07:15 am
مساجد کے امام و خطیب کا کم از کم تنخواہ 25 ہزار روپے مقرر کرنے کا مطالبہ

مساجد کے امام و خطیب کا کم از کم تنخواہ 25 ہزار روپے مقرر کرنے کا مطالبہ

07:15 am

لاہور (نیوز ڈیسک) پنجاب کی مساجد کے امام، مؤذن اور خطیب نے اپنی کم از کم تنخواہ 25 ہزار روپے مقرر کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اس حوالے سے پنجاب میں مساجد کے امام ، خطیب اور مفتیان نے اپنے حقوق کے حوالے سے شرعی اعلامیہ جاری کیا اور مطالبہ کیا کہ آئندہ بجٹ میں مساجد کے امام و خطیب کی کم از کم تنخواہ 25ہزار روپے مقرر کی جائے۔اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ مؤذن کی کم ازکم تنخواہ 20 جبکہ خادم کی تنخواہ 18 ہزار روپے مقرر کی جائے۔ حکومت امام وخطیب اور موذن کو ان کی قابلیت کے مطابق گریڈ 12 سے 20 تک تنخواہ ،مراعات دی جائیں۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ خیبرپختونخواہ میں 30 ہزارمساجد کے آئمہ کی طرز پر باقی صوبوں میں بھی آئمہ کو وظائف دیئے جائیں
۔حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ جب پہلے خلیفہ بنے تو آپؓ کا وظیفہ مقرر کیا گیا۔حکومت غیر سرکاری مساجد کی انتظامیہ کو آئمہ، خطیب اور مؤذن کی تنخواہ مقرر کرنے کی پابند کرے۔ مولانا ضیاءالحق نقشبندی نے کہا کہ امام ،خطیب اور مؤذن 24 گھنٹے خدمات سر انجام دیتے ہیں مگرانہیں 8 سے 15 ہزار روپے تک تنخواہ دی جاتی ہے۔ حکومت کو چاہئیے کہ ان کی تنخواہ میں اضافہ کرے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل مساجد کے آئمہ کے حق میں وفاقی وزیر فواد چودھری نے بھی مطالبہ کیا تھا۔وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے امام مساجد کو نوکریاں دینے کی تجویز پیش کی تھی۔ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں وفاقی وزیر فواد چودھری کا کہنا تھا کہ امام مساجد کو گریڈ 14 سے 16 تک سرکاری نوکریاں دی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ امام مساجد کو نوکریاں دینے سے ڈسپلن بھی آئے گا۔ ایسا کرنے سے مخصوص ٹولے کی اجارہ داری بھی ختم ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں وزرائے اعلیٰ کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔

تازہ ترین خبریں