08:17 am
کچھ کپ ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں چائے پینا آپ کو سنگین بیماریوں میں مبتلا کرسکتا ہے

کچھ کپ ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں چائے پینا آپ کو سنگین بیماریوں میں مبتلا کرسکتا ہے

08:17 am

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)دفتر پہنچ کر آپ پہلا کام کیا کرتے ہیں ؟ اکثر افراد کو تو چائے یا کافی کی طلب ستانے لگتی ہے اور وہ ان گرم مشروبات کو نوش کرکے دن کا آغاز کرتے ہیں۔تاہم اگر ایسا کرتے ہیں تو ایک بار پھر سوچ لیں کیونکہ یہ کوئی زیادہ اچھی عادت نہیں۔یہ دعویٰ ایک نئی امریکی طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔ایریزونا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دفاتر میں موجود جو کپ یا مگ چائے
اور کافی پینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، ان میں سے لگ بھگ 90 فیصد بیمار کردینے والے جراثیموں سے بھرے ہوتے ہیں اور بیس فیصد میں تو انسانی فضلہ بھی ہوتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ کپ یا مگ کو دھونے کے لیے استعمال ہونے والا اسفنج دفاتر میں بہت کم تبدیل ہوتا ہے اور اس میں موجود جراثیم اور انسانی فضلے کے اجزاءبرتنوں میں منتقل ہوجاتے ہیں۔ان کپوں میں ای کولی نامی جراثیم ہوسکتا ہے جو کہ ہیضے، قے، معدے میں درد اور بخار کا باعث بن سکتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ دفاتر میں کچن کی ناقص صفائی اور مشروبات کی تیاری کا عمل مختلف امراض کو پھیلانے کا باعث بن سکتا ہے۔محققین نے تو انتباہ کیا ہے کہ بدترین حالات میں گردے فیل ہونے کا خطرہ بھی ہوسکتا ہے تاہم اس کا سامنا بہت کم افراد کو ہوتا ہے۔انہوں نے مشورہ دیا کہ لوگ دفاتر میں اپنا کپ خود لے کر آئیں اور واپس بھی لے جائیں اور اسے اچھی طرح دھوئیں یا دفاتر میں صفائی کے معیار کو بہتر بنائیں۔تحقیقی ٹیم نے دفتری کپوں میں پانچ سو سے زائد جراثیم دریافت کیے جو کہ انسانی جلد، ناک، منہ اور انتڑیوں سے وہاں منتقل ہوئے۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل ڈیری، فوڈ اینڈ انوائرمنٹل سینی ٹیشن میں شائع ہوئے۔

تازہ ترین خبریں