08:46 am
سٹیج ڈرامہ بغیر سرپرستی اور معاونت کے ممکن نہیں

سٹیج ڈرامہ بغیر سرپرستی اور معاونت کے ممکن نہیں

08:46 am

سٹیج ڈرامہ بغیر سرپرستی اور معاونت کے ممکن نہیں۔ رفیع عیسانی کا کہنا ہے کہ کسی بھی سٹیج ڈرامہ پر کم از کم ایک لاکھ روپے لگ جاتے ہیں جس میں عام طور پر آڈیٹوریم، لائٹس، میک اپ، لباس اور اداکاروں کا معاوضہ شامل ہے۔ 'چھوٹے شہروں میں پروگرام کرنا آسان نہیں ہوتا بڑی محنت کرنی پڑتی ہے، لوگوں کے پاس جانا پڑتا ہے، ضلعی انتظامیہ کی مدد درکار ہوتی ہے، صاحب حیثیت لوگ یا فن سے

 محبت کرنے والے جو لوگ ہیں ان سے ملنا پڑتا ہے۔سٹیج پر نظر آنے والے اداکار اکثر ریڈیو اور ٹی وی پر بھی کام کرتے ہیں کوئی بھی اداکار کل وقتی سٹیج سے وابستہ نہیں جبکہ کچھ لوگ شوقیہ طور بھی اس طرف آجاتے ہیں۔ حسین قادری نے 1973 میں سٹیج پر پہلی بار پرفارم کیا جس کے بعد ریڈیو اور ٹی وی کے علاوہ وہ سندھی فلموں میں بھی کام کرچکے ہیں۔ ان کے مطابق سٹیج کبھی کبھار ہوتا ہے وہ بھی شوقیہ۔ انھوں نے کہا: 'ایک فنکار کے اندر خواہش ہوتی ہے کہ میں سٹیج پر آؤں مگر تھیٹر کل وقتی روزگار فراہم نہیں کرتا، یہ اپنی مدد آپ کے تحت ہوتا ہے اسی لیے اس میں ساؤنڈ سسٹم نہیں ہوتا۔حکومت روایتی میلوں، موسیقی کی محفلوں اور ڈرامہ فیسٹیول کے ذریعے شدت پسندی کے مقابلے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، لیکن حکومتی پالیسیاں اور ان کی ترجیحات تبدیل ہوتی رہتی ہیں جو اس قسم کی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

تازہ ترین خبریں