08:35 am
تھیٹر کے ذریعہ خواتین کی نئی شبیہ سازی

تھیٹر کے ذریعہ خواتین کی نئی شبیہ سازی

08:35 am

اسلام آباد(نیو زڈیسک)امریکی تھیٹر گروپ اسٹیج پر اپنے ڈرامے کے ذریعے خواتین سے متعلق روایتی طرزِ فکر کو للکارنے میں مصروف ۔شکاگو ،ایلی نوائے میں سرگرم آرٹی میسیا تھیٹر کی مہم کو سمجھنے کی کوشش میں یہ جان لینے سے بڑی مدد ملتی ہے کہ اس کمپنی کو یہ نام کیسے ملا؟آرٹی میسیا کی بانی آرٹسٹک ڈائرکٹر جولی پراؤڈفوٹ نے بتایا ’’آر ٹی میسیا جِنٹالشی ایک بروک پینٹر تھیں جن کی حیثیت ۱۹۷۰کی دہائی تک

 گمنام سی تھی۔اس سے پہلے ان کی مصوری کو مردوں سے منسوب کیا جاتا رہا۔ انہوں نے اپنی تصویروں میں خواتین کو طاقتور اور بعض اوقات پُر تشدد انداز میں پیش کیا۔ مگر کسی کو یہ گمان تک نہ گزرا کہ کوئی عورت اپنی مصوری میں یہ رویہ اختیار کر سکتی ہے۔ ‘‘ پراؤڈفوٹ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہماری مہم کی سرسری سی تصویر ایسی ہی ہے۔ اپنی پیشکش کے ذریعہ ہم اپنے ناظرین کی عورت سے متعلق ذہنیت کوللکارنا کرنا چاہتے ہیں ۔ہم عورتوں کے بارے میں ناظرین کے ان خیالات کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں کہ خواتین کیا ہیں ،کیا کرسکتی ہیں اور کیا نہیں کرسکتی ہیں ۔ آرٹی میسیا ۲۰۱۱ میں قائم کیا گیا تھا۔ دو برسوں میں اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ۔ پراؤڈ فوٹ نے کہا ’’ہم ایسے ڈرامے تلاش کرتے ہیں جن میں سلیقے سے لکھے گئے ، خواتین کے مرکزی کردار ہوں۔اس طور پر ہم خواتین کے بارے میں اپنے ناظرین کے طرز فکرپر اعتراض کرنے کی مہم کی تکمیل کرتے ہیں۔ ہم ایسے ۵ یا ۶ ڈرامے چنتے ہیں جو ہمارے لئے بہترین ہوں۔ اسٹیج پراسے پڑھتے ہیں اور ناظرین کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ پھراس بات کا انتخاب خود ناظرین کرتے ہیں کہ ان میں سے کس ڈرامے کو ہم مکمل طور پر پیش کریں۔ ناظرین ہی اس کا فیصلہ کرتے ہیں کہ کو ن سا ڈرامہ ان کے تناظرپر سب سے زیادہ معترض ہوتاہے۔ آر ٹی میسیا کے ناظرین نے ۲۰۱۳ کے موسم خزاں میں پیش کرنے کے لئے جس ڈرامے کا انتخاب کیاہے وہ رَوس ٹِڈ فورٹ کینڈل کا لکھا ہوا تیکھا ڈرامہ ’’گیمبٹ‘‘ ہے جس میں امریکہ کی ایک طاقت ور خاتون وکیل اور ان کی بھانجی کی کہانی پیش کی گئی ہے۔ پراؤڈ فوٹ نے بتایا ’’اس ڈرامے کی خالہ ایک ا کیلی عورت ہے جس نے اپنی پوری زندگی اپنے پیشے کے لئے وقف کردی۔جب کہ بھانجی ناقابل یقین حد تک ذہین مگر باغی اورغیر مستحکم لڑکی ہے۔اس ڈرامے میں ایک مقام پر دونوں خالہ بھانجی اسٹیج پر بہت اونچے مقام پر شطرنج کھیلتی ہیں جس کے دوران بھانجی کے مستقبل پر بحث بھی جاری رہتی ہے ۔ اس بحث کے دوران قانون کے سماجی اورسیاسی نکات سامنے آتے ہیں۔اس بحث کی نوعیت ایک شدید جذباتی مڈ بھیڑ کی سی ہے۔‘‘ اس ڈرامے کے ریڈنگ سیشن کے خاتمے پر پراؤڈ فوٹ اور ان کے رفقا نے ناظرین سے پوچھا کہ کیا واقعی ان کے خیالات اس ڈرامے سے متزلزل ہوئے ۔ جواب بڑے پیمانے پر ’’ہاں‘‘میں ملا۔ پراؤڈ فوٹ نے بتایا ’’ناظرین، نوجوان خواتین سے اس قسم کے رد عمل کے عادی نہیں تھے۔وہ ایسی کہانیوں سے واقف بھی نہیں تھے جن میں عورتوں کو طاقتور امریکی اٹارنی یا شطرنج کی ماہر کھلاڑی کے طور دکھایا جاتا ہے۔ اس لئے ڈرامے نے اپنا کام کیا۔ ‘‘آرٹی میسیاکی خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ اپنی فنکارانہ مہارت سے ناظرین کو خواتین کے بارے میں دقیانو سی سوالات کرنے پر مجبورنہیں کرتا۔ ’واشنگٹن ویمن ان تھیٹر‘خواتین کی موسیقی اور تھیٹر کے منصوبوں کو فروغ دینے کے لئے کام کرنے والی ایسی تنظیم ہے جو ’’خواتین کے نقطہ نظر سے سیاسی، سماجی اور تاریخی امور کا جائزہ لیتی ہے۔‘‘ یہ واشنگٹن کی سیاسی آب و ہوا سے مطابقت پیدا کرتے ہوئے اپنے تخلیقی عمل کو جاری رکھتی ہے۔ واشنگٹن ڈی سی کی ایک اور تنظیم ’بلیک ویمن پلے رائٹس گروپ‘ ایسے ڈرامے اسٹیج کرنے میں مددکرتی ہے جس میں ایسے لمحات پر توجہ مرکوز کی جاتی ہو جن میں خواتین سے متعلق ناظرین کے مفروضات حقیقت سے کافی بعید معلوم ہوتے ہوں۔اس گروپ کی بانی اور صدر کَیرن ایوِنس نے بتایا ’’میرے ڈرامہ نویس ممبران ایسے نازک لمحوں کے بارے میں لکھتے ہیں جب بدقسمتی سے کسی نہ کسی بنا پرلڑکیوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے یا ان کے ساتھ مختلف قسم کا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ یہ بڑے شرم کی بات ہے کہ موجودہ نسل کی نوجوان خواتین اکثر اس کا اندازہ ہی نہیں کرپاتیں کہ کب ان کوناقابل توجہ سمجھا جانے لگتا ہے۔میرے گروپ کے لوگ اپنے ڈراموں میں اسی چیز کو پکڑتے اور پیش کرتے ہیں۔‘‘ کَیرن ایوِنس کے لئے ایسے لمحات کوقلمبند کرنا اور اسٹیج پر پیش کرنا ، خواہ وہ کیسے ہی الم ناک کیوں نہ نظر آئیں،ایک ایسا کام ہے جو حقیقی زندگی میں نوجوان خواتین کی مدد کرتا ہے۔ کَیرن ہنستے ہوئے کہتی ہیں ’’ہم لوگوں نے اسکولوں میں ڈھیر سارا کام کیا ہے اور کمسن بچوں کو یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ایک موثر ہیروئن کا کردار لکھنا ذہن ودل کو بہت روشن کرتاہے۔ یہ ایک جد و جہد ہوسکتی ہے کیوں کہ ایساضروری نہیں کہ یہ فطری میلانِ طبع کا نتیجہ ہو۔ جب میں کسی طالب علم سے یہ کہتی ہوں کہ اس کے ڈرامے میں نسوانی کردار کو آگے بڑھنا ہوگا اور ذمہ داری اپنے ہاتھ میں لینی ہوگی تو طالب علم کے لئے وہی لمحہ ادراک والا ہوتا ہے جس میں اس طالب علم ،خواہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی،کا دماغ روشن ہو جاتا ہے اور وہ اس نکتے کو سمجھتا ہے۔ اسی طور پر شاید آپ بھی ڈرامہ دیکھتے وقت مذکورہ کیفیات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ ‘‘ جوشخص تھیٹر کے ذریعہ خواتین کے بارے میں پہلے سے متعین کی گئی رائے کے خلاف آواز بلند کرنا چاہتا ہے اس کے لئے کَیرن کااصرارہے کہ وہ لکھے۔ وہ کہتی ہیں کہ جو کچھ آپ کی سمجھ میں آئے،لکھیں ۔خواہ وہ ڈرامہ ہو یا شاعری ۔ ہاں اس کا خیا ل ضرور رکھیں کہ آپ کی تحریر میں ایک طاقتور بیانیہ ہو۔ اسے خود ہی پیش بھی کریں ،اگر آپ بہت شرمیلے نہیں ہیں۔ چرچ میں،اسکول میں، یاکمیونٹی سینٹر میں، کہیں بھی۔ کیونکہ کوئی شخص آپ سے نہیں کہے گا کہ آپ اسے اپنا ڈرامہ پیش کرنے دیں ۔ مواد تیار کیجئے،خواہ کسی ہےئت میں ہو۔ اگر ا س میں طاقت ور بیانیہ ہے تو آپ اسے خودپیش کرسکتے ہیں ۔تو دیر کس بات کی۔ اسے عوام کے سامنے لائیں اورپھر مشاہدہ کریں کہ کیا ہوتا ہے۔‘‘

تازہ ترین خبریں