03:28 pm
 لاہور کے بعد پاکستان کے ایک اور بڑے شہر میں پولیس وین پر حملہ

لاہور کے بعد پاکستان کے ایک اور بڑے شہر میں پولیس وین پر حملہ

03:28 pm

چار سدہ (ویب ڈیسک) تنگی میں پولیس موبائل پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے اے ایس آئی شہید جب کہ 2 اہلکار زخمی ہوگئے۔ نجی ٹی یوی نیوز چینل کے مطابق چارسدہ میں تنگی کے علاقے گنڈھیری میں پولیس موبائل پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میںاے ایس آئی محبت خان شہید جب کہ 2 اہلکار توصیف اورمصورزخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ ڈی پی اوعرفان اللہ چارسدہ کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد ملزمان فرارہونے میں کامیاب ہوگئے۔
علاقے میں سرچ آپریشن بھی شروع کردیا گیا ہے۔دوسری جانب امن کے دشمنوں نے باغوں کے شہر لاہور پر ایک بار پھر بزدلانہ وار کردیا، داتا دربار کے گیٹ کے قریب دھماکہ ہوا جس کے نتیجہ میں10 افراد شہید اور 24 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں، ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی، تاز اطلاع کے مطابق خودکش حملہ آور کی تصویر حاصل کرلی گئی ہے۔ داتا کی نگر ی پر ایک بار پھر دہشگردوں کا وار، بزدل دشمنوں نے پھر سکون اور امن تباہ کرنے کی گھناؤنی سازش کر ڈالی، داتا دربار گیٹ نمبر2 کے قریب کھڑی گاڑی میں دھماکہ ہوا،دھماکے میں ایلیٹ فورس کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، دھماکے میں ایلیٹ فورس کے5 اہلکار سمیت 10 افراد شہید ہوگئے ہیں،دھماکے میں24سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی،ایلیٹ فورس کی گاڑی مکمل تباہ ہوگئی ہے۔ذرائع کے مطابق ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ چکی ہیں، امدادی کارروائیاں جاری ہیں، دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو میوہسپتال منتقل کردیا گیا ہے، واقعہ کے فوراً بعد اطراف کے علاقوں میں سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی جبکہ میو اور جنرل ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے زائد عملے کو ڈیوٹی پر طلب کرلیا گیا، پولیس کے مطابق حملہ خودکش تھا، حملہ آور کاعضا فرانزک کیلئے بھیج دیئے گئے ہیں۔دوسری جانب پولیس نے ساڑھے 4 سال سے لاپتا بچی ثانیہ منور کو بازیاب کراکرعدالت میں پیش کردیا۔جسٹس نعمت اللہ پھپلوٹو اور جسٹس کے کے آغا پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو لاپتا بچوں کی بازیابی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ پولیس نے ساڑھے 4 سال سے لاپتا بچی ثانیہ منور کو بازیاب کراکر عدالت میں پیش کردیا۔ڈی آئی جی سی آئی اے عارف حنیف نے بتایا کہ بچی ایک گھر میں ملازمت کرتی تھی، تشدد کی وجہ سے وہ گھر چھوڑ کر چلی گئی، بچی کو حارث آفتاب نامی شخص کراچی سے شیخو پورہ ساتھ لے گیا، گمشدگی کی خبریں نشر ہونے پر حارث آفتاب بچی کو شیخو پورہ میں رشتہ دار کے پاس چھوڑگیا، جن لوگوں نے بچی پر تشدد کیا اور جو ساتھ لے گئے ان کا چالان کررہے ہیں۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پولیس کی گھڑی گھڑائی اسٹوری ناقابل یقین ہے، عدالتی حکم کے بعد پولیس نے کم از کم ایک بچی تو بازیاب کرائی۔ عدالت نے دیگر لاپتا 16 بچوں کو فوری بازیاب کرانے کا حکم دیتے ہوئے پولیس سے 29 مئی تک مزید بچوں کی بازیابی سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔

تازہ ترین خبریں