03:35 pm
حکومت نے سرکاری ملازمین کو بہت بڑی خوشخبری سنا دی

حکومت نے سرکاری ملازمین کو بہت بڑی خوشخبری سنا دی

03:35 pm

اسلام آباد (آئی این پی )حکومت نے وفاقی دارالحکومت اسلام آبادمیں سرکاری رہائش گاہ کی سہولت حاصل کرنے والے ملازمین کی تنخواہ سے 5 فیصد کٹوتی نہ کرنے کا فیصلہ کرلیاکہ وزیرخزانہ اسد عمر نے سرکاری ملازمین کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ سی ڈی اے یا اسٹیٹ آفس کی طرف دیکھنے کے بجائے گھروں کی مرمت خود کریں گے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت کے اس فیصلے پر عمل درآمد اگلے مالی سال ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے کیٹپل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) امور علی اعوان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت نے فیصلہ کیا ہے کیونکہ ہم نہیں سمجھتے کہ کم کی جانے والی رقم کو بہتر انداز میں استعمال نہیں کیا جارہا ہے۔اسلام آباد سے منتخب ہونے والے پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے رکن اسمبلی نے کہا کہ وزیرخزانہ اسد عمر نے سرکاری ملازمین کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے
اور وہ سی ڈی اے یا اسٹیٹ آفس کی طرف دیکھنے کے بجائے گھروں کی مرمت خود کریں گے۔خیال رہے کہ اسد عمر نے پاکستان مسلم لیگ (ن)کی حکومت میں اس کٹوتی کو حرام قرار دیا تھا اور قومی اسمبلی میں اس قدم کو روکنے کے لیے قرار داد منظور کرالی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت گھروں کی مرمت کی مد میں ہرماہ کٹوتی کرتی ہے لیکن اس کو مینٹی نینس کے لیے استعمال نہیں کرتے۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں 19 ہزار سرکاری گھر اور 1500 فلیٹ ہیں۔اسٹیٹ آفس اور سی ڈی اے پر سرکاری گھروں کی مرمت کی ذمہ داری ہے، سی ڈی اے وفاقی دارالحکومت میں 10 ہزار گھروں کی دیکھ بھال کرتی ہے۔علی اعوان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ایک فیصلہ یہ بھی کیا ہے کہ سی ڈی اے کو مستقبل میں رہائیشیوں سے سیکٹرز کی تعمیر کے لیے زمین حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ سی ڈی اے مقامی افراد سے معمولی قیمت پر زمین حاصل کرتی ہے اور پھر اس کو رہائشی اور کمرشل پلاٹس کے طور پر مہنگے داموں فروخت کرتی ہے جو ایک ناانصافی ہے اور ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے۔رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کا سب سے بڑا مسئلہ اس کے ماسٹر پلان سے جڑا ہوا ہے جس پر اب پہلی ترمیم کی جارہی ہے۔علی اعوان نے کہا کہ ناجائز تعمیرات کی ریگولرائزیشن سمیت دیگر مسائل حل کردیے جائیں گے۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے یکم اکتوبر 2018 کواسلام آباد میں بنی گالہ میں تجاوزات سے متعلق کیس میں سروے آف پاکستان کی رپورٹ کی روشنی میں کورنگ نالے کے اطراف قائم تجاوزات گرانے کا حکم دیا تھا۔سماعت کے دوران سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے تھے کہ وزیر اعظم عمران خان سپریم کورٹ میں درخواست لے کر آئے تھے، علاقے کو ریگولرائز کرنا حکومت کا کام ہے، سب سے پہلے ریگولرائزیشن کی فیس وزیر اعظم کو ادا کرنا پڑے گی، عمران خان سب سے پہلے ریگولرائزیشن کی مد میں رقم جمع کروائیں۔سابق چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تجاوزات کو کیسے ختم کیا جائے، بنی گالہ میں تجاوزات کے علاوہ سیکیورٹی اور آلودگی جیسے مسائل بھی ہیں، تاہم اب نئی حکومت آگئی ہے اس کو چاہیے کہ وہ ان معاملات کو فوری حل کرے۔

تازہ ترین خبریں