08:43 am
سندھی سٹیج ڈرامہ

سندھی سٹیج ڈرامہ

08:43 am

اسلام آباد(نیو زڈیسک)سندھی ادب کے استاد ڈاکٹر قاسم راجپر کا کہنا ہے کہ ڈی جے کالج کے سامنے واقع میٹھا رام ہاسٹل جو اب رینجرز کے زیر استعمال ہے وہاں پر سندھی ڈرامہ سٹیج ہوتا تھا، وہاں سے جو آمدنی ہوتی تھی اور مخیر حضرات جو پیسے دیتے تھے اس سے ہی میٹھارام ہاسٹل کو تعمیر کیا گیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد ہندو کمیونٹی کی شہروں سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی سے سندھی ڈرامہ شدید متاثر ہوا کیونکہ پرفارمنگ

 آرٹ، ادب اور صحافت پر ان کی گرفت تھی۔ سندھی ادب کے استاد ڈاکٹر قاسم راجپر کا کہنا ہے کہ 1951 میں حیدرآباد میں ریڈیو پاکستان کے سٹیشن کے قیام کے بعد سندھی ڈرامے کی بحالی ہوئی اور جب 1970 میں پاکستان ٹیلیویژن پر سندھی شعبہ قائم ہوا تو دوبارہ معیاری سٹیج کا زوال آیا۔ اس کے علاوہ سندھی فلمیں بھی کمرشل اور مار دھاڑ کے موضوعات پر بننے لگیں۔ اس کا اثر ڈرامے پر بھی ہوا جو کلاسیکل ڈرامہ تھا وہ معدوم ہوتا چلا گیا۔ اسی دوران جب جنرل ضیاالحق کی مارشل لا کا دور آیا تو جہاں دیگر اظہار رائے کے فورم متاثر ہوئے وہاں اس شعبے میں بھی کافی فرق آيا۔ کراچی کے علاوہ حیدرآباد، خیرپور اور لاڑکانہ میں بھی آرٹس کونسل قائم کی گئی ہیں یہ ادارے بھی سٹیج ڈراموں کو پروموٹ کر رہے ہیں ان اداروں کی حکومت سندھ معاونت کر رہی ہے۔ سٹیج ڈراموں کے ڈائریکٹر رفیع عیسانی کا کہنا ہے کہ کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ اور خیرپور میں تو تھیٹر اچھی طرح جا رہا ہے لیکن جب چھوٹے شہروں میں جاتے ہیں تو تھوڑے وقت میں لوگ جمع ہوجاتے ہیں ان شہروں میں ضلعی آڈیٹوریم موجود ہیں۔

تازہ ترین خبریں