01:36 pm
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کا خدشہ ۔۔ پاکستان میں میدان میں آگیا

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کا خدشہ ۔۔ پاکستان میں میدان میں آگیا

01:36 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کا خدشہ ۔۔ پاکستان میں میدان میں آگیا ، ایسا اعلان کر دیا کہ دوست ہی نہیں دشمن بھی عش عش کر اٹھے ۔۔ پاکستان نے امریکہ اور ایران کی کشیدہ صورتحال کو علاقائی امن کیلئے تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ چھوٹی سی غلطی کسی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے،امریکہ اور ایران گفتگو اور بات چیت سے معاملہ حل کریں ،امریکہ سے پاکستانیوں کا ڈیپورٹ ہونا دو طرفہ تعلقات کے ایجنڈے کا حصہ ہے،پاکستان کا مؤقف واضح ہے تصدیقی عمل کے بعد ہی کسی کو واپس لیا جا سکتا ہے،
پاکستان سمجھوتہ ایکسپریس کے معاملے کو مسلسل ہر فورم پر اٹھا رہا ہے،پاکستان بھارت کیساتھ بھی دہشتگردی سمیت ہر مسئلے پر بات کرنے کو تیار ہے،بھارت خود ہی شک کی صورتحال کا شکار ہے،بھارت کیساتھ مرکزی مسئلہ کشمیر ہے، باقی مسائل پر بات چیت تو ہوتی رہی ہے ،کشمیریوں کے خون کی قیمت کوئی ادانہیں کر سکتا ۔ جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بھارتی قابض فوج نے مقبوضہ کشمیر میں مذید 5 کشمیریوں کو شہید کر دیاہے ۔انہوںن کہاکہ وادی میں تمام تعلیمی اداروں کو بند کر دیا گیا ،صدارتی رول کے تحت کشمیر کی صورتحال نہایت خراب ہے۔ انہوںنے کہاکہ سینئر حریت لیڈرز کی حراست کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ کشمیری آزادی کی داستان اپنے خون سے لکھ رہے ہیں،انکے خون کی قیمت کوئی ادا نہیں کر سکتا۔ انہوںنے کہاکہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے ٹوٹل 3500 قیدیوں کو رہا کیا جا رہا ہے جس میں سے 572 پاکستانی قیدی ہیں۔انہوںنے بتایاکہ ابوظہبی 262 اجمان 65 فوجیرہ 62 شارجہ 52 پاکستانی قیدی ہیں۔انہوںنے کہاکہ وزیر خارجہ بشکک میں ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس میں 21 مئی کو شرکت کریں گے ،ایس سی او معاشی استحکام اور تعاون کے فروغ کیلئے اہم فورم ہے۔ انہوںن کہاکہ وزیراعظم سربراہ اجلاس میں 13 اور 14 جون کو متوقع طور پر شرکت کریں گے۔انہوںنے کہاکہ ایران اور امریکہ کی کشیدہ صورتحال علاقائی امن کیلئے تشویشناک ہے۔ انہوںنے کہاکہ چھوٹی سی غلطی کسی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ ترجمان نے کہاکہ پاکستان سمجھوتہ ایکسپریس کے معاملے کو مسلسل ہر فورم پر اٹھا رہا ہے،بھارت کیساتھ بھی اس معاملے پر شدید احتجاج کیا ہے۔ ترجمان نے کہاکہ اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا کہ اقراری مجرم کو رہا کر دیا گیا ہے۔ ترجمان نے کہاکہ پاکستان اپنی حفاظت کیلئے تیار ہے،پاکستان بھارت کیساتھ بھی دہشتگردی سمیت ہر مسئلے پر بات کرنے کو تیار ہے۔ ترجمان نے کہاکہ بھارت خود ہی شک کی صورتحال کا شکار ہے،بھارت کیساتھ مرکزی مسئلہ کشمیر ہے،باقی مسائل پر بات چیت تو ہوتی رہی ہے۔ ترجمان نے کہاکہ امریکہ سے پاکستانیوں کا ڈیپورٹ ہونا دو طرفہ تعلقات کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ تصدیقی عمل کے بعد ہی کسی کو واپس لیا جا سکتا ہے۔ ترجمان نے بتایاکہ 50پاکستانی امریکہ سے ڈیپورٹ ہوئے،ڈیپورٹ ہونے والوں کو چارٹرڈ طیارے کے ذریعے پاکستان لایا گیا۔ انہوںنے کہاکہ امریکہ اور ایران گفتگو اور بات چیت سے معاملہ حل کریں۔

تازہ ترین خبریں