09:27 am
وزارت خزانہ کی بجائے کوئی اور وزارت لے لو

وزارت خزانہ کی بجائے کوئی اور وزارت لے لو

09:27 am

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر جب سے وفاقی وزیر خزانہ کے عہدے پر براجمان ہوئے ہیں، تب سے وہ سیاسی اور عوامی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ معاشی ماہرین اس کی بڑی وجہ معیشت کا روز بروز زوال کی جانب گامزن ہونا قرار دیتے ہیں۔ خصوصاً مہنگائی کے ہاتھوں پس رہی عوام کی جانب سے بھی اسد عمر کی پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیا جا تا رہا ہے۔کئی حلقوں کی جانب سے اسد عمر کی بطور وزیر خزانہ اہلیت پر سوال بھی اُٹھائے جا رہے ہیں۔ تاہم ابھی تک وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اُن پر اعتماد کا اظہار ہی کیا جا رہا ہے
اور اُن سے ڈھیر اُمیدیں وابستہ کی جا چکی ہیں۔گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل کی اینکر کی جانب سے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر سے سوال کیا کہ اگرفرض کریں وزیر اعظم آپ کو آفر کریں کہ آپ وزارت خزانہ کی بجائے کوئی اور وزارت لے لیں تو پھر آ پ کا ردِعمل کیا ہو گا۔اس کے جواب میں اسد عمر نے کہا کہ میں بہت اچھی زندگی گزار رہا تھا۔ مجھے سیاست میں آنے کا کوئی شوق نہیں تھا۔ وزیر اعظم مجھے بار بار کہتے تھے کہ پاکستان کو تمہاری ضرورت ہے۔ تو میں نے کہا کہ اگر پاکستان کو میری ضرورت ہے تو پھر میں آجاؤں گا۔ اگر پاکستان کی بہتری کے لیے کام کر سکتے ہیں تو کرتے رہیں گے۔ اگر میرے کام کرنے میں پاکستان کی بہتری نہیں یا کوئی اور بہتر کام کر سکتا ہے تو پھر وہ کرلے۔ ہم کوئی کیریئر سیاست دان تو نہیں ہیں۔

تازہ ترین خبریں