02:55 pm
کام تیز کردیاگیا

کام تیز کردیاگیا

02:55 pm

کراچی (ویب ڈیسک) چین نے کہا ہے کہ وہ ایف 16 جنگی طیارے کے جدید ترین ماڈل کے مقابلے پر JF-17 بلاک تھری لڑاکا طیارہ جلد بنا لے گا۔ چینی اخبار چائنا ایوی ایشن نیوز کے مطابق اس طیارے کے چیف ڈیزائنر رکن پارلیمنٹ یانگ وی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین اور پاکستان مشترکہ طور پر JF-17 بلاک تھری طیارے کو ڈیویلپ کررہے ہیں۔اس طیارے کی خصوصیات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طیارے کے پائلٹ کے ہیلمٹ میں ایک منفرد نظام نصب ہو گا، اس کی بدولت پائلٹ کو طویل فاصلے پر موجود اشیاء نظر آ سکیں گی، یہی نہیں بلکہ اس سسٹم کی بدولت پائلٹ نظر آنے والی ہر چیز کو نشانہ بنا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس طیارے کو استعمال کرنے والے ممالک میں سر فہرست ہو گا،
اسے طیارے کے بارے میں مزید تکنیکی معلومات فراہم کی جائیں گی۔پاکستان ان تکنیکی معلومات سے بھرپور استفادہ کر سکتا ہے ۔ JF-17 بلاک تھری لڑاکا طیارہ اور اس میں موجود سسٹمز کو پاکستان پوری طرح استعمال کرے تو یہ طیارہ نہ صرف بھارت بلکہ کسی بھی ملک کی جانب سے فضائی جارحیت کو ناکام بنانے کے لیے بہت مؤثر ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ JF-17 بلاک تھری لڑاکا طیارے کی ڈیولپمنٹ اور بیچ پروڈکشن (BATCH PRODUCTION) بیک وقت کی جاری ہے ۔ اس طیارے میں AESA ریڈار نصب ہو گا، اسے بھی اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔چینی عہدیدار نے بتایا کہ JF-17 بلاک تھری لڑاکا طیارے کی اپ گریڈیشن کی بدولت ہتھیاروں اور انفارمیشن سسٹم سمیت اس کی جنگی صلاحیتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو جائے گا۔ نامور چینی دفاعی ماہر وی ڈون زو نے بتایا کہ اس طیارے میں ایسا ریڈار نصب کیا جائے گا، جس میں متعدد الیکٹرانک آلات ایک خاص ترتیب سے نصب ہوں گے ، ان آلات کی بدولت پائلٹ چار اہداف کو بیک وقت نشانہ بنا سکتا ہے۔یانگ وی نے مزید بتایا کہ طیارے کے مختلف آلات پر تیزی سے کام جاری ہے ، ان آلات کے مکمل ہوتے ہی نہات تیزی کے ساتھ انہیں نصب کرنے کا عمل شروع کر دیا جائے گا تاکہ ان طیاروں کو جلد از جلد پاکستان اور دیگر خریدار ممالک کے حوالے کیا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ JF-17 بلاک تھری طیارے کو ایف سی ون بھی کہا جاتا ہے ، یہ ایک انجن والا ملٹی رول لائٹ فائٹر طیارہ ہے ، ہم پاکستان کے ساتھ اشتراک عمل کرتے ہوئے اس طیارے کی ڈیویلپمنٹ اور پروڈکشن کا عمل نہایت تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ متعدد ممالک نے اس لڑاکا طیارے کو خریدنے کے لیے رابطہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو ملک ہم سے معاہدہ کرنے کے بعد یہ طیارہ خریدے گا وہ اس کی خوبیوں اور اس میں موجود آلات سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے گا۔ دنیا بھر کے جنگی ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ JF-17 بلاک تھری لڑاکا طیارہ ایک جانب متعدد تکنیکی خوبیوں کا مالک ہو گا تو دوسری جانب با کفایت بھی ہو گا کیوں کہ خوبیوں کی نسبت اس کی لاگت کم ہو گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ ملائیشیا لڑاکا جیٹ طیاروں کی خریداری کا خواہش مند ہے ، وہ بھارتی طیارے تیجاز اورجنوبی کوریا کے FA-50 طیاروں کا بھی جائزہ لے رہا ہے لیکن ملائیشیا کی زیادہ توجہ چین اور پاکستان کی جانب سے مشترکہ طور پر بنائے جانے والے JF-17 بلاک تھری لڑاکا طیارے پر مرکوز ہے ۔ واضح رہے کہ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق میانمار اور نائیجیریا JF-17 بلاک تھری لڑاکا طیارے پہلے ہی خریدچکے ہیں۔