05:05 pm
جلد ہی ٹی وی پروگرام پر کیا ہونے والا ہے  پاکستانیوں کےلئے انتہائی دلچسپ خبر

جلد ہی ٹی وی پروگرام پر کیا ہونے والا ہے پاکستانیوں کےلئے انتہائی دلچسپ خبر

05:05 pm

اسلام آباد (آئی این پی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے وزیر خزانہ اسد عمر کا مناظرے کا چیلنج قبول کرلیا،وزیر خزانہ اسد عمر نے مفتاح اسماعیل کو ٹی وی ٹاک شو میں آنے اور جوابات دینے کا چیلنج کیاتھا،سابق وزیر خزانہ نے موجودہ ہم منصب سے سوالات کے جواب مانگ لئے ،پی ٹی آئی کے دور اقتدار میں قومی قرض میں کتنا اضافہ ہوا؟ مفتاح اسماعیل کا اسد عمر سے سوالکیا قرض میں اضافے کی پاکستان کی تاریخ میں یہ تیز ترین رفتار نہیں ؟ مفتاح اسماعیل کا دوسرا سوال عالمی منڈی میں پٹرول کی یکساں قیمت پر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے دور میں کل کتنا ٹیکس لاگو تھا؟کیا برآمدات میں اضافے کی رفتار اتنی ہی تیز ہے
جیساکہ گزشتہ سال تھی؟پرانے قرض پرسود کو منہا کرنے کے بعد بھی کیا حکومت اخراجات جاریہ کی ادائیگی کے لئے قرض نہیں لے رہی؟کیا معاشی مینجمنٹ اچھی ہے جبکہ جی ڈی پی گررہا ہے اور افراط زر بڑھ رہا ہے؟کیا گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ عوام کو پیس نہیں رہا ہے؟جس کمپنی پر 25 ہزار قرض تھا، ٹیم کی تبدیلی سے 28 ہزار روپے ہوگیا ہے: مفتاح اسماعیل قومی اثاثے بڑھائے اور نہ ہی عوام کو فائدہ دیا، نئی انتظامیہ جواب دے کہ پھر قرض کیوں بڑھا؟پرانے قرض اور اس پر سود کی ادائیگی پر تین ہزار خرچ ہونے کی نئی انتظامیہ دلیل دیتی ہےاس سوال پر نئی انتظامیہ کا جواب ہے کہ 700 روپے قرض ادائیگی پر خرچ ہوئےاس کا مطلب ہے کہ 2300 روپے اضافی قرض لے کر عوام پر قرض بڑھادیا گیاپرانی انتظامیہ کو کرپٹ اور کمپنی مفاد کے خلاف کام کرنے والادکھایا گیانئی انتظامیہ کے آنے کے بعد تو قرض میں کمی اور شئیرہولڈرز کو نفع ملنا چاہئےکمپنی کی تاریخ میں سب سے زیادہ تیزی سے قرض اور نقصانات کیوں بڑھ رہا ہے؟ پی ٹی آئی حکومت نے مختصر وقت میں پاکستان کی معیشت کو سست کردیا ہے: مفتاح اسماعیل گزشتہ مالی سال کے اختتام پر جون 2018 میں کل قومی قرض 25 ہزار ارب روپے تھاجنوری 2019کے آخر تک قومی قرض میں 3000 ارب روپے کا اضافہ ہوچکا ہے ۔انہوں نے ایک فیصد سے بھی کم وقت میں قومی قرض میں 12 فیصد اضافہ کیاہے 60 ماہ(پانچ سال) میں ترقی پر بھاری خرچ، دس ہزار میگاواٹ کے پاورپلانٹس لگانے کے باوجود مسلم لیگ (ن) نے قومی خزانے میں 11000ارب کا اضافہ کیااس کے باوجود ہمیں کرپٹ کہاگیاصاف چلی شفاف چلی کے آنے کے بعد سات ماہ میں 3000ارب کا قومی قرض میں اضافہ ہوگیا60 ماہ میں یہی رفتار رہی تو قومی قرض میں 26000 ارب روپے کا اضافہ ہوجائے گایہ مقدار گزشتہ آنے والی تمام حکومتوں کے کل حاصل کردہ قرض سے بھی زیادہ ہے اکیلی پی ٹی آئی قومی قرض میں اتنا اضافہ کرے گی جتنا ماضی کی تمام حکومتوں نے مل کر بڑھایاپی ٹی آئی والے مشرف دور اس سے قبل کی مدت میں لئے گئے قرض کو شمار نہیں کررہے پی ٹی آئی حکومت نے 700 ارب روپے قرض ادا کیا تو باقی 2300ارب روپے کہاں گئے؟پی پی پی اور مسلم لیگ(ن) نے اپنے سے سابقہ حکومتوں کے لئے قرض ادا کئے مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے گزشتہ سال سود ادائیگی کی مد میں 1400 ارب روپے ادا کئے ہم نے بجٹ میں اس مالی سال کے لئے 1500ارب روپے کی رقم قرض پر سود کی واپسی کے لئے رکھی تھیپی ٹی آئی کو سود بھی زیادہ ادا کرنا پڑے گا کیونکہ انہوں نے اس کی شرح بڑھا دی ہےمعاشی سرگرمیوں میں جمود کی وجہ پی ٹی آئی حکومت کا انٹرسٹ ریٹ بڑھانا ہے افراط زر کے مقابلے میں اتنی تیزی سے انٹرسٹ ریٹ بڑھانے کی منطق سمجھ سے باہر ہے پی ٹی آئی لیڈرز یہ نہیں مانیں گے کہ پرویز مشرف کے دور میں روپے کی قدر میں کمی کے قومی قرض پر کیااثرات ہوئے تھے ،جب عمران خان برسراقتدار آئے تو اس وقت کیا اثرات تھے؟ لیکن اس وقت ان کو تسلسل سے سروکار نہ تھا1250 ارب روپے روپے کی قدر سے ہونے والے اثر کو منہا کردیا جائے تب بھی سات ماہ میں 1050ارب روپے کا خلاہے ،یہ ابھی سال کا پہلا نصف اول ہے، زیادہ تر بل دوسرے نصف میں آتے ہیںاسی بناپر باآسانی کہاجاسکتا ہے کہ پی ٹی آئی تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ دے گی، مسلم لیگ (ن) کے کسی بھی سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوگاگزشتہ سال ہمارا خسارہ زیادہ تھا لیکن ہم نے قومی آمدن میں 2000ارب کا اضافہ کیا اور 700 ارب ترقیاتی سکمیوں میں لگائے تھےپی ٹی آئی نہ ترقی پر خرچ کررہی ہے اور نہ ہی جی ڈی پی کی شرح نمو بڑھا سکی ہےبجلی کی قیمتوں میں 15اضافے کے باوجود گردشی قرض روزانہ 127 کروڑ بڑھ رہا ہے مسلم لیگ (ن) کے دور میں گردشی قرض میں 7.7 کروڑ روزانہ اضافہ ہورہا تھاخیر ہم تو برے تھے ہی لیکن پی ٹی آئی ہم سے 16 گنا زیادہ بدترین کارکردگی دکھارہی ہے گردشی قرض کا یومیہ 127 کروڑ بجٹ خسارے کا حصہ نہیں، یہ بوجھ بھی عوام پر لادا جارہا ہے ،پی ٹی آئی حکومت نے گیس کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کیا کہ دونوں گیس کمپنیاں خسارہ کررہی ہیںاختتام جون 2017 کی دونوں گیس کمپنیوں کی آڈٹ اکاؤنٹس کے مطابق دونوں کا مشترکہ نفع 16 ارب روپے تھانئے پاکستان میں پھر کیوں اتنی تیزی سے اور اس قدر زیادہ قیمتیں بڑھائی گئیں جو پرانے پاکستان میں ہضم نہیں ہوسکتی تھیںپی ٹی آئی گردشی قرض میں 16درجے زیادہ تیزی سے اضافہ کررہی ہے، اگر مسلم لیگ (ن) کے لیڈرز کرپٹ تھے تو پھر پی ٹی آئی کے لیڈرز کو کیا کہا جائے؟ کراچی میں میٹرو بس کا نہ ہونا پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی تین شہروں میں کامیابی سے چلتی میٹروز گورننس کا تعارف ہے تو پشاور میں 100ارب کھڈے میں ڈالنے کو کیا کہیں ؟اللہ کرے پشاور بس میٹرو کھڈوں اور ملکی معیشت کھڈے سے باہر نکل آئے۔

تازہ ترین خبریں