09:51 am
خیبرپختونخواحکومت نے ضم شدہ اضلاع میں توانائی ایکشن پلان ترتیب دیدیا

خیبرپختونخواحکومت نے ضم شدہ اضلاع میں توانائی ایکشن پلان ترتیب دیدیا

پشاور(نیو زڈیسک) خیبرپختونخواحکومت نے صوبے میں ضم شدہ قبائلی اضلاع میں پائے جانے والے توانائی کے قدرتی ذخائر کو یہاں کا قیمتی خزانہ قرار دیتے ہوئے ان کو بروئے کار لانے کے لئے ایک جامع پروگرام ترتیب دے دیا ہے۔خیبر پختونخوا کے مشیر برائے توانائی حمایت اللہ خان نے وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ محمود خان کی ہدایات کی روشنی میں صوبے کے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے دوروں کا آغاز کردیا ہے۔ مشیر توانائی حمایت اللہ خان پہلے مرحلے میں مہمند اور باجوڑ گئے

 جہاں انہوں نے توانائی کے دستیاب وسائل پر مقامی انتظامیہ سے آگاہی حاصل کی۔مہمند اور باجوڑ میں ڈپٹی کمشنرز نے صوبائی مشیر کو اپنے اپنے اضلاع میں پائے جانے والے آبی ذخائر اور ان سے سستی ترین بجلی پیدا کرنے کے دستیاب وسائل پر جامع بریفنگ دی۔قبل ازیں قبائلی اضلاع آمد پر مشیر توانائی کا مقامی انتظامیہ اورعمائدین کی جانب سے پرجوش استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مشیر توانائی حمایت اللہ خان نے کہا کہ قبائلی اضلاع توانائی کے ذخائر سے مالامال ہیں جن کو بروئے کارلانے کے لئے صوبائی حکومت نے جامع پلان ترتیب دے رکھا ہے۔ محکمہ توانائی اور اس کے ذیلی اداروں کو نئے اضلاع تک وسعت دے کر یہاں مقامی دفاتر جلد کھولے جائیں گے۔قبائلی اضلاع کے کامیاب دورے کے بعد مشیر توانائی ضلع اپر دیر میں زیر تعمیر40میگا واٹ کے ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر گئے اور وہاں پر جاری کام کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ پن بجلی گھر رواں سال مکمل کرلیا جائے گا، جس سے صوبے کو سالانہ اربوں روپے کی آمدن شروع ہوجائے گی۔ انہوں نے ضلع لوئیر دیر میں 102میگاواٹ کے شوگو کچ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر بھی کام کی رفتارکاجائزہ لیا۔ صوبائی مشیرتوانائی لوئیر دیرمیں تعمیر ہونے والے منی مائیکروہائیڈل پراجیکٹ کی جگہ پر بھی گئے جہاں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ رواں سال توانائی کے بڑے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے متعدد منصوبے کامیابی کے ساتھ مکمل کرلئے جائیں گے۔