05:04 pm
عوامی ریفرنڈم کے ذریعے صدارتی نظام کا نفاذ، حکومت نے پارلیمانی نظام کو بدلنے کیلئے نیا طریقہ کار ڈھونڈ نکالا

عوامی ریفرنڈم کے ذریعے صدارتی نظام کا نفاذ، حکومت نے پارلیمانی نظام کو بدلنے کیلئے نیا طریقہ کار ڈھونڈ نکالا

05:04 pm

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک )عوامی ریفرنڈم کے ذریعے صدارتی نظام کا نفاذ، حکومت نے پارلیمانی نظام کو بدلنے کیلئے نیا طریقہ کار ڈھونڈ نکالا۔۔۔۔! گورنر خیبرپختونخواہ شاہ فرمان کا کہنا ہے کہ عوامی ریفرنڈم کے ذریعے صدارتی نظام کا نفاذ، حکومت نے پارلیمانی نظام کو بدلنے کیلئے نیا طریقہ کار ڈھونڈ نکالا، وزیراعظم چاہیں تو آرٹیکل 48 کے تحت بذریعہ ریفرنڈم صدارتی نظام کے نفاذ کیلئے عوامی فیصلہ حاصل کر سکتے ہیں، عوام کے فیصلے کے بعد اپوزیشن جماعتیں مزاحمت نہیں کر سکیں گے۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ کچھ روز سے میڈیا اور سوشل میڈیا پر ملک میں رائج پارلیمانی نظام کو بدل کر صدارت نظام نافذ کرنے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ اس حوالے سے حکمران جماعت کے کچھ رہنما اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدارتی نظام اس لحاظ سے بہتر ہے کہ اس نظام میں ملک کا سربراہ سیاسی رہنماوں کی بلیک میلنگ سے بچ جاتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے اپوزیشن جماعتیں خاص کر پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر حکومت نے ملک میں پارلیمانی کی بجائے صدارتی نظام لانے کی کوشش کی، تو مزاحمت کی جائے گی۔ اس حوالے سے گورنر خیبرپختونخواہ شاہ فرمان کی جانب سے بھی خصوصی ردعمل دیا گیا ہے۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخواہ شاہ فرمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم چاہیں تو آئین کے آرٹیکل 48 کے تحت عوامی ریفرنڈم کروا سکتے ہیں۔ وزیراعظم کی خواہش پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرکے اس معاملے پر بحث کروائی جا سکتی ہے۔ مشترکہ اجلاس کی اکثریت اگر اجازت دے تو صدارتی نظام کے نفاذ کیلئے عوامی رائے حاصل کرنے کیلئے ریفرنڈم کا انعقاد کروایا جا سکتا ہے۔ تاہم صدارتی نظام نافذ کرنے کیلئے قانون سازی پارلیمنٹ کے ذریعے ہی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ دوسرا کوئی حل نہیں ہے۔ شاہ فرمان کی رائے میں بھی صدارتی نظام پارلیمانی نظام کے مقابلے میں بہتر نظام ہے۔

تازہ ترین خبریں