04:20 pm
 ’’نواز شریف کابینہ کے ان 43 اہم ترین رہنماؤں کو اسی مہینے گرفتار کر لیا جائے گا ۔۔۔‘‘

’’نواز شریف کابینہ کے ان 43 اہم ترین رہنماؤں کو اسی مہینے گرفتار کر لیا جائے گا ۔۔۔‘‘

اسلام آباد(مانیترنگ ڈیسک)سابق وزیر اعظم نواز شریف کی کابینہ کے ممبران کیخلاف کرپشن تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں جس کے نتیجہ میں ایک ماہ کے اندر اند کابینہ کے تمام ممبران کو گرفتار کرلیا جائیگا،نواز شریف کابینہ کے ارکان نے 5سالوں میں کھربوں روپے کی کرپشن ، مالی بد عنوانیوں میں ملوث پائے گئے نجی خبر رساں ادارے (آن لائن) نے ذرائع سے ملنے والی معلومات کے حوالے سے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے 

اسلام آباد(مانیترنگ ڈیسک)سابق وزیر اعظم نواز شریف کی کابینہ کے ممبران کیخلاف کرپشن تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں جس کے نتیجہ میں ایک ماہ کے اندر اند کابینہ کے تمام ممبران کو گرفتار کرلیا جائیگا،نواز شریف کابینہ کے ارکان نے 5سالوں میں کھربوں روپے کی کرپشن ، مالی بد عنوانیوں میں ملوث پائے گئے نجی خبر رساں ادارے (آن لائن) نے ذرائع سے ملنے والی معلومات کے حوالے سے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے

 

کہ  نواز شریف کابینہ کے ممبران کی مبینہ کرپشن کے خلاف تحقیقات ریاست کے اہم اداروں نیب اور  ایف آئی اے نے شروع کررکھی تھیں جبکہ یہ تحقیقات تحریک انصاف کی حکومت سے پہلے ہی شروع ہوچکی تھیں۔نواز شریف کابینہ کے بعض ممبران کی کرپشن کی نشاندہی آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے بھی اپنی رپورٹ میں کی تھی ۔ نواز شریف اور انکے بھائی شہباز شریف پہلے ہی کرپشن اور بد عنوانی کے الزامات پر جیل میں بند ہیں جبکہ اب دوسرے مرحلے میں نواز شریف کابینہ کے ممبران کو فوری گرفتار کیا جائے گا جبکہ نواز شریف کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار پہلے ہی ملک سے فرار ہو کر لندن میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ اسحاق ڈار پر احتساب عدالت میں کرپشن کا مقدمہ زیر سماعت ہے جس کا بہت جلد فیصلہ سنایا جائے گا۔ نواز شریف کابینہ کے اہم ممبر  اور سابق وزیر خارجہ خواجہ محمد  آصف پر نندی پور منصوبہ میں مبینہ کرپشن اور اقامہ رکھنے کا الزام ہے، انہیں بھی گرفتار کرلیا جائیگا۔نواز شریف  کابینہ کے اہم رکن  اور سابق وزیر داخلہ احسن اقبال پر اربوں کی کرپشن کا الزام ہے،ان پر  ملتان سکھر موٹروے کے علاوہ نارووال میں سٹیڈیم کے نام پر6ارب کی مالی کرپشن کا الزام ہے، احسن اقبال بھی بہت جلد گرفتار ہونیوالوں میں شامل ہیں۔ نواز شریف دور کے وزیر مواصلات اور موجودہ سینیٹر  حافظ عبدالکریم پراربوں روپے کی کرپشن کا الزام ہے جبکہ ان پرڈی جی خان میں واقع  ذاتی یونیورسٹی میں طلباء سے بھاری فیسیں وصول کرنے کا بھی الزام ہے۔نواز کابینہ میں وزیر تجارت کے عہدے پر فائز رہنے والے خرم دستگیر پر بھی  ناجائز اثاثے بنانے اور شوگر ملوں کو 5ارب دینے کا الزام ہے جبکہ ان پر ملکی خزانے کو لوٹنے کا بھی الزام ہے۔نواز شریف کابینہ کے  ایک اور اہم رکن اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما  سینیٹر پرویز رشید او ر سابق  وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب پر 15ارب روپے کے سرکاری اشتہارات میں مالی بدعنوانی کا الزام ہے، ان کیخلاف تحقیقات مکمل ہیں جبکہ پی ٹی وی 27کروڑ روپے کے سکینڈل میں پرویز رشید گرفتار کرلیے جائیں گے۔نواز  کابینہ کے ممبر کامران مائیکل پہلے ہی 2ارب روپے کے سکینڈل میں گرفتار ہوچکے ہیں جبکہ حاصل بزنجو  کیخلاف بھی بھاری کرپشن اور پنجاب کے پانچ شہروں میں بھاری جائیدادیں بنانے کا الزام ہے جن پر تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں۔نواز  کابینہ کے ایک اور ممبر اور جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما ،سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا  اکرام خان  درانی پر وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس میں بھاری بد عنوانی کے الزامات ہیں جس کے تحت  وہ بھی جلد گرفتار کر لئے  جائیں گے۔نجی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کابینہ کے وزیر مذہبی امور سردار یوسف پر حج کوٹہ میں مالی بد عنوانی کا الزام ہے جسکے تحت وہ بھی  جلد ہی  گرفتار کرلیے جائیں گے ۔ نواز شریف کے بھانجے اور سابق وزیر مملکت عابد شیر علی پر توانائی میں مبینہ کرپشن کا الزام ہے جبکہ سابق  وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق پہلے ہی کرپشن پر جیل میں موجود ہیں جبکہ سابق وزیر اعظم  شاہد خاقان عباسی بطور وزیر پٹرولیم اور سابق سیکرٹری پٹرولیم ارشد خان اس ماہ ایل این جی کرپشن سکینڈل میں گرفتار کرلیے جائیں گے ۔ نجی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے مشیر امیر مقام نے کرپشن کے ذریعے 16جائیدادیں بنا ئی تھیں جن کے ثبوت نیب کے پاس موجود ہیں، انہیں بھی جلد ہی گرفتار کیا جائے گا۔ سابق وزیر خوراک سکندر بوسن کے دور میں زیتون آگاؤں 13ارب کرپشن سکینڈل کی تحقیقات بھی آخری مرحلہ میں ہیں۔ سابق  وزیر سرحدی امور جنرل (ر)قادر بلوچ سے فاٹا سیکرٹریٹ میں ہونے والی اربوں روپے کی کرپشن کی بابت پوچھ گچھ کی جائے گی۔سابق  وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ سے زائد اثاثے اور اربوں کی کرپشن کے الزامات ہیں اور اہم ثبوت مل چکے ہیں جس کے نتیجہ میں انہیں گرفتار کرلیا جائیگا،سائرہ افضل تارڑ پر  بالخصوص دوائیوں کی قیمتوں میں اضافے میں مبینہ مالی بدعنوانی شامل ہے۔ نواز شریف کے مشیر ہوابازی شجاعت عظیم  پی آئی اے کے طیاروں کی فروخت سکینڈل میں گرفتار ہوں گے ۔سابق  وزیر امور کشمیر برجیس طاہر پر بھی اپنی وزارت میں بھاری مالی بد عنوانی کے الزامات کا سامنا ہے ۔ سابق وزیر  پارلیمانی امور شیخ آفتاب کیخلاف سرکاری فنڈز میں مالی بد عنوانی کا الزام ہے،نواز شریف نے انہیں بھاری فنڈزدے رکھے تھے جس پر تحقیقات مکمل ہونے والی ہیں۔ نواز شریف کابینہ کے دیگر ممبران ریاض پیر زادہ ، بلیغ الرحمان ، عثمان ابراہیم ، امین الحسنات کو بھی گرفتار کیے جانے کا امکان ہے۔ نواز شریف کے قریبی ساتھی سابق  وزیر مملکت انوشتہ رحمان پر بھاری مالی بد عنوانی کے الزامات کی تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں اور جلد گرفتار ہونیوالی ہیں۔سابق وزیر ماحولیات سینیٹر مشاہد اللہ پر بھاری مالی اثاثے بنانے کا الزام ہے اور نیب حکام نے ان کے خلاف بھی تحقیقات مکمل کر لی ہیں۔