08:18 am
دودھ پلانے والی مائیں ان غذائوں سے اجتناب کریںنہیں تو خود سمیت بچے کیلئے بھی خطرے کا باعث بن سکتی ہیں

دودھ پلانے والی مائیں ان غذائوں سے اجتناب کریںنہیں تو خود سمیت بچے کیلئے بھی خطرے کا باعث بن سکتی ہیں

08:18 am

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بچوں کو اگر آپ اپنا دودھ پلا رہی ہیں تو آپ کو اس بات کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ آپ جو چند چیزیں کھا رہی ہیں ان سے آپ کا بچہ متاثر ہوسکتا ہے۔دودھ پلانے والی ماں کی خوراک بچے کے لیے بہت ہی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ دودھ پلانے والی ماں کو چاہیے کہ وہ باقاعدگی کے ساتھ کھانا کھاتی رہیں اور صحت بخش خوراک کا استعمال کریں تاکہ نہ صرف بچے کی تمام تر غذائی ضروریات بھرپور انداز میں پوری کی جاسکیں بلکہ انہیں دودھ کی کمی کا سامنا بھی نہ ہو۔چند موقعوں پر ایسا بھی دیکھا گیا ہے
کہ مائیں جب مخصوص اقسام کی خوراک کا استعمال کرتی ہیں تو بچوں کو بدمزاجی اور گیس کی شکایت ہوجاتی ہے۔ اگر آپ کو لگے کہ آپ کے بچے کے ساتھ بھی ایسا ہی ہورہا ہے تو بہتر یہی ہے کہ ان مخصوص کھانوں سے کچھ عرصے کے لیے پرہیز کریں۔اس تحریر میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ دودھ پلانے والی ماؤں کو کھانے کی کن چیزوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔1 چاکلیٹ:چاکلیٹ تھیوبرومائن (theobromine) سے بھرپور ہوتا ہے اور جب اسے کھایا جائے تو اس کا ویسا ہی اثر ہوتا ہے جیسا کیفین کھانے پر ہوتا ہے۔ اگر آپ یہ پائیں کہ چاکلیٹ کھانے کی وجہ سے بچہ چڑچڑے پن کا شکار ہورہا ہے تو چاکلیٹ کا استعمال محدود کردیں۔ اگر ایک ماں دن میں 750 ملی گرام سے زائد تھیوبرومائن استعمال کرتی ہو اور اسے نیند سے متعلق مسائل کا بھی سامنا ہو تو بچے کے رویے میں بدمزاجی اور چڑچڑا پن دیکھا جاسکتا ہے۔2 کافی:کافی میں کیفین کی ایک بڑی مقدار شامل ہوتی ہے اور کیفین کی تھوڑی بہت مقدار ماں کے دودھ میں بھی شامل ہوسکتی ہے۔ ان کے جسم میں کیفین کی حد سے زیادہ موجودگی سے نیند کی کمی، بدمزاجی اور چڑچڑے پن کی شکایت ہوسکتی ہے۔کیفین نہ تو بچے ہضم کرپاتے ہیں نہ ہی بالغ افراد۔ کیفین کی بڑی مقدار سے دودھ میں آئرن کی سطح کم ہوسکتی ہے اور یوں بچے کے ہیموگلوبن کی سطح میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔3 ترش پھل یا سٹرک فروٹس:ترش پھل وٹامن سی کا ایک سب سے زبردست ذریعہ ہیں، لیکن ان میں شامل ایسیڈک اجزا بچے کا پیٹ متاثر کرسکتے ہیں۔ بچوں کا معدہ اور آنتوں میں نظامِ انہضام ابھی ناپختہ ہوتا ہے، اور ان ایسیڈ اجزا سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، لہٰذا اس کے نتیجے میں بچے میں بدمزاجی، ڈائپر ریشز، دودھ کی الٹی و دیگر مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔مگر اس بات کا مقصد یہ نہیں کہ آپ کو اپنی خوراک میں ترش پھل کا بالکل بھی استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ دن میں ایک گریپ فروٹ یا نارنجی کھائی جاسکتی ہے۔ لیکن اگر آپ ان کھٹے پھلوں کو بالکل بھی استعمال نہیں کرنا چاہتے تو آپ کو چاہیے کہ پپیتے، آم اور انناس جیسے وٹامن سی سے بھرپور پھلوں کا انتخاب کریں۔4 پودینہ:پودینے کا بہت زیادہ استعمال ماں کے دودھ میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی لیے جب آپ اس قسم کی جڑی بوٹی کا استعمال کریں تو دودھ کی مقدار کا جائزہ لیں، خاص طور پر تب، جب آپ کے بچے کو دودھ کی معمول سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ جب بچے ٹھوس غذا کھانا شروع کردیتے ہیں تب دودھ بننے کے عمل کو روکنے کے لیے اکثر مائیں پودینے سے بنا قہوہ استعمال کرتی ہیں۔5 مونگ پھلی:جب تک آپ کا بچہ ٹھوس غذا کھانا شروع نہ کردے تب تک مونگ پھلی کھانے سے اجتناب کریں، خاص طور پر اگر آپ کے اہل خانہ میں مونگ پھلی سے ہونے والی الرجی کی شکایت رہی ہو۔مونگ پھلی کی الرجی کا باعث بننے والے پروٹین ماں کے دودھ میں شامل ہوکر بچے کے جسم میں داخل ہوجاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے بچوں کو سانس میں خرخراہٹ، جلد پر پھنسیوں یا ریشز کی شکایت ہوسکتی ہے۔ حتیٰ کہ چند مونگ پھلیاں بھی کھانے سے الرجی کا باعث بننے والے پروٹین ایک سے 6 گھنٹوں کے اندر دودھ میں شامل ہوسکتے ہیں۔6 لہسن:لہسن کی بُو ماں کے دودھ کی بُو کو متاثر کرسکتی ہے۔ چند بچوں کو یہ بُو پسند ہوتی ہے تو چند کو ناپسند۔ لہٰذا دودھ پلاتے وقت بچے میں بے سکونی کی وجہ لہسن بھی ہوسکتی ہے۔ چند بچے چھاتی پر اپنا منہ لانے پر جب لہسن کی تیز بُو محسوس کرتے ہیں تو وہ بدمزاجی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں یا پھر اپنے چہرے کے ذریعے ناگواری کا اظہار بھی کرسکتے ہیں۔7 ڈیری مصنوعات:چند بچوں کو گائے کے دودھ سے الرجی ہوتی ہے۔ جب ماں گائے کا دودھ پیتی ہے یا ڈیری مصنوعات کھاتی ہے تو دودھ میں شامل ہونے والے الرجنز (الرجی کا باعث بننے والی شے) سے بچے کی پُرسکون طبیعت میں خلل پڑسکتا ہے۔ اگر ڈیری مصنوعات کے استعمال کے بعد بچے کو پیٹ درد اور الٹی ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو کچھ عرصے کے لیے ان مصنوعات کو بند کردینا چاہیے۔ دیگر علامات میں جلد کے مسائل، ایگزیما اور نیند کے مسائل شامل ہیں۔8 مصالحہ جات:چند بچے مصالحے والے کھانوں سے پریشان ہوجاتے ہیں، جبکہ دیگر بچوں کو اس سے زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ لیکن چند بچوں کے لیے تو کالی مرچ کی معمولی مقدار بھی پریشانی کا سبب بن سکتی ہے، اور ایسے بچے لمبے وقت تک چڑچڑاپن محسوس کرسکتے ہیں۔ لہٰذا اگر آپ یہ پائیں کہ مصالحوں کے زیادہ استعمال سے آپ کے بچے کی طبعیت متاثر ہوتی ہے تو اس کا بہتر حل یہی ہے کہ اپنے کھانوں میں مصالحوں کا استعمال کم سے کم کردیں۔9 مکئی:چند بہت ہی چھوٹے اور ایک سے 3 برس کی عمر کے بچوں کو مکئی سے الرجی ہوتی ہے۔ مکئی کی الرجی بچوں میں بے چینی اور ریشز کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ لہٰذا اگر آپ اپنے بچوں کو مکئی کے استعمال سے متاثر ہوتا پائیں تو مکئی کو اپنی روزمرہ کی خوراک سے نکال دیں۔

تازہ ترین خبریں