08:52 am
موبائل فونز کے استعمال سے دنیا کی 45 فیصد آبادی کم خوابی کا شکار

موبائل فونز کے استعمال سے دنیا کی 45 فیصد آبادی کم خوابی کا شکار

08:52 am

اسلام آباد(نیو زڈیسک) کبھی کہا جاتا تھا کہ جو سویا وہ کھویا لیکن جدید تحقیق کے مطابق پرسکون نیند انسان کی دماغی اور جسمانی نشوونما کیلئے نہایت ضروری ہے۔ مکمل نیند سے جسم چاک و چوبند تو انسان بہت سی بیماریوں سے بھی بچا رہتا ہے۔موبائل فونز ، ٹیبلٹس اور چوبیس گھنٹے ٹی وی، سکرین کے سامنے رہنے کی لت نے بچوں اور بڑوں کو نیند بھلا دی۔ دنیا کی پینتالیس فیصد آبادی، کم خوابی کا شکار ہو گئی ہے جس کے سبب انسانی صحت کو سنگین خطرات لاحق اور
معمولات زندگی بُری طرح متاثر ہو چکے۔طبی ماہرین کےمطابق تین سے پانچ سال تک عمر میں ، 11 سے 13 گھنٹے نیند ضروری ہے۔ پانچ سے بارہ سال کےبچوں کو روزانہ گیارہ گھنٹے، 12 سے 18 سال کے ٹین ایجرز کو نو، دس گھنٹے سونا چاہیئے، جوان اور بوڑھے بھی آٹھ گھنٹے آرام کریں۔ کم خوابی دماغ اور جسم کو بیمار کرتی ہے ، ٹیکنالوجی کا استعمال اس کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ نیند پوری نہ کرنے والے افراد، ذہنی دباؤ اور ڈیپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ امراض قلب، شوگر اور موٹاپا بھی اسی کا نتیجہ ہے۔ایک تحقیق کے مطابق کم خوابی سے تخلیقی صلاحیت میں چالیس سے پینتالیس فیصد کمی آتی ہے اور ایسے افراد زندگی کے میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں ۔قدیم محاورا ہے کہ وقت پر سونا، صحت دولت اور عقلمندی کی ضمانت ہے، سبھی کو چاہیئے کہ رات کو سکون کی نیند سوئیں تا کہ ٹینشن اور بیماریوں سےمحفوظ رہیں اور دن بھر پھرتی سے کام کر سکیں ۔