05:48 am
دوکالم                            لگتا ہے ہائیکورٹ کے جج، جج نہیں بلکہ نوکری کررہے ہیں، میاں حنیف طاہر

دوکالم لگتا ہے ہائیکورٹ کے جج، جج نہیں بلکہ نوکری کررہے ہیں، میاں حنیف طاہر

05:48 am

دوکالم لگتا ہے ہائیکورٹ کے جج، جج نہیں بلکہ نوکری کررہے ہیں، میاں حنیف طاہر لاہور ہائیکورٹ سے سیاسی جماعت کو اختیارات استعمال کرکے خلاف قانون ریلیف دیا گیا، گفتگو لاہور ( کورٹ رپورٹر ) نفاذ آئین مووومنٹ کے صدر ’’ میاں حنیف طاہر ‘‘ ایڈووکیٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ کی آبزرویشن کہ یہ لاہور ہائی کورـٹ نہیں ہے کہ آپ شورو غل کر کے ریلیف لیں گے کے بعد ہائی کورٹ کے کسی جج کو بھی جج رہنے کا کوئی جواز نہیں بنتا اس کے بعد لگتا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے جج ، جج نہیں بلکہ نوکری کر رہے ہیں لاہور ہائی کورٹ سے ایک سیاسی جماعت کو عرصہ دراز سے صوابدیدی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے خلاف قانون ریلیف دیا جارہا ہے جبکہ دیگر سائلین کو ایسے ہی مقدمات میں ریلیف نہیں دیا جاتا جس کی وجہ سے یہ بات زبان رد عام ہے کہ ہائی کورٹ کا رویہ مسلم لیگ ن کے ساتھ مختلف ہے جبکہ دیگر کے ساتھ مختلف مگر اس ساری صورت حال کے باوجود کسی ایک جج نے بھی آج تک استعفیٰ نہیں دیا جس سے عوام الناس یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ عدالت عالیہ کے جج عدالتی اختیارات استعمال نہیں کر رہے بلکہ بطور ملازم کام کر رہے ہیں جو ملکوں اور معاشرے کی تباہی کا باعث بنتے ہیں اور نا انصافی کو جنم دیتے ہیں وہ گذشتہ روز اوصاف نمائندہ سے خصوصی گفتگو کر رہے تھے ۔ میاں حنیف طاہر ایڈووکیٹ نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے اس رویہ کے باعث پاکستانی معاشرہ تباہی کی طرف تیزی سے گامزن ہے جس کے کسی وقت بھی خوفناک نتائج برآمد ہونے خطرات موجود ہیں انہوں نے کہا کہ چونکہ نا انصافی کا معاشرہ ظالم معاشرے سے بھی زیادہ برا ہوتا ہے انہوں نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی آبزرویشن کی روشنی میں لاہور ہائی کورٹ کے ایسے ججوں جو انصاف کی بجائے شور و غل اور نا انصافی کی بنیاد پر فیصلے کر رہے ہیں سپریم جودیشل کونسل میں ریفرنسز بھیجے جائیں یا کم از کم ان سے جوڈیشل اختیارات واپس لے لیئے جائیں تا کہ لاہور ہائی کورٹ کے چہرے پر لگا نا انصافی کا دھبہ دور ہو سکے۔ میاں حنیف طاہر

تازہ ترین خبریں