04:01 pm
جھوٹے اور بے بنیاد منصوبوں سے کتنی بڑی رقم ہتھیا لی گئی ہے خوفناک رپورٹ

جھوٹے اور بے بنیاد منصوبوں سے کتنی بڑی رقم ہتھیا لی گئی ہے خوفناک رپورٹ

04:01 pm

پشاور(این این آئی)خیبرپختونخوااسمبلی میں ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں کرپشن کی تحقیقات کیلئے حکومت کی طرف سے پارلیمانی کمیٹی کی مخالفت پر اپوزیشن نے شدیداحتجاج کرتے ہوئے سپیکرڈیسک کاگھیراؤکرلیا۔ کمیٹی نہ بننے پر اپوزیشن اراکین نے ایوان سے واک آؤٹ کیااورحکومت کیخلاف نعرہ بازی کی۔ڈپٹی سپیکرمحمودجان کی زیرصدارت صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایم ایم اے کے رکن عنایت اللہ اور اے این پی کے رکن خوشدل خان نے مشترکہ توجہ دلاؤنوٹس پیش کرتے ہوئے کہاکہ خیبرپختونخوا ایجوکیشن فاؤنڈیشن محکمہ تعلیم کا ایک ذیلی دارہ ہے
جہاں سکول سے باہربچوں کیلئے اقراء فروغ تعلیم سکیم کے تحت بذریعہ ووچرکروڑوں روپے کاغبن ہوچکاہے اسکے علاوہ گھوسٹ سکولوں کے نام پر بھی ایک خطیررقم نکالی گئی ہے ان بیانات کی روشنی میں حکومت نے انکوائری مقرر کرکے ایم ڈی کومعطل کردیا لہذا ایم ڈی نے محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسروں پرالزامات لگائے ہیں انہوں نے الزام لگایاہے کہ سکیم میں جتنی بھی بے قاعدگیاں اورغبن ہواہے اس کو مشیر تعلیم اور دیگرافسران کی اشیربادحاصل ہے اسلئے اس کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے تاکہ دودھ کادودھ اورپانی کاپانی ہو۔عنایت اللہ نے کہاکہ معطل ایم ڈی کاکہناہے کہ ان کی تعیناتی سے دس سال قبل تک فاؤنڈیشن کاآڈٹ نہیں ہوا کروڑوں کے غبن سے متعلق وزیراعلیٰ کو تحریری خط لکھاگیاانسپکشن ٹیم کی انکوائری ہوئی لیکن بعدازاں ایم ڈی ہی کومعطل کیاگیاانہوں نے کہاکہ بہت بڑافراڈہواہے یہ حکومت کی بدنامی کاباعث بن رہاہے اگرکمیٹی کامطالبہ کیاجاتاہے توحکومت کواس کی حمایت کرنی چاہئے اپوزیشن لیڈراکرم درانی نے کہاکہ مسئلہ سنگین ہے اگرایک افسرکرپشن کی نشاندہی کرتاہے تواسے انعام ملناچاہئے تھا ایم ڈی کوبحال کیاجائے یاپھر سیکرٹری ایجوکیشن اورمشیرتعلیم پرایم ڈی کی طرف سے الزامات کے باعث انہیں بھی معطل کرکے پورے معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں ،ایم پی اے میاں نثارگل نے کہاکہ سٹینڈنگ کمیٹی میں انہیں اس معاملے پر بولنے نہیں دیاگیا ادارے میں21کروڑکاغبن ہوا ہے 147ڈیلی ویجز بھرتیاں ہوئی ہیں گھوسٹ سکول بناکرداخلہ کے نام پر پیسے نکالے گئے ، اے این پی کے پارلیمانی لیڈرسرداربابک نے کہاکہ پی ٹی آئی حکومت نے ہی ایم ڈی کو بھرتی کیاجس کیخلاف متاثرین کورٹ بھی گئے ایم ڈی معطل ہے اسکی جگہ تعینات دوسرا افسرکس قانونی کے تحت تنخواہ لے گا کیونکہ معطل شدہ افسرکی تنخواہ دوسرے افسرکونہیں دی جاسکتی اگرحکومت واقعی کرپشن کیخلاف ہے تو پھر کمیٹی بنانے میں کیاقباحت ہے ۔معاون خصوصی کامران بنگش نے کہاکہ اپوزیشن نے اہم ایشوکی نشاندہی کی ہے 7فروری2017ء کو فاؤنڈیشن کے بورڈکی میٹنگ ہوئی جس میں فیصلہ ہواہے کہ ایم ڈی ذوالفقاراحمد کومعطل کیاجائے جس کی کئی وجوہات ہیں ڈائریکٹرمانیٹرنگ کی رپورٹ کے مطابق مانسہر ہ میں90گھوسٹ سکولوں میں جعلی انرولمنٹ کی گئی جس کیلئے ایم ڈی نے35.47ملین روپے جاری کئے غیرقانونی طور پر ڈیلی ویجزبھرتیاں کی گئیں دولاکھ25ہزار سکولوں سے باہر بچوں کے داخلے اور15ہزارتنخواہ پر ٹیچرزکی بھرتی کیلئے جاری ہونیوالے3.2ارب روپے ایم ڈی نے سرنڈرکئے اس پر بورڈ کا اعتراض تھا ایم ڈی بورڈ کو مطمئن کرنے میں مکمل ناکام رہے ہیں ایم ڈی نے1.4ملین روپے ٹی اے ڈی اے کی مدمیں لئے سکولوں کو ڈائریکٹ پے منٹ کی گئی معطل ایم ڈی کی جگہ افسرمعصم باللہ کورولزکے مطابق بھرتی کیاگیاہے ۔صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے کہاکہ ایوان میں تمام اراکین ووٹ لے کرپہنچے ہیں ہم سب کے خیالات کااحترام کرتے ہیں جہاں کہیں کرپشن ہوتی ہے اپوزیشن اس کی نشاندہی کرے حکومت ایکشن لے گی توجہ دلاؤنوٹس کاڈیپارٹمنٹ کی طرف سے تفصیلی جواب آچکاہے اس پرمزیدبحث نہیں ہوسکتی اگراپوزیشن پھربھی مطمئن نہیں تو تحریک التواء جمع کراسکتی ہے یہ بولتے ہی اپوزیشن آگ بگولہ ہوگئی اورسپیکرکے ڈیسک کاگھیراؤکرلیا اس دوران حکومت اوراپوزیشن اراکین ایکساتھ بولتے رہے جسکے باعث ایوان میں کان پڑی آوازسنائی نہیں دے رہی تھی جبکہ سپیکر مسلسل ایم پی ایز کوخاموش کراتے رہے اس دوران اپوزیشن نے شیم شیم کے نعرے لگائے اور ایوان سے واک آؤٹ کرلیاحزب اختلاف نے جاتے ہوئے کورم کی نشاندہی کی جسکے بعد سپیکرنے دومنٹ کیلئے گھنٹیاں بجائیں لیکن کورم پورانہ ہونے پر اجلاس پیر کے روز تک کیلئے ملتوی کردیاگیا۔

تازہ ترین خبریں