05:34 am
( وزیر اعظم کو  چکر دینے  کی کوشش)ڈریپ  کی 889 کے بجائے  395ادویات کی  قیمتیں کم کرنے کمپنیوں پر دباو

( وزیر اعظم کو چکر دینے کی کوشش)ڈریپ کی 889 کے بجائے 395ادویات کی قیمتیں کم کرنے کمپنیوں پر دباو

05:34 am

اسلام آباد ( ندیم چوہدری ) وزارت قومی صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان ( ڈریپ ) حکام نے وزیر اعظم کو چکمہ دینے کے لیے889ادویات جن کی قیمتوں میں 100فیصد سے زائد اضافہ کیا گیا انہیں کم کرنے کی بجائے اسی ایس آر او میں کم کی گئی 395ادویات کی قیمتوں میں کمی کے لیے فارما سوٹیکل کمپنیوں پر دباو ڈالنا شروع کر دیا ۔ 889ادویات جن کی قیمتوں میں پندرہ فیصد سے سو فیصد تک اضافہ کیا گیا جس پر وزیر اعظم نے لاہور میں اعلان کیا کہ آئندہ 72گھنٹوں کے اندر ادویات کی قیمتوں کو واپس اپنی اصل قیمت پر لایا جائے ان پر وفاقی وزیر صحت اور ڈریپ حکام خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ 72کی بجائے سو گھنٹے سے زائد گزر گئے لیکن ادویات کی قیمتوں میں کمی نہ ہو سکی ۔ ذرائع کے مطابق سابقہ سی ای او شیخ اختر حسین کو ذمہ داری دی ہی اسی لیے گئی تھی کہ ادویہ ساز اداروں کو فائدہ پہنچایا جا سکے ، چند کروڑ کے اپنی ذاتی فائدے کی خاطر عوام کی جیبوں سے چار سو ارب سے زائد پیسہ نکلوا لیا گیا ۔ گزشتہ روز بھی وفاقی وزیر صحت کی سربراہی میں ڈریپ حکام کا اجلاس ہوا جس میں 889ادویات میں کمی کی بجائے ان ادویات پر کی قیمتوں پر کمی میں زور دیا گیا جن پر ادویہ ساز اداروں نے عدالتی حکم امتناعی کی آڑ میں اضافہ کیا تھا ۔ جب کہ وہ قیمتوں جنہوں نے عوام کی چیخیں نکلوائی ان پر غور نہیں کیا گیا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرا عظم کو چکمہ دینے کےلیے اب نئی بریفنگ تیار کی جا رہی ہے اور وفاقی وزیر صحت عامر کیانی ادویہ ساز اداروں کو منانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جن ادویات کی قیمتوں میں کمی تجویز کی گئی ہے بس ان میں کمی کر دیں تا کہ وزیر اعظم اور میڈیا کو خاموش کرایا جا سکے ۔ ڈریپ حکام نے شوگر کوٹیڈ کرتے ہوئے وفاقی کابینہ کو بھی بریفنگ دی جس میں کہا گیا تھا کہ صرف نو سے پندرہ فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے جب کہ ہارڈ شپ کے نام پر پرائس پالیسی کی آڑ میں عملی طور پر کئی گنا اضافہ کیا گیا جسے ظاہر ہی نہیں ہونے دیا گیا ۔ سابقہ سی ای او شیخ اختر حسین نے ڈریپ کا سسٹم چلانے کے لیے ہر سیٹ پر ایڈیشنل چارج دے کر ڈائریکٹر بٹھا رکھے تھے جو ڈائریکٹر ڈریپ میں عرصہ سے کام کر رہے تھے ان کو ہٹا کر ایک ہی ڈائریکٹر کو کئی اضافی چارج دے کر ان سے تمام پالیسی سازی کروائی گئی ۔ اب بھی انہیں  ایڈیشنل چارج والے ڈائریکٹرز سے پالیسی سازی کروائی جا رہی ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر مبینہ طور پر اس سارے معاملے میں ملوث ہیں جس کے باعث وہ اب ان قیمتوں کو کم کرنے کے لیے راضی نہیں ۔ ڈریپ

تازہ ترین خبریں