06:09 am
آئی ایم ایف8ارب ڈالر تک کا پیکیج دیگا،بھاری قرضوں سے معیشت مستحکم ہونیکی ’’انوکھی خوشخبری ‘‘(اسد عمر کو ہٹانے کی افواہیں)

آئی ایم ایف8ارب ڈالر تک کا پیکیج دیگا،بھاری قرضوں سے معیشت مستحکم ہونیکی ’’انوکھی خوشخبری ‘‘(اسد عمر کو ہٹانے کی افواہیں)

06:09 am

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وزیر خزانہ اسد عمرنے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد آنے والے بجٹ میں مہنگائی میں مزید اضافہ نہیں کیا جائیگا، آئی ایم ایف کے ساتھ اصولی اتفاق ہوگیا ہے، وفد رواں ماہ کے آخری ہفتے میں پاکستان آئے گا، آئی ایم ایف سے معاملات پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے، حالات بہت جلد بہتر ہو جائیں گے۔میری وزارت جانے کی بات کرنے والوں کیلئے اتنا کہوں گا ’’ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے‘‘،آئی ایم ایف سے 6 سے 8 ارب ڈالر قرض مل سکتا ہے۔مئی کے وسط میں ایف اے ٹی ایف کی ٹیم آئے گی، ٹیم پاکستان آئے تو رپورٹ پیش کی جائے گی۔پاکستان نے تاریخ میں اتنا زیادہ خساروں کا سامنا نہیں کیا، نوبت یہاں تک آ گئی تھی کہ 15 دنوں کیلئے ادائیگیوں کے پیسے موجود نہیں تھے، اب پاکستان بحران کی کیفیت سے نکل چکا ہے۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی فیض اللہ کموکا کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ حکومت کی طرف سے ایک ڈرافٹ معیشت کے روڈمیپ کمیٹی میں پیش کرنا تھا، یہی فورم ہیں جہاں پالیسی بنائی جائے، ممبران تک اس ڈرافٹ کی کاپیاں پہنچ گئی ہوں گی۔ امریکہ میں آئی ایم ایف کے ساتھ اتفاق رائے ہوچکا ہے، اپریل کے آخری ہفتے میں آئی ایم ایف مشن پاکستان آئے گا، معاہدے کا ڈرافٹ بھی تیار ہوچکا ہے، ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف سے اچھا رسپانس ملا ہے، ورلڈ بینک کی جانب سے بھی فنڈز ملنے تھے جو کہ آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے رکے ہوئے تھے، آئی ایم ایف پروگرام کے اے ڈی بی اور ورلڈ بنک کی جانب سے فنڈز مہیا کئے جائینگے، ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ہوئی تھی آئی ایم ایف پروگرام کے بعد اس میں اضافہ ہوگا، معیشت مستحکم ہوگی، ملک میں استحکام ہے مگر خبروں میں نظر نہیں آتا۔ رکن کمیٹی قیصر احمد شیخ نے کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کی عام باتیں آپ نے کی ہیں یہ بتائیں کہ محصولات کا ہدف کیا ہوگا ، 5100ارب روپے محصولات کا ہدف رکھا جارہا ہے کیا نئے ٹیکس لگائے جارہے ہیں ۔ کمیٹی رکن عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ اس پر ہمیں مکمل طور پر بریفنگ دی جائے، اقتصادی فریم ورک پر اگر بات ہورہی ہے اس پر پارلیمان کو اعتماد لے کر آئی ایم ایف سے بات کی جائے، مائیکرو اکنامک پر ہمیں بات کرنی چاہیے۔ رکن کمیٹی نفیسہ شاہ نے کہا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کیا گیا جو کہ ایمنسٹی سکیم کی وجہ سے کیا گیا، اسد عمر جب اپوزیشن میں تھے تو آواز اٹھاتے تھے کہ ایمنسٹی سکیم خلاف آئین ہے، اس طرح اجلاس ملتوی نہیں کیا جانا چاہیے۔ ایف اے ٹی ایف جیسے اہم مسئلہ پر بھی بات ہونی چاہیے یہ نہ ہو کہ ہم گرے لسٹ سے بلیک لسٹ ہوجائیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس پر ذیلی کمیٹی بنائی جائے گی جس کو وزارت خزانہ ان کیمرہ بریفنگ دیگی۔ کمیٹی رکن قیصر احمد شیخ نے کہا کہ عام آدمی پریشان اور تکلیف میں ہیں مہنگائی اپنی جگہ بیروزگاری میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ پر دستخط ہونے کے بعد کمیٹی کے سامنے رکھیں گے، کمیٹی اراکین کو ٹیرف کے حوالے سے تجاویز دینی چاہیے۔ میڈیم ٹرم اکنامک فریم ورک اسی لئے آپ کو بھیجا ہے کہ اس بحث ہونی چاہیے، اس کے اعدادوشمار آئی ایم ایف معاہدہ کے بعد شیئر کئے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے 3ماہ بحث ہوئی ہے، 3ماہ کے وقت کو استعمال کرنے کے بعد ایک ایسے معاہدے کی طرف جائیں گے جو کہ پاکستانی عوام کے مفاد میں ہوگا۔ آج شام ایف اے ٹی ایف کو نظرثانی ڈرافٹ بھیجا جائے گا، 6ماہ میں ہر چیمبر کا دورہ کیا ہے جہاں گزشتہ 10سال سے کوئی وزیر نہیں گیا، ہم اسی کمرے میں بیٹھ کر چیخیں مارتے تھے کہ حکومت معیشت کو کہاں لیکر جارہی ہے، بیلنس آف پیمنٹ کے تاریخی بحران کا سامنا موجودہ حکومت نے کیا، 15دن کے ذخائر موجود تھے، ہم اب سخت فیز سے نکل گئے ہیں، استحکام کی طرف جارہے ہیں، ہم توانائی کے شعبے کو بہتر اور اصلاحات لیکر آرہے ہیں۔ کمیٹی رکن قیصر احمد شیخ نے کہا کہ ہمارا بیلنس آف پیمنٹ میں کمی کرنا درآمدات کو کم کرکے یہ درست نہیں ہے۔ کمیٹی چیئرمین نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹس کے حوالے سے بیرون ممالک کے عوام کو نہیں پتہ ہے۔ وزیر مملکت حماد اظہر نے کہا کہ گزشتہ ایمنسٹی اسکیم سے 500 نان فائلر نے فائدہ اٹھایا اور بعد میں انہوں نے بھی فائلنگ نہیں کی ،یہ پی ٹی آئی حکو مت کی پہلی اور آخری ایمنسٹی اسکیم آئے گی اس کے بعد کوئی نہیں آئے گی ،رکن کمیٹی نفیسہ شاہ نے کہا کہ دو سال میں یہ تیسری ایمنسٹی اسکیم ہے ،ہر مرتبہ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ آخری اسکیم ہے ،ایک اشرافیہ کلاس ہے جو استثنی لیتی ہے وہ بہت نیک ہے ،صرف سیاستدانوں کو ہی کرپٹ کہا جاتا ہے ایلیٹ کلاس کو تحفظ دیا جاتا ہے ،دس پرسنٹ امیر کلاس کو دے رہے ہیں تو غریبوں کو بھی دیں اور غریبوں کے بجلی کے بل معاف کھن جائیں۔بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا آئی ایم ایف سے چینی قرضوں پر حالیہ دورے میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی، آئی ایم ایف سے 6 سے 8 ارب ڈالر قرض مل سکتا ہے۔آئی ایم ایف پالیسی معاملات پر معاہدہ ہو گیا ہے،آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معائدے کی دستاویز کا تبادلہ بھی کیا گیا،اپریل کے آخری ہفتے میں آئی ایم ایف کا مشن پاکستان ہو گیا ہے،سرکاری کمپنیوں،بجلی کی ترسیل، پبلک فنانس کے بجٹ میں بہتری معائدے میں شامل ہے،سی پیک کے حوالے سے تفصیلات آئی ایم ایف کو اکتوبر میں دے چکے ہیں،سی پیک پر کچھ چھپانے کو نہیں ہے،آئی ایم ایف معاہدے سے مہنگائی میں اضافہ نہیں ہو گا،گذشتہ حکومت کے چھوڑے گئے مالی خسارے کے باعث سخت اقدامات اٹھانا پڑ رہے ہیں ،ملکی معیشت میں بہتری سے متعلق حکومتی اقدامات سے عوام پر بوجھ پڑے گا۔ گزشتہ حکومت کے دور میں توانائی شعبے کے 600 ارب روپے کو بہرحال کہیں سے پورا کرناہے، حکومت کا بجلی کی قیمتیں بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں، (ن) لیگ کے دور میں پیدا ہونے والی بجلی کی قیمتوں کے نوٹیفکیشن نیپرا کررہی ہے۔ نمائندہ اوصاف سے خصوصی گفتگو میں اسد عمر نے کہا کہ آئی ایم ایف معاہدے کے بعد آنے والے بجٹ میں ملک میں مہنگائی میں مزید اضافہ نہیں ہوگا۔ آئی ایم ایف پیکج دوسرا انٹرو اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ پاکستانی بیل آؤٹ پیکج کو حتمی شکل دینے کیلئے آئی ایم ایف کا مشن اپریل کے آخر میں اسلام آباد کا دورہ کریگا۔پاکستان اور آئی ایم ایف کے مجوزہ مذاکرات پر اہم بات چیت میں مصروف ہونے کی وجہ سے بیل آؤٹ پیکج کو حتمی شکل دینے کے لیے وفد کے اسلام آباد آنے میں تاخیر کی رپورٹس کے بعد آئی ایم ایف کی جانب سے پریس ریلیز کے ذریعے مذکورہ اعلان کیا گیا۔آئی ایم ایف کے بیان میں کہا گیا کہ ’ پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کے عملے کے درمیان واشنگٹن میں موسم بہار میں کیے گئے مذاکرات تعمیری رہے‘۔بیان میں کہا گیا کہ ’ حکام کی درخواست پر مذاکرات جاری رکھنے کے لیے آئی ایم ایف کا مشن اپریل کے اواخر میں پاکستان کا دورہ کرے گا۔ادھر وفاقی وزیر خزانہ اسدعمر نے آئی ایم ایف پیکج کےحوالے سے وزیراعظم کو بریفنگ دی ہے جبکہ دوسری طرف وفاقی کابینہ اور بیورو کریسی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا امکان ہے جب کہ وزیر خزانہ اسد عمر کو عہدے سے ہٹائے جانے کی افواہیں بھی سرگرم ہیں تاہم حکومت نے اس کی سختی سے تردید کی ہے۔وزیراعظم آفس کے ذرائع کے مطابق وزراء کی کارکردگی رپورٹس وزیراعظم آفس کو موصول ہوگئی جسے کابینہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام وزارتوں کو سہہ ماہی رپورٹ بنانے کے لیے 2 ہفتوں کا وقت دیا گیا تھا، ہر وزارت کو اب تک کی کارکردگی رپورٹ پیش کرنے کے لیے کابینہ اجلاس میں 30 منٹ کا وقت دیا جائے گا اور کارکردگی رپورٹ دیکھ کر وزیراعظم کابینہ میں رد و بدل کا فیصلہ کریں گے۔ذرائع کے مطابق بعض وزراء کی وزارتیں تبدیل کئے جانے کا امکان ہے، پنجاب کے چیف سیکرٹری اور ایف بی آر کے سربراہ کی تبدیلی کا بھی امکان ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات مکمل ہونے کے بعد وزارت خزانہ میں اہم تبدیلیاں کیے جانے کا امکان ہے جب کہ وزارت پٹرولیم میں بھی بڑی تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے وزارت داخلہ کی ذمے داری بھی کسی کے سپرد کئے جانے کا امکان ہے۔دوسری جانب حکومتی وزراء اور وزیراعظم کے ترجمان نے کابینہ میں تبدیلی اور وزیر خزانہ اسد عمر کو عہدے سے ہٹائے جانے کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔ ترجمان وزیراعظم ندیم افضل چن نے اپنے بیان میں کہا کہ وزراتوں میں تبدیلی سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، یہ وزیراعظم کا استحقاق ہے کہ وہ کسی کی بھی وزارت تبدیل کریں اور اس وقت کسی ایک یا دو وزراء کو تبدیل کرنے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔وزیراعظم کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ وزارتوں کی کارکردگی کے حوالے سے وزیراعظم ہر کابینہ اجلاس میں پوچھتے رہتے ہیں۔ حکومتی وزراء کے قلمدان تبدیل کئے جانے کے حوالے سے خبروں میں کوئ صداقت نہیں، وزراء کی تبدیلی وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ہے میڈیا اس ضمن میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔ اس وقت پاکستان اہم مرحلے سے گزر رہا ہے اور اس نوعیت کی قیاس آرائیوں سے ہیجان جنم لیتا ہے، جو ملک کے مفاد میں نہیں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ حکومتی وزراء کے قلمدان تبدیل کیے جانے کے حوالے سے خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ وزراء کی تبدیلی وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ہے، میڈیا اس ضمن میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، اس وقت پاکستان اہم مرحلے سے گزر رہا ہے اور اس نوعیت کی قیاس آرائیوں سے ہیجان جنم لیتا ہے، جو ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔وزیر مملکت برائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گل نے بھی اسد عمر کو ہٹائے جانے کی تردید کی اور کہا کہ اسد عمر کی وزارت انہی کے پاس ہے، پاکستان کو سخت ترین معاشی بحران سے بچا چکے ہیں، ان کے جانے کی خبر جعلی ہے۔ افواہیں

تازہ ترین خبریں