01:22 pm
جووزیراعظم اپنی مرضی سے چھینک نہیں مار سکتا،وہ ناقابل اعتبار شخص ’نوکلیئر کوڈ‘ کیسے رکھ سکتا ہے

جووزیراعظم اپنی مرضی سے چھینک نہیں مار سکتا،وہ ناقابل اعتبار شخص ’نوکلیئر کوڈ‘ کیسے رکھ سکتا ہے

01:22 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ موجود بریف کیس میں نیوکلئیر کوڈ کی موجودگی پر ریحام خان بھی میدان میں آ گئیں۔ مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں ریحام خان نے برطانوی صحافی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو وزیر اعظم دُوسروں کی مرضی کے مطابق چھینکنے کے باوجود ناقابل اعتبار سمجھا جاتا ہو،
وہ اُسے بھلا اپنے ساتھ ساتھ نیوکلیئر کوڈز لیے پھرنے کی اجازت کہاں دینے والے ہیں؟یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو ایک انٹرویو دیا جس کے بعد وزیراعظم عمران خان کا انٹرویو لینے والے صحافی نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے ساتھ بریف کیس اٹھائے ایک آفیسر جا رہا ہے دراصل اس بریف کیس میں نیوکلیئر کوڈ موجود ہوتا ہے۔ اس معاملے پر بحث بھی ہوئی اور یہ معاملہ سوشل میڈیا تک جا پہنچا تھا جس کے بعد وزیراعظم عمران خان کے انٹرویو کا یہ کلپ سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوا۔ سوشل میڈیا پر کچھ صارفین نے تو برطانوی صحافی کے اس دعوے کا مذاق اُڑایا جبکہ کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ اس بریف کیس میں بلٹ پروف جیکٹ موجود ہوتی ہے۔ اس معاملے پر بعد ازاں خواجہ آصف نے بھی رد عمل دیا۔پاکستان کے سابق وزیرِ دفاع اورسابق وزیر خارجہ خواجہ آصف نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ وزیراعظم کے ساتھ ساتھ رہنے والے محافظ کے ہاتھ میں جو بیگ ہوتا ہے اس میں ایٹم بم کے کوڈز نہیں ہوتے بلکہ اس میں کسی بھی ریموٹ کنٹرولڈ بم کے سگنل روکنے والے جیمرز ہوتے ہیں۔ اب یہ تو میڈیا زیادتی کر رہا ہے بھلا نیوکلیر کوڈز کوئ ایسے لے کر پھرتا ہے ؟؟ خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کو خصوصی انٹرویو میں کہا تھا کہ جوہری طور پر مسلح ہمسائے اپنے اختلافات کو صرف مذاکرات کے ذریعے حل کر سکتے ہیں۔ بی بی سی کے نمائندے نے عمران خان سے سوال کیا کہ وہ اس موقع پر بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟ جس پر وزیر اعظم عمران خان نے جواب دیا کہ ہمیں کشمیر کا مسئلہ حل کرنا ہو گا کیونکہ اس مسئلہ کو سلگتا ہوا نہیں چھوڑا جاسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ متنازعہ علاقہ کشمیر میں امن خطے کے لیے بہت زبردست ہو گا۔

تازہ ترین خبریں