03:01 pm
کچن گارڈننگ کے اصول

کچن گارڈننگ کے اصول

03:01 pm

کچن گارڈننگ گھریلو پیمانے پر سبزیاں اگانے کو کہتے ہیں۔ گھریلو پیمانہ پر سبزیاں اگانے کے تین بڑے فائدے ہیں۔ پہلا فائدہ آلودگی سے پاک سبزیاں پیدا کرنا ہے۔ دوسرا گھریلو بجٹ پر دباؤ کم کرنا اور تیسرا فائدہ یہ ہے کہ سبزیاں جب چاہیں برداشت کر لینا۔ کچن گارڈننگ کے اصول مندرجہ ذیل ہیں۔ براہ راست دھوپ: پودے اپنی خوراک خود پیدا کرتے ہیں اور خوراک بننے کے عمل کی تکمیل کے لیے جن عوامل کی

 ضرورت پڑتی ہے، ان میں پانی، کاربن ڈائی آکسائیڈ، کلوروفل اور براہ راست دھوپ شامل ہیں۔ ان عوامل میں سے ایک کی کمی بھی اس عمل کو ناکام کر دیتی ہے۔ پودے پر براہ راست دھوپ پڑنے سے یہ عمل تیز ہو جاتا ہے۔ اسی لیے سایہ دار جگہ پر سبزیوں کی پیداوار بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ سبزیوں کو ایسی جگہ کاشت کیا جائے جہاں پر کم از کم چھ تا آٹھ گھنٹے براہ راست دھوپ پڑے۔ زمین کا انتخاب:سبزیوں کے لیے انتہائی زرخیز میرا زمین جس میں نکاسی آب بہترین ہو، موزوں ترین مانی جاتی ہے۔ میرا زمین میں ریت، بھل اور چکنی مٹی کی متناسب مقداریں پائی جاتی ہیں۔ میرا زمین میں عمومی طور پر ریت 30 سے 50 فیصد، بھل 30 سے 50 فیصد اور چکنی مٹی 20 فیصد سے کم پائی جاتی ہے۔ ’’پی ایچ‘‘ زمین کی تیزابیت یا شورزدگی ماپنے کا پیمانہ ہے۔ پی ایچ 7 کی حامل زمین نارمل ہوتی ہے جو کاشت کاری کے لیے انتہائی موزوں سمجھی جاتی ہے، سوائے ان فصلوں کے جو کچھ شورزدہ یا کچھ تیزابی اثر رکھنے والی زمینوں میں بہتر پیداوار کی حامل ہوتی ہیں۔ ان سبزیوں کی تعداد خاصی قلیل ہے۔ اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اگر کنٹینرز میں سبزیاں کاشت کرنی ہوں تو فالتوں پانی کے نکاس کے لیے ان میں سوراخ رکھنے ضروری ہیں۔ گھر کے قریب: اس بات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ کچن گارڈن گھر کے قریب ہونا چاہیے تاکہ اس کی دیکھ بھال اچھی طرح سے کی جا سکے جس میں آب پاشی، جڑی بوٹیوں اور کیڑے مکوڑوں کی تلفی کے علاوہ پودوں کی خوراک کی ضروریات کو بہتر طریقہ سے پورا کیا جا سکے۔ اگر یہ گارڈن گھر سے علیحدہ جگہ پر بنایا گیا ہے تو اس سے حاصل ہونے والے بقیہ فوائد بھی نہ مل سکیں گے۔ ان میں سرفہرست ماحول میں تازگی کا احساس ہے۔ موزوں آب پاشی: کچن گارڈننگ میں آب پاشی اہم کردار ادا کرتی ہے کیونکہ پودے بھی زندہ مخلوق ہیں اور ان کو بھی پانی کی طلب ہوتی ہے اور اگر پانی کی رسد مناسب نہ ہو تو ان کی بڑھوتری ممکن نہ ہے۔ گھروں میں سبزیوں کو پانی تو دیا جاتا ہے مگر اکثر گھروں میں اگائی ہوئی سبزیوں کی بڑھوتری خاصی کم ہوتی ہے اور پودے مرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس کی چند وجوہات ہیں جن میں غیر موزوں پانی، پانی کی زیادتی یا کمی، پانی بروقت نہ دینا وغیرہ شامل ہیں۔ پانی کی کمی یا زیادتی کو تو آسانی سے حل کیا جا سکتا ہے مگر ناموزوں پانی کا حل خاصا مشکل اور مہنگا کام ہے۔ گھریلو پیمانے پر سبزیاں اگانے کے لیے نہری پانی کو موزوں ترین مانا جاتا ہے لیکن اگر یہ میسر نہ ہو تو کم از کم پینے والے پانی سے آب پاشی کرنی چاہیے۔ بارش ہونے کی صورت میں آب پاشی کا وقفہ ایک سے دو ہفتہ تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ کورا پڑنے کی صورت میں پودوں کو شام کے وقت تھوڑی مقدار میں آب پاشی کر دینی چاہیے۔ آب پاشی نہ کرنے کی صورت میں پودوں کے خلیوں میں موجود پانی نقطۂ انجماد کی وجہ سے جم جاتا ہے اور ان میں ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے اور اس طرح پودے مر جاتے ہیں۔ اسی طرح زیادہ گرمی پڑنے کی صورت میں آب پاشی کو بڑھایا جا سکتا ہے، یعنی ہفتہ کی بجائے پانی پانچ دن بعد۔ گملوں میں کاشت کی گئی سبزیوں کو دن میں دو بار تک پانی لگایا جا سکتا ہے۔ بالخصوص جب یہ گملے براہ راست دھوپ میں رکھے گئے ہوں۔ ہوا کا عمل دخل:سبزیاں ایسی جگہ کاشت کریں جہاں ہوا کا گزر بآسانی ہو کیونکہ پودوں کو سرد اور گرم حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہوا کا گزر اہم کردار ادا کرتا ہے، بالخصوص گرمیوں میں پودوں کا درجہ حرارت کم ہو جاتا ہے۔ سردیوں میں ہوا کا گزر پودوں کو سخت سردی کے نقصانات سے بچاتا ہے اور یہ مختلف طرح کے ’’شاک‘‘ سے بھی بچ جاتے ہیں۔ دیواروں کے قریب ہوا کا عمل دخل بہت کم ہو جاتا ہے لہٰذا چار دیواری میں کچن گارڈن کا درجہ حرارت گرمیوں میں خاصا زیادہ اور سردیوں میں خاصا کم ہو جاتا ہے جس سے پودوں کی بڑھوتری رک جاتی ہے اور اگر یہ صورت حال چند دن تک رہ جائے پودے مر جاتے ہیں۔

 

تازہ ترین خبریں