10:59 am
ریسنگ کا جنون؛ کم عمر موٹر سائیکل سوار نے بچے کی جان لے لی

ریسنگ کا جنون؛ کم عمر موٹر سائیکل سوار نے بچے کی جان لے لی

10:59 am

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)دو دریا پر تیز رفتار کم عمر موٹرسائیکل سوار نے کمسن بچے کی زندگی کا چراغ گل کردیا ، ملزم دوستوں کے ساتھ ریس لگارہا تھا کہ فٹ پاتھ پر بیٹھے افراد سے موٹرسائیکل ٹکرادی جس کے نتیجے میں ایک بچہ جاں بحق اور 4 افراد زخمی ہوگئے ، پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا۔تفصیلات کے مطابق اتوار کی شام کلفٹن تھانے کی حدود دو دریا پر موٹرسائیکل سوار نوجوان ریس لگارہے تھے کہ اسی دوران ایک نوجوان کی موٹرسائیکل بے قابو ہوکر فٹ پاتھ پر بیٹھے افراد سے ٹکراگئی، حادثے کے نتیجے میں 4 سالہ سنی ولد گل باس ترین موقع پر ہی دم توڑ گیا جبکہ 4 افراد زخمی ہوگئے
، ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر جناح اسپتال منتقل کیا گیا ، جناح اسپتال میں بچے کے والد گل باس ترین نے ایکسپریس کو بتایا کہ وہ 5 بچوں کا باپ ہے جبکہ سنی سب سے چھوٹا تھا وہ پیشے کے اعتبار سے ڈرائیور ہے اور ڈیفنس میں ایک کمپنی میں ملازمت کرتا ہے ، وقوعے کے وقت سنی اپنے اہل خانہ اور دیگر رشتے داروں کے ہمراہ تفریح کی غرض سے دو دریا گیا تھا۔جہاں وہ حادثے کا شکار ہوگیا ، گل باس نے بتایا کہ وہ لیاری کھڈا مارکیٹ کا رہائشی ہے ، حادثے میں سنی کی ایک بہن سمیت ان کے 4 رشتے دار زخمی ہیں جن میں سے ایک کے جسم میں کئی فریکچر ہوئے ہیں، ایس پی کلفٹن سہائے عزیز نے ایکسپریس کو بتایا ہے کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حادثے کے ذمے دار موٹرسائیکل چلانے والے ملزم محمد احمد ولد رمضان کو گرفتار کرکے اس کی موٹر سائیکل بھی تحویل میں لے لی ہے ملزم کی عمر 15 برس ہے جس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔موٹرسائیکلوں پر اسٹنٹ دکھانے والے کراچی کے نوجوان بنیادی طور پر بائیک رائیڈنگ سے واقف نہیں مغربی ممالک حتیٰ کہ پاکستان کے پڑوسی ملکوں میں ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کرایا جاتا ہے وہاں بائیک ریسنگ کے لیے سیفٹی کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے ہیلمٹ کے بغیر وہاں موٹر سائیکل یا ہیوی بائیک چلانے کا تصور نہیں ہے پاکستان میں نوجوان بغیر کسی حفاظتی لباس اور ہیلمٹ کے بائیکوں پر کرتب دکھاتے ہیں اور کسی بھی حادثے کی صورت میں ان کی جان تو جاتی ہی ہے تاہم ان کی تیز رفتار بائیکوں کے سامنے آنے والے شہری یا گاڑی سواروں کی جانیں بھی دائو پر لگ جاتی ہیں بیرون ملک ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد کے باعث وہاں ٹریفک حادثات کی تعداد کم ہے پاکستان میں دن بدن ٹریفک حادثات بڑھتے جارہے ہیں والدین بچوں کی تربیت نہیں کررہے اساتذہ بچوں کو اپنی زندگی دائو پر لگانے سے نہیں روک رہے ریسنگ کا کریز نوجوانوں کو جرائم کی جانب لے جارہا ہے۔ایس پی کلفٹن سہائے عزیز نے کہا ہے کہ ملزم اپنے بھائی کی موٹر سائیکل لیکر کلفٹن آیا تھا ، اگر اس کا بھائی موٹرسائیکل نہیں دیتا تو شاید یہ حادثہ پیش نہیں آتا انھوں نے والدین سے بھی کہا ہے کہ وہ بچوں پر نظر رکھیں اور کم عمر بچوں کو موٹر سائیکل استعمال کرنے سے روکیں انھوں نے کہا کہ کم عمر رائیڈر کی غلطی سے ایک بچے کی جان چلی گئی ، انسانی جان کا کوئی مول نہیں ، ملزم چونکہ کم عمر ہے اس کا ڈرائیونگ لائسنس بھی نہیں بنا تھا۔ایس پی نے مزید کہا کہ ہفتہ اور اتوار کو خصوصی طور پر کلفٹن ، سی ویو ، دو دریا اور دیگر شاہراہوں پر پولیس خصوصی طور پر چیک پوائنٹ لگاتی ہے جہاں اس قسم کے نواجونوں کو گرفتار کیا جاتا ہے اور ہر اتوار کو مختلف ٹولیاں ریس لگاتی ہیں، پولیس نے کئی بار صرف تنبیہ کرکے بھی رہا کیا لیکن جب شہری نہیں مانے تو اس کے بعد انھیں گرفتار کرکے مقدمات بھی درج کیے گئے، ایس پی نے والدین سے پرزور اپیل کی کہ وہ اپنے کم عمر بچوں کو ہرگز ہرگز موٹر سائیکل اور گاڑیاں نہ دیں ان کے اس طرز عمل سے نہ صرف ان کے اپنے بچے کی بلکہ سڑکوں پر دیگر شہریوں کی زندگی بھی دائو پر لگ جاتی ہے۔شہر بھر میں موٹر سائیکل ریس کا کلچر بڑھ رہا ہے، پولیس کی کارروائیاں بھی نوجوانوں کو نہیں روک سکیں، شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس اس سلسلے میں ایسے ٹھوس اقدامات کرے جس سے ریس لگانے کے عمل کی بیخ کنی ہوسکے، خصوصی طور پر ہفتہ کی شب اور اتوار کو شارع فیصل ، شارع پاکستان ، سی ویو ، دو دریا ، ایکسپریس وے ،آئی آئی چندریگر روڈ اور دیگر شاہراہوں پر موٹر سائیکل سوار نوجوان ٹولیوں کی شکل میں ریس لگاتے ہیں اور خطرناک انداز میں دیگر گاڑیوں کو کراس کرتے ہیں جس سے نہ صرف ان کی اپنی زندگی کو خطرات لاحق ہوتے ہیں بلکہ سڑکوں سے گزرنے والی دیگر گاڑیوں کے مسافر بھی پریشان ہوجاتے ہیں ، کئی نوجوان تو چلتی موٹر سائیکل پر کرتب بھی دکھاتے ہیں۔جن میں سے کوئی لیٹ کر موٹر سائیکل چلاتا ہے اور گیئر اور بریک کے لیے بھی اپنے ہاتھ استعمال کرتا ہے جبکہ کوئی کھڑے ہوکر موٹر سائیکل چلاتا ہے جوکہ انتہائی خطرناک عمل ہے اب تک ایسے واقعات میں خود کئی منچلے نوجوان بھی حادثات کا شکار ہوچکے ہیں لیکن اس کے باوجود ریس لگانے کا عمل بھرپور طریقے سے جاری ہے اس ضمن میں شارع فیصل پر اور دیگر علاقوں میں پولیس کی جانب سے کارروائیاں کی گئیں اور سیکڑوں نوجوانوں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے لیکن یہ گرفتاریاں بھی کسی کام نہ آسکیں اور کوئی رات ایسی نہیں گزرتی جب شارع فیصل اور دیگر شاہراہوں پر ایسے منچلے نوجوان نظر نہ آئیں ، شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ ایسے ٹھوس اقدامات کرے کہ جس سے ریس لگانے کے عمل کی بیخ کنی ہوسکے اور نوجوان ریس لگانے سے گریز کریں۔

تازہ ترین خبریں