04:33 pm
پورے ملک میں کارروائی کی دھمکی  ہدایات جاری کر دی گئیں

پورے ملک میں کارروائی کی دھمکی ہدایات جاری کر دی گئیں

04:33 pm

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) پشاور میں افسوسناک واقعہ پیش آگیا ہے جہاں پر ایک حکومتی وزیر پر حملہ ہو گیا ہے شدید ہاتھا پائی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں ۔ تصادم میں کئی افراد کے زخمی ہوجانے کی خبریں ہیں ۔تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخواہ کی وزارت صحت کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان اور ڈاکٹر نوشیروان برکی پر پشاور کے خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے دورے کے موقع پر ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے حملہ کیا گیا۔ جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق پشاور کے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں وزیر صحت اور ینگ ڈاکٹرز کے درمیان شدید ہاتھا
پائی ہوئی جس کے دوران کئی افراد زخمی ہوگئے۔ وزیراعلی خیبر پختوانخوا محمود خان نے واقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ اس واقعے کے بعد دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر تشدد کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان اور ڈاکٹر نوشیروان برکی پشاور کے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں مریضوں کو دی گئی سہولیات کو جانچنے کے لیے منگل کے روز دورے پر پہنچے تھے۔اس موقع پر ینگ ڈاکٹرز نے پہلے ڈاکٹر نوشروان برقی پر حملہ کیا اور پھر جب وزیر صحت خیبر پختونخوا ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان معاملات کو کنٹرول کرنے کے لئے ینگ ڈاکٹرز کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے تو تب کچھ مشتعل ینگ ڈاکٹرز نے وزیر صحت پر بھی حملہ کر دیا۔ اس حملے میں وزیر صحت خیبر پختونخوا ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان زخمی ہوگئے اور ہسپتال کے گارڈز نے وزیر صحت کو بمشکل بچایا۔ ڈاکٹر ہشام کا کہنا ہےکہ اس واقعہ پر انہیں بہت دکھ اور افسوس ہوا ہے۔ چند ڈاکٹرز حضرات اس مقدس شعبے کو بد نام کر رہے ہیں۔ خود بھی ڈاکٹر ہوں ڈاکٹروں کے لئے برا کیسے سوچ سکتا ہوں ۔ ڈاکٹر ہشام نے کہا کہ وزارت آنی جانی چیز ہے کل میں نے بھی ان ڈاکٹر کے ساتھ ہی بیٹھنا ہے، لہذا یہ ڈاکٹرز سیاست کی بجائے عوام کی خدمت کریں۔ دوسری جانب ینگ ڈاکٹر نے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے اپنے گارڈز کے ذریعے ڈاکٹرز پر تشدد کرایا۔ ینگ ڈاکٹرز نے اس واقعے کو بنیاد بناتے ہوئے پورے ملک میں ردعمل دینے کی دھمکی دی ہے۔