07:49 am
 حکو مت نے اسد عمر کو ایک اور ذمہ داری سو نپنے کا فیصلہ کر لیا

حکو مت نے اسد عمر کو ایک اور ذمہ داری سو نپنے کا فیصلہ کر لیا

07:49 am

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ سی ٹی ڈی کو انسداد منی لانڈرنگ کے حوالے سے اختیارات دیدیے گئے ہیں۔ منی لانڈرنگ مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ ماضی کے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک اقتصادی بدحالی کا شکار ہے۔ ماضی میں شریف خاندان اور زرداری نے کرپشن کی انتہا کی۔ شریف خاندان کے 95 فیصد اثاثوں کی ڈیکلریشن ٹی ٹی بیسڈ ہے۔
ٹی ٹی پیغامات کے ذریعے نواز شریف اور شہباز شریف کو پیسے باہر سے آتے رہے۔ حسن نواز، حسین نواز اور اسحاق ڈار عدالتوں کا سامنا نہیں کر رہے ہیں۔ متحدہ بانی، اسحاق ڈار، حسن اور حسین نواز پاکستان کے دیئے ہوئے تحفے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ برطانیہ انھیں واپس کرے۔انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں کی بدعنوانی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ ماضی کی حکومتوں کے کابینہ ارکان بھی میگا سکینڈلز میں ملوث تھے۔ ہل میٹلز کے اکاؤنٹ سے ایک ارب 82 کروڑ روپے نواز شریف کو منتقل ہوئے۔فواد چودھری نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے منی لانڈرنگ کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ وفاقی کابینہ نے ایمنسٹی سکیم کی منظوری نہیں دی، سکیم پر بحث کی گئی لیکن ابھی تشنگی باقی ہے۔ کل دو بجے خصوصی اجلاس بلایا گیا ہے جس میں اثاثہ جات کے حوالے سے بات چیت ہوگی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ایمنسٹی سکیم پر مزید مشاورت کے لیے ذیلی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے سربراہ اسد عمر ہوں گے۔ ذیلی کمیٹی ایمسنٹی سکیم پر ٹیکس کے ریٹ کا تعین کرے گی۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سول، عسکری قیادت اور قوم نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے متفق ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں بہت کمی آئی ہے، اب اس پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ گریڈ 1 سے پانچ ملازمین کی بھرتیوں کے لیے پہلے اراکین اسمبلی کو کوٹے دیے جاتے تھے لیکن ہم نے اسے ختم کر دیا ہے، اب صرف میرٹ پر بھرتیاں ہوں گی۔ فواد چودھری نے بتایا کہ 17 اپریل کو وزیراعظم عمران خان نیا گھر ہاؤسنگ سکیم کا اففتاح کرنے جا رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں ایک لاکھ پینتس ہزار گھر بنائے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت سے پہلے سٹیل ملز نقصان میں نہیں تھی۔ دنیا کے چھ بڑے سرمایہ کاروں نے سٹیل ملز میں سرمایہ کاری کی پیشکش۔ کی ہے۔ سٹیل ملز کی پیداواری صلاحیت کو مزید بڑھایا جائے گا۔ یہ خیال رکھا جائے گا کہ سٹیل ملز ملازمین کے مفادات کو ٹھیس نہ پہنچے۔

تازہ ترین خبریں