزگار دو روزگار دو شہریوں کو روزگار دو ،رٹھوعہ ہریام پال مکمل کرو احتجاجی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ آج جدید دنیا کے شہریوں کو جو بنیادی حقوق حاصل ہیں اس کے مقابلے میں آزادکشمیر کے شہری تمام بنیادی حقوق سے نسل در نسل محروم چلے آ رہے ہیں اگر ہم جدید دنیا کے شہریوں کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انہیں جو حقوق حاصل ہیں کیا وہ ہمیشہ سے حاصل تھے ؟ تو جواب منفی میں ہو گا ۔جدید دنیا کے شہریوں نے بنیادی حقوق کی بازیابی کے لیے طویل جدوجہد کی ہے وہاں کی سیاسی وسماجی تنطیموں اور شہریوں نے لاتعداد قربانیاں دی ہیں پھر جا کے انہیں بنیادی حقوق حاصل ہوتے ہیں ۔اس طرح اگر ہمیں بھی حقوق حاصل کرنے ہیں تو ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ہر فرد جو سیاسی وسماجی کردار ادا کرتا ہے اس کا پورے معاشرے پر گہرا اثر ہوتا ہے ایک معاشرے کے اندر فرد کے دو ہی کردار ہوتے ہیں یا تو وہ ظلم و جبر کے خلاف عملی ور پر جدوجہد کر رہا ہوتا ہے یا ظلم و جبر کرنے والا یا اس کا حمایتی ہوتا ہے اگر وہ خاموش رہتا ہے اور خاموشی سے ظلم و جبر کو برداشت کرتا ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ ظالم کاساتھ دے رہا ہے سماج کی اکثریت غلط کو غلط سمجھتی ہے اور ظلم و جبر کا شکار بھی ہورہی ہوتی ہے لیکن عملی طورپر جدوجہد کا حصہ نہیں بنتی جس کی وجہ سے ظلم و جبر کی رات طویل ہو جاتی ہے ۔

تازہ ترین خبریں