09:29 am
 عید کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کی چھٹی

عید کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کی چھٹی

09:29 am

لاہور(نیوز ڈیسک)نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئےسینئرصحافی و تجزیہ کارہارون الرشید نے کہا کہ میری اطلاع یہ ہے کہ عید کے بعد پنجاب میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ لیکن ابھی یہ سو فیصد کنفرم نہیں ہے۔ پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے، لاہور، سیالکوٹ، گوجرانوالہ ، گجرات میں بہت ساری صنعت ہے۔ زراعت اور آبادی کی اکثریت بھی یہیں ہے ۔جب تک پنجاب کو ایک مستعد اور متحرک وزیراعلیٰ نہیں دیا جائے گا پنجاب ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سردار عثمان بزدار کو بدلنا ہو گا اور اس کے لیے جواز پیش کرنا افسوسناک ہے۔
دلائل میں ان کو وسیم اکرم کہا جاتا ہے لیکن وسیم اکرم جیسا باؤلر تو ڈیڑھ سو سال میں بھی نظر نہیں آتا۔ تھپکی دینے اور پراپیگنڈہ کرنے سے تو کسی میں صلاحیت نہیں آتی۔صلاحیت تو لرننگ ہے، جو لوگ کوئی چیز سیکھنا چاہتے ہیں وہ بیس ، بائیس سال میں اپنا راستہ چُن لیتے ہیں۔ ہر آدمی کو اپنی صلاحیتوں کو پہنچاننا ہوتا ہے۔ عربی کی بھی مثال ہے کہ ہر کام کے لیے مخصوص لوگ ہوتے ہیں۔ ہر آدمی کو اللہ نے ایک صلاحیت دی ہوتی ہے، اُسی کو اگر وہ شناخت کر لے اور پروان چڑھائے لیکن سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ انسان کو اپنی حدود اور اپنی خامیوں کا دراک کرنا چاہئیے۔ہارون الرشید نے کہا کہ مجھے شروع شروع میں عمران خان صاحب کہتے تھے کہ مجھے اپنی حدود کا ادراک ہے۔ لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ انہیں سیاست میں اپنی حدود کا ادراک نہیں ہے حالانکہ شوکت خانم بناتے ہوئے انہیں اپنی حدود کا ادراک تھا۔ میں اُس وقت ان کے ساتھ موجود تھا جب شوکت خانم بن رہا تھا لیکن وہ کام مکمل نہیں ہو سکا۔ کنسٹرکشن کمپنی بھاگ گئی۔کوئی سایہ نہیں تھا، تپتے ہوئے پہاڑ تھا، جس پر عمران خان نے حفیظ اللہ کے سپرد یہ معاملہ کیا جس نے ایسے ٹھیکیدار ڈھونڈے جنہوں نے بغیر منافع کے وہ عمارت تعمیر کی۔ لوگوں نے عطیات دئے، عمران خان کے والد اور ان دوستوں نے ملا کر چالیس لاکھ روپیہ دیا۔ آرکیٹیکٹ نے کہا کہ میں کوئی فیس نہیں لوں گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ مجھے رات کوعمران خان نے فون کیا اور کہا کہ پیسے ختم ہو گئے ہیں صبح کاام بند ہو جائے گا لیکن پھر بھی کوئی نہ کوئی اللہ کا بندہ پیسے دے دیتا تھا، کیونکہ عمران خان کو اپنی حدود کا ادراک تھا۔

تازہ ترین خبریں