08:40 am
سندھی تھیٹر کی بحالی: 'اب وہ پینے والے کہاں جو پورا مٹکا پی جاتے تھے

سندھی تھیٹر کی بحالی: 'اب وہ پینے والے کہاں جو پورا مٹکا پی جاتے تھے

08:40 am

اسلام آباد(نیو زڈیسک)میخانہ سجا ہے، تازہ کشید کی گئی شراب کے مٹکے تیار ہیں۔ روایتی سندھی لباس پہنے ہوئے ایک حسینہ 'رندوں کی منتظر ہے، اس حسینہ سے اس کی والدہ کہتی ہے کہ 'اب وہ پینے والے کہاں جو پورا مٹکا پی جاتے تھے۔ یہ مناظر سندھی سٹیج ڈرامہ 'موکھی اور متارا کے ہیں۔ تاریخی حوالوں کے مطابق سندھ کے رومانوی داستان 'مومل رانو کا کردار کنیز ناتر موجودہ کراچی منتقل ہوگئی جہاں انھوں نے میخانہ قائم کیا

 اور موکھی ان کی حسین و جمیل بیٹی تھی۔ کراچی آرٹس کونسل میں جاری سندھ ڈرامہ فیسٹیول میں موکھی اور متارا ڈرامہ پیش کیا گیا، جس میں موکھی کا کردار عائشہ مہک نے ادا کیا، جن کا تعلق سندھ کے علاقے جیکب آباد سے ہے وہ گذشتہ 16 برسوں سے تھیئٹر سے وابستہ ہیں۔ عائشہ مہک سندھ کے کئی شہروں میں پرفارم کر چکی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ 'سٹیج پر ہم دل کھول کر پرفارم کرتے ہیں ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ ہم کیسے پرفارم کر رہے ہیں اور وہیں سے ہمیں دادا مل جاتی ہے، تالیاں بجتی ہیں اور فن کا انعام وصول ہوجاتا ہے۔ گلی میں ڈرامہ، تہہ خانے میں ڈی جے سندھ میں سٹیج تھیٹر کی روایت پرانی ہے، ہندو کمیونٹی اپنے تہواروں پر مذہبی ناٹک پیش کرتی تھی، سنسکرت کے علاوہ پارسی اور گجراتی ڈرامے سٹیج کیے جاتے تھے۔ منظم سٹیج تھیٹر کی ابتدا سنہ 1880 سے ہوئی اور مرزا قلیچ بیگ نے پہلا سندھی سٹیج ڈرامہ 'موہنی تحریر کیا جو ہندو مسلم یکہجتی پر مبنی تھا۔ کراچی کا دیا رام جیٹھ مل سندھ کالج یعنی ڈی جے سائنس کالج ڈرامہ سوسائٹی کا مرکز رہا، کراچی اور حیدرآباد میں نوبل انعام یافتہ رابندر ناتھ ٹیگور کے نام سے ڈرامہ کلب بھی قائم ہوئے جن کا افتتاح خود ٹیگور نے کیا۔

تازہ ترین خبریں