06:17 am
غریب عوام  کیلئے بڑی خوشخبری آہی گئی

غریب عوام کیلئے بڑی خوشخبری آہی گئی

06:17 am

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی مشیرخزانہ حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف معاہدے کے اثرات کمزور طبقات پر نہیں پڑنے دیں گے، بجلی اور گیس کے75فیصد صارفین کیلئے 216ارب سبسڈی رکھی گئی ہے، آئی ایم ایف معاہدے سے پاکستان کی معیشت مستحکم ہو گی۔ وفاقی مشیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ نے وزیرمملکت برائے ریونیوحماد اظہر، معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان ، چیئرمین ایف بی آر شرزیدی کے ہمراہ میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم کا فیصلہ کیا ہے۔ کابینہ نے ایمنسٹی اسکیم کے مختلف نکات کی منظوری دی ہے۔
اسکیم کا مطلب ڈرانا دھمکانہ نہیں بلکہ بزنس کیلئے حوصلہ افزائی کرنا ہے۔اسکیم کی ریونیو جمع کرنے کیلئے نہیں بلکہ معیشت کی بہتری کیلئے منظوری دی گئی ہے۔ کوشش ہے اسکیم بہت آسان ہو، کابینہ آج اسکیم کے مختلف نکات کی منظوری دی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسکیم بہت آسان ہے تاکہ لوگوں کو سمجھنے میں مشکلات پیش نہ آئیں۔ اسکیم کے تحت 30جون تک اثاثے ظاہر کیے جاسکیں گے۔اسکیم کے تحت پاکستان کے اندر اورباہر تمام اثاثے ظاہر کیے جاسکیں گے۔انہوں نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ کے علاوہ تمام اثاثوں پر چار فیصد ٹیکس ادا کرناہوگا۔4فیصد ٹیکس دے کراثاثے ظاہر کیے جاسکتے ہیں، حکومتی عہدہ رکھنے والیاور ان کے اہلخانہ بھی اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔اثاثے ظاہر کرنے کیلئے شرط یہ ہے کہ وہ کسی بینک اکاؤنٹ میں رکھے جائیں۔ حفیظ شیخ نے کہا کہ ظاہر کیے گئے اثاثے پاکستان لانا لازمی ہوں گے۔ جو شخص پاکستان میں اپنے اثاثے نہیں لانا چاہتا ، اس کو 6فیصد دینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول کا معاہد ہوا ہے، ابھی آئی ایم ایف بورڈ نے منظوری دینی ہے۔یہ تمام چیزیں پاکستان کے مفاد میں ہے۔آئی ایم ایف معاہدے سے معیشت مستحکم ہوگی۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کو خدشہ ہے کہ ہمارے لیے قیمتیں بڑھ جائیں گی، لیکن ہم نے تین چار فیصلے کیے ہیں، پہلی یہ کہ اگر بجلی کی قیمت بڑھتی ہے ، تو 300یونٹ والے صارفین پر اثر نہیں پڑنے دیں گے، 216ارب بجٹ سبسڈی کیلئے رکھے گئے ہیں،اس سے 75فیصد صارفین کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے بجٹ کو 180ارب کردیا گیا ہے ۔ گیس کی قیمت بڑھے گی تو بھی کمزور طبقات پر منفی اثرات نہیں پڑیں گے۔اسی طرح قومی اہمیت کے پراجیکٹ کو متاثر نہیں ہونے دیں گے۔رواں سال ترقیاتی پروگرام کا بجٹ 800ارب تک ہوسکتا ہے۔حفیظ شیخ نے کہا کہ بے نامی لاء کے اندر بہت بڑی مشکل ہے۔شبر زید ی کے اوپر ہے کہ وہ کس طرح ایف بی آر کو لے کرچلتے ہیں ۔ لیکن اگر پیسے والے لوگ بلیک منی رکھیں گے، اور ٹیکس بھی نہ دیں توان کیخلاف ایکشن ہونا چاہیے۔بے نامی پراپرٹی سفید نہیں کی جاتی تو ضبط کرلی جائے گی۔ پیسے والے لوگ اگر اثاثے ظاہر نہیں کریں گے توسزائیں دی جائیں گی۔انہوں نے کہاکہ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ ایمنسٹی اسکیم آخری موقع ہے۔انہو ں نے کہا کہ 28ممالک میں ڈیڑھ لاکھ بینک کاؤنٹس سے متعلق تفصیلات اکٹھی کی ہیں۔ بے نامی اکاؤنٹس ظاہر نہ کرنے پر جیل بھی ہوسکتی ہے۔اس سے قبل وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں ایمنسٹی اسکیم اورپی ٹی ڈی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹر ز کی تشکیل کی منظوری دے دی گئی ہے۔اجلاس میں کراچی اور کوئٹہ کی خصوصی عدالتوں کے ججز کی تعیناتی اورانفارمیشن کمیشن کے ارکان کے تنخواہ پیکج کی منظوری دی گئی ہے۔ اسی طرح انسداد منشیات کیلئے عطیہ چینی سامان پر ڈیوٹی چھوٹ منظور کرلی گئی ہے۔ اجلاس میں اوورسیز پاکستانی قیدیوں کوقونصلر رسائی کی پالیسی اورپی آئی اے کے ایئریل ورک اور چارٹرڈ لائسنسوں کی تجدید کی منظوری دی گئی ہے۔